عدالت نے سوشل میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کے حوالے سے بھی پیش رفت رپورٹ طلب کی ہے۔
کم عمر بچے اکبر خان شنواری کی والد کے ذریعے دائر درخواست پر تحریری حکم جاری کیا گیا۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے دو صفحات پر مشتمل حکم نامہ جاری کیا۔ عدالت نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی، پی ٹی اے اور پیمرا کو پیرا وائز کمنٹس جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔
حکم نامے کے مطابق سوشل میڈیا ریگولیشن، مانیٹرنگ اور پیکا کی حالیہ ترامیم پر عمل درآمد کی رپورٹ پیش کی جائے، جبکہ کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کے حوالے سے بنایا گیا ریگولیٹری فریم ورک اور عمر کے جائزے کے میکنزم کے اقدامات سے بھی آگاہ کیا جائے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے بچوں کے تحفظ کے حوالے سے آئینی مینڈیٹ پر بھی آگاہ کرنے کا حکم دیا۔ عدالت کے مطابق بچوں کو آن لائن نقصانات کے اثرات سے تحفظ فراہم کرنا اہمیت کا حامل ہے، جبکہ بغیر ریگولیشن سوشل میڈیا کا استعمال بچوں کے لیے خطرناک ہے۔
عدالت نے کہا کہ بغیر ریگولیشن بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے ذہنی مرض اور پرائیویسی کی خلاف ورزی کے ایشوز بھی ہیں۔
درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق دنیا بھر میں قوانین بنے ہیں۔