نجی ٹی وی سے گفتگو میں ناصر جمشید نے کہا کہ قید کے دوران شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھا اور کئی بار خودکشی کا سوچا تاہم اہلیہ نے جان بچائی۔ جیل میں اہلیہ بیٹی کی تصاویر بھیجتی تھیں جس سے جینے کا حوصلہ ملتا تھا، ان کا کہنا تھا کہ بیوی اور بیٹی کی خاطر جینے کا فیصلہ کیا۔
ناصر جمشید نے کہا کہ اپنی غلطیوں پر شدید ندامت ہے اور اس کی بھاری قیمت بھی چکا رہا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر درست قانونی مشورہ ملتا تو ممکن ہے سزا کم ہو جاتی اور پابندی بھی ختم ہوچکی ہوتی۔
انہوں نے بتایا کہ برمنگھم کے ایک شیشہ کیفے میں ریکارڈ کی گئی گفتگو جب عدالت میں چلائی گئی تو انہوں نے جرم قبول کرلیا۔ ناصر جمشید کے مطابق ان کے وکیل نے انہیں اعتراف جرم نہ کرنے اور کرکٹ بورڈ سے رابطے ختم کرنے کا مشورہ دیا تھا، جبکہ شاہد علی کی غلط رہنمائی نے بھی انہیں نقصان پہنچایا کیونکہ وہ صرف مالی فائدے میں دلچسپی رکھتا تھا۔
ناصر جمشید نے اعتراف کیا کہ یوسف انور کے ساتھ سازش میں شامل تھا اور انہی کے ذریعے یوسف انور کا رابطہ شرجیل خان اور خالد لطیف سے کروایا۔
سابق کرکٹر نے چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ سے اپیل کی کہ ان کی پابندی کا ایک سال باقی رہ گیا ہے، اسے معاف کردیا جائے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ان سے سنگین غلطی ہوئی اور نوجوان کھلاڑیوں کو نصیحت کی کہ وہ کبھی بدعنوانی کا راستہ اختیار نہ کریں۔
یاد رہے کہ مانچسٹر کراؤن کورٹ نے ناصر جمشید کو 17 ماہ قید کی سزا سنائی تھی جبکہ ان پر 10 سال کے لیے کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
نیشنل کرائم ایجنسی نے تحقیقات کے بعد ناصر جمشید کو اسپاٹ فکسنگ کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ ان پر بنگلادیش پریمیئر لیگ 2016 اور پاکستان سپر لیگ 2017 کے دوران اسپاٹ فکسنگ کی کوششوں کا الزام تھا۔
بی پی ایل میں ایک بلے باز کو رقم کے عوض اوور کی ابتدائی دو گیندوں پر رنز نہ بنانے پر آمادہ کیا گیا تھا۔ 2016 میں ناصر جمشید نے ایک خفیہ اہلکار کو بتایا تھا کہ بی پی ایل کے چھ کھلاڑی ان کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں اور فی میچ 30 ہزار پاؤنڈ کی رقم تقسیم کی جاتی رہی۔
ابتدائی طور پر پی ایس ایل میں رشوت کے الزامات کی تردید کے باوجود بعد ازاں انہوں نے عدالت میں اعتراف جرم کرلیا جس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان پر 10 سالہ پابندی عائد کردی۔