پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے گیارہویں سیزن میں نئی تاریخ رقم ہوگئی، جہاں لیگ میں پہلی بار کھلاڑیوں کا انتخاب اوپن آکشن سے کیا گی، جس کے بعد تمام فرنچائز کے اسکواڈ میں نئے کھلاڑی شامل ہو گئے۔ فاسٹ بولر نسیم شاہ نے لیگ کے سب سے مہنگے لوکل کھلاڑی اور ڈیرل مچل نے سب سے بیش قیمت غیر ملکی کھلاڑی کا اعزاز حاصل کرلیا لیکن اس بار کئی بڑے کھلاڑی نیلامی میں نہ بک سکے۔
بدھ کو لاہور کے ایکسپو سینٹر میں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پلیئرز آکشن کا انعقاد ہوا، جس میں 800 سے زائد ملکی و غیر ملکی کھلاڑی نیلامی کے لیے پیش ہوئے۔ ملتان سلطانز کی ٹیم اب نئے مالکان کے ساتھ ’راولپنڈی‘ کے نئے نام سے ایونٹ میں شریک ہوئی۔
چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی پلیئرز آکشن کی تقریب میں آمد پر تمام فرنچائز مالکان نے ان کا بھرپور استقبال کیا۔ محسن نقوی نے تمام فرنچائز مالکان کو قومی ٹیم کی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کی مارخور والی اسپیشل کسٹمائزڈ ٹی شرٹس بطور تحفہ پیش کیں۔
پی ایس ایل آکشن کے پہلے راؤنڈ میں سب سے پہلے پاکستانی آل راؤنڈر فہیم اشرف کو اسلام آباد یونائیٹڈ نے 8 کروڑ 50 لاکھ روپے میں حاصل کرلیا۔
عماد وسیم کے لیے بیس پرائس 4 کروڑ 20 لاکھ رکھی گئی تھی لیکن انہیں کسی نے نہ خریدا۔ اسی طرح حسین طلعت کی قیمت ایک کروڑ دس لاکھ روپے رکھی گئی لیکن وہ بھی بولی حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
ایک کروڑ 20 لاکھ روپے کی بیس پرائس کیٹگری میں محمد جنید، مہدی حسن میراز، آصف آفریدی، دانش عزیز، محمد ذیشان، کائل میئر، کولن منرو، محمد ریاض اللہ، عمیر بن آصف، سعود شکیل، کامران غلام اور جارج منسی کو خریدنے میں کسی فرنچائز نے دلچسپی ظاہر نہیں کی۔
آسٹریلیا کے ڈیوڈ وارنر کو کراچی کنگز نے 7 کروڑ 90 لاکھ روپے جب کہ جنوبی افریقا کے رائیلی روسو کو 5 کروڑ 55 لاکھ روپے میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے خرید لیا۔ پی ایس ایل میں نئی شامل ہونے والی ٹیم سیالکوٹ اسٹالینز نے جہانزیب سلطان کو 60 لاکھ روپے میں خریدا۔
پاکستان کے فاسٹ بولر محمد علی کو 2 کروڑ 15 لاکھ روپے میں نئی فرنچائز حیدرآباد نے خرید لیا جب کہ فاسٹ بولر حارث رؤف کو 7 کروڑ 60 لاکھ روپے لاہور قلندرز نے واپس حاصل کرلیا۔
انگلینڈ کے کرس جارڈن اور پاکستانی فاسٹ بولرز محمد حسنین اور رومان رئیس کو کسی فرنچائز نے خریدنے میں دلچسپی ظاہر نہیں کی۔
فاسٹ بولرنسیم شاہ سب سے مہنگے کھلاڑی فروخت ہوئے جنہیں راولپنڈی نے 8 کروڑ 65 لاکھ روپے میں اپنا حصہ بنایا، جو سب سے مہنگے لوکل کھلاڑی بن گئے۔ وکٹ کیپر بلے باز اعظم خان 3 کروڑ 25 لاکھ روپے میں کراچی کنگز کا حصہ بن گئے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے جارح مزاج آل راؤنڈر صاحبزادہ فرحان کو 5 کروڑ 70 لاکھ روپے میں سیالکوٹ اسٹالینز نے خرید لیا۔
بنگلادیش کے آف اسپنر رشاد حسین کو 3 کروڑ روپے میں راولپنڈی جب کہ پاکستان کے نوجوان اسپنر مہران ممتاز کو ایک کروڑ 25 لاکھ روپے اسلام آباد یونائیٹڈ نے حاصل کرلیا۔ پاکستان کے نوجوان اسپنر فیصل اکرم ایک کروڑ 25 لاکھ روپے میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا حصہ بن گئے۔
پاکستانی آل راؤنڈر عامر جمال کو ایک کروڑ 90 لاکھ روپے میں پشاور زلمی جب کہ ابھرتے ہوئے نوجوان اسپنر عرفات منہاس کو ایک کروڑ 10 لاکھ روپے میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے حاصل کرلیا۔ پاکستانی اسپنر اسامہ میر کو 3 کروڑ 50 لاکھ روپے میں لاہور قلندرز جب کہ آل راؤنڈر جہانداد خان کو 2 کروڑ 50 لاکھ روپے میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے خرید لیا۔
قومی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا کو 5 کروڑ 85 لاکھ روپے میں کراچی کنگز نے حاصل کرلیا۔ پاکستان کے جارح مزاج اوپنر فخر زمان کو 7 کروڑ 95 لاکھ روپے میں لاہور قلندرز نے واپس حاصل کرلیا۔
نیوزی لینڈ کے جارح مزاج مڈل آرڈر بلے باز ڈیرل مچل کو 8 کروڑ 5 لاکھ روپے میں راولپنڈی جب کہ آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے میکس برائنٹ کو ایک کروڑ 95 لاکھ روپے میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے خرید لیا۔ پاکستانی فاسٹ بولر خرم شہزاد کو 2 کروڑ 70 لاکھ روپے میں پشاور زلمی جب کہ محمد عامر کو 5 کروڑ 40 لاکھ روپے میں راولپنڈی نے حاصل کرلیا۔
پاکستان سے تعلق رکھنے والے نوجوان فاسٹ بولر عبید شاہ کو 2 کروڑ 70 لاکھ روپے میں لاہور قلندرز جب کہ کوشال پریرا کو 3 کروڑ 10 لاکھ روپے میں حیدرآباد نے خرید لیا۔ پاکستان کے جارح مزاج وکٹ کیپر بلے باز محمد حارث کو 2 کروڑ 20 لاکھ روپے میں پشاور زلمی نے واپس حاصل کرلیا جب کہ خواجہ نافع کو 6 کروڑ 50 لاکھ روپے میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے خرید لیا۔ اسی طرح پاکستان سے تعلق رکھنے والے وکٹ کیپر بلے باز حسیب اللہ خان کو ایک کروڑ 10 لاکھ روپے میں لاہور قلندرز نے حاصل کرلیا۔
کھانے کے وقفے کے بعد شروع ہونے والے دوسرے راؤنڈ میں جمی نیشم جیسے کیوی کھلاڑیوں اور پاکستانی مڈل آرڈر بلے باز افتخار احمد میں کسی ٹیم نے دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ پاکستان کے آل راؤنڈر شاہد عزیز کو 92 لاکھ 50 ہزار روپے میں کراچی کنگز جب کہ محمد عرفان خان نیازی کو 2 کروڑ 90 لاکھ روپے میں حیدرآباد کنگزمین نے حاصل کرلیا۔
قومی ٹیسٹ کپتان شان مسعود، حیدر علی، آصف علی اور شاہنواز دھانی میں کسی فرنچائز نے دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ بائیں ہاتھ کے بلے باز عبداللہ فضل 67 لاکھ 50 ہزار روپے میں راولپنڈی جب کہ کیوی بلے باز مارک چیپمین 7 کروڑ روپے میں اسلام آباد یونائیٹڈ کا حصہ بن گئے۔
آسٹریلوی بلے باز ایشٹن ٹرنر کو 4 کروڑ 20 لاکھ روپے میں سیالکوٹ اسٹالینز جب کہ محمد وسیم جونیئر کو 4 کروڑ 10 لاکھ روپے میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے حاصل کرلیا۔ پاکستانی فاسٹ بولر میر حمزہ کو 2 کروڑ 40 لاکھ روپے اور آسٹریلوی لیگ اسپنر ایڈم زیمپا کو 4 کروڑ 50 لاکھ روپے میں کراچی کنگز نے خرید لیا۔
سابق آسٹریلوی فاسٹ بولر پیٹر سیڈل کو 2 کروڑ 50 لاکھ روپے اور جنوبی افریقی اسپنر تبریز شمسی کو 2 کروڑ 20 لاکھ روپے میں سیالکوٹ اسٹالینز نے حاصل کرلیا۔ عماد بٹ کو ٹیم راولپنڈی نے 80 لاکھ روپے میں خرید لیا جب کہ وسیم اکرم جونیئر کو اسلام آباد جونیئر کو 77.5 لاکھ، میر حمزہ سجاد کو اسلام آباد یونائیٹڈ نے 70 لاکھ میں خرید لیا۔ حمزہ سہیل کو کراچی کنگز اور بسم اللہ خان کو کوئٹہ نے خرید لیا۔
خالد عثمان کو 60 لاکھ روپے میں پشاور زلمی نے خرید لیا۔ کراچی کنگز نے عاقب الیاس کو 60 لاکھ روپے میں خرید لیا۔ محمد فاروق کو لاہور قلندرز نے 60 لاکھ میں خرید لیا۔ سمیر منہاس کو 1.90 کروڑ روپے میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے خرید لیا۔ ثاقب خان کو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے 60 لاکھ روپے میں خرید لیا۔ ثمین گل کو اسلام آباد یونائیٹڈ نے 60 لاکھ روپے میں خرید لیا۔
حسن خان کو حیدرآباد گنگز مین نے 1 کروڑ 85 لاکھ میں خریدا جب کہ سیمیول ہارپر کو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے 60 لاکھ روپے میں خریدا۔ ویسٹ انڈیز کے شیمار جوزف کو اسلام آباد یونائیٹڈ نے 1 کروڑ 10 لاکھ میں اور بیون جیکبز کو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے 60 لاکھ روپے میں خریدا۔
لیکلان شا اور ڈیلانو پوٹگیئٹر کو سیالکوٹ اسٹیلینز نے 60، 60 لاکھ روپے میں خریدا۔ خزیمہ بن تنویر کو کراچی کنگز نے 90 لاکھ میں حاصل کیا۔ اوٹنیل بارٹمین کو 1 کروڑ 10 لاکھ اور حماد اعظم کو 60 لاکھ روپے میں حیدرآباد کنگزمین نے خریدا جب کہ شایان جہانگیر کو بھی حیدرآباد کنگزمین نے خریدا۔
مائیکل بریسویل اور کوشل مینڈس کو 4 کروڑ 20 لاکھ اور 4 کروڑ 20 لاکھ روپے میں پشاور زلمی نے خریدا۔ داسن شناکا کو 75 لاکھ میں لاہور قلندرز نے خریدا جب کہ اسلام آباد یونائیٹڈ نے رچرڈ گلیسن کو 1 کروڑ اور 10 لاکھ روپے میں حاصل کیا۔ اس کے علاوہ جانسن چارلس کو کراچی کنگز نے 2 کروڑ روپے جب کہ افتخار احمد کو پشاور زلمی نے 1 کروڑ 80 لاکھ روپے میں خریدا۔
جوش فلیپ اور شان مسعود کو سیالکوٹ اسٹیلینز نے 2 کروڑ 30 لاکھ اور 65 لاکھ بالترتیب میں جب کہ سعود شکیل کو 65 لاکھ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور ڈائن فاریسٹر کو ٹیم راولپنڈی نے 60 لاکھ روپے میں خریدا۔
محمد ناہید رانا کو پشاور زلمی نے 60 لاکھ روپے، پرویز حسین ایمان کو لاہور قلندرز نے 60 لاکھ روپے اور آصف آفریدی کو 2 کروڑ 40 لاکھ میں ٹیم راولپنڈی میں خریدا۔ آصف علی کو 60 لاکھ اور حسین طلعت کو 77 لاکھ 50 ہزار روپے میں لاہور قلندرز نے، حیدر علی کو 1 کروڑ 50 لاکھ میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے اور احسان اللہ کو کراچی کنگز نے 1 کروڑ 5 لاکھ روپے میں خریدا۔
کامران غلام کو ٹیم راولپنڈی نے 65 لاکھ روپے، محمد حسنین کو اسلام آباد یونائیٹڈ نے 77 لاکھ 50 ہزار روپے، شرجیل خان کو حیدرآباد کنگزمین نے 60 لاکھ روپے اور طیب طاہر کو لاہور قلندرز نے 60 لاکھ روپے میں خریدا۔ دپیندر سنگھ ایری کو اسلام آباد یونائیٹڈ نے 60 لاکھ روپے، آصف محمود اور حنین شاہ کو حیدرآباد کنگزمین نے 60، 60 لاکھ روپے، فواد علی اور محمد عامر خان کو 60، 60 لاکھ روپے میں ٹیم راولپنڈی نے اور مومن قمر کو 1 کروڑ 7 لاکھ اور 50 ہزار روپے میں خریدا۔
محمد اویس ظفر کو 60 لاکھ روپے میں سیالکوٹ اسٹیلینز نے، رضوان محمود کو 60 لاکھ روپے میں حیدرآباد کنگزمین نے، شاہزیب خان کو ٹیم راولپنڈی نے 60 لاکھ روپے میں اور ٹام کرن کو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے 4 کروڑ 20 لاکھ روپے میں خریدا۔
اسی طرح گوداکیش موتی کو 1 کروڑ 10 لاکھ میں لاہور قلندرز نے، مرزا طاہر بیگ کو پشاور زلمی نے 60 لاکھ روپے میں، سعد علی اور محمد طیب عارف کو حیدرآباد کنگزمین نے 60، 60 لاکھ روپے میں اور رضوان اللہ کو 60 لاکھ میں کراچی کنگز نے خریدا۔
واضح رہے کہ پی ایس ایل 11 کے پلیئرز آکشن میں 800 سے زائد ملکی و غیر ملکی کھلاڑی رجسٹرڈ ہیں، جس میں ٹیمیں آکشن کے ذریعے کم از کم 16 اور زیادہ سے زیادہ 21 کھلاڑیوں کا اسکواڈ بناسکیں گی۔ 16 رکنی اسکواڈ میں 5 غیر ملکی ہونا لازم ہے جب کہ 21 رکنی اسکواڈ میں 7 غیرملکی پلیئرز ہوسکتے ہیں اسکواڈ میں کم از کم دو انڈر 23 پلیئرز کی شمولیت لازمی ہے۔
ٹیموں کو اپنے اسکواڈ مکمل کرنے کے لیے 50 کروڑ 50 لاکھ روپے کا بجٹ حاصل ہوگا، ری ٹین اور ڈائریکٹ سائننگ کے معاوضے بھی بجٹ میں شامل ہوں گے۔