بابری مسجد پر یوگی آدتیہ ناتھ کا بڑا بیان، سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا

بھارت میں بابری مسجد کے معاملے پر ایک بار پھر سیاسی بیان بازی نے شدت اختیار کر لی ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بابری مسجد دوبارہ تعمیر نہیں ہونے دی جائے گی اور رام مندر کی تعمیر ان کے سیاسی وعدے کی تکمیل ہے۔

بھارتی جریدے انڈیا ٹوڈے کے مطابق یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ 1992 میں منہدم کی گئی بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دیرینہ مؤقف کا حصہ تھا، جسے پورا کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ دسمبر 1992 میں ایودھیا میں واقع تاریخی بابری مسجد کو انتہا پسند ہندوؤں کے ایک ہجوم نے شہید کر دیا تھا، جس کے بعد ملک بھر میں فسادات پھوٹ پڑے تھے۔ ان فسادات میں ہزاروں افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے، جن میں بڑی تعداد مسلمانوں کی تھی۔

ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کے حقوق، مذہبی آزادی اور عبادت گاہوں کے تحفظ کے حوالے سے خدشات مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) بھی اپنی رپورٹس میں بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر چکا ہے۔

حکومتی مؤقف کے مطابق بھارت ایک جمہوری ملک ہے جہاں تمام مذاہب کو آئینی حقوق حاصل ہیں، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ حالیہ بیانات اور واقعات سے معاشرتی تقسیم میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

Similar Posts