اس آتشی گولے کے گرنے سے یک دم حرارت بڑھ گئی۔ کالے گہرے دھویں میں اس کے شوہر کی آواز سنائی دی جو اپنے بیٹے سعد کو دیوانہ وار پکاررہا تھا جو باہر کسی کام سے گیا تھا۔ یاسمین اور اس کا شوہر اپنے لختِ جگر کو ڈھونڈتے رہے جو گویا دھواں ہوگیا تھا۔ ہر مسجد (جو اب غزہ میتوں کی شناخت کی جگہ بھی ہے)، میدان، ملبے اور مردہ خانے چھان مارے، لیکن سعد نہیں ملا۔
غزہ کے ایک اور والد نے بتایا کہ بم گرنے سے اس کے چار چھوٹے بچے غائب ہوگئے۔ اس نے ہزاروں مرتبہ ان مقامات کو دیکھا لیکن ان کے کوئی آثار نہ ملے!
10 فروری کو الجزیرہ کی تحقیقی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ خون آشام اسرائیل نے نہتے شہریوں پر ایسے درجنوں بم گرائے جنہیں تھرمل یا تھرموبیرک بم کہا جاتا ہے۔
ان میں امریکی عطا کردہ مشہور ایم کے 84 بم بھی شامل ہے جو گرتے ہی 300 میٹر دائرے میں 2500 سے 3000 درجے سینٹی گریڈ گرمی کی دوزخ بناتا ہے اور انسانی جلد، بافتیں اور ہڈیاں سیکنڈوں میں بخارات بن کرہوا میں تحلیل ہوجاتی ہیں۔ ایسے ہی ایک بم نے سعد کو نگل لیا تھا جس کی شدت نے اس کی دہکتی ہوئی روح بدن سے آزاد کردی تھی!
غزہ سول ڈیفنس کے مطابق ان کے علم میں ایسی 2842 اموات آئی ہیں جن میں مرنے والوں کی لاش کی باقیات اور ہڈیوں کے بجائے محض خون کے چند دھبے اور راکھ کے ٹکڑے ملے۔ عینی شاہدین کے مطابق ایک جگہ کسی خاندان نے بتایا کہ مرنے والے تین چار لوگوں کی لاشیں تو مل گئیں لیکن ایک یا دو افراد کے کوئی آثار نہ ملے تاہم وہ سب فنا کی گھاٹ اترچکے تھے۔
اسی تناظر میں ایک وائرل ویڈیو دیکھی جاسکتی ہے جس میں ایک فلسطینی باپ دھاتی چھلنی سے مٹی چھان کر اپنے اہلِ خانہ کی ہڈیاں چن کر ایک سفید کپڑے پر جمع کررہا ہے لیکن اسے دیکھ کر بھی ہمارا دل نہیں روتا، شاید اسد اللہ خان کے افسانے ’’کوفہ کا آخری آدمی‘‘ ہم ہی ہیں۔
دھماکا خیز مواد کے روسی ماہر، ویسلائی فیتی گورف کے مطابق تھرموبیرک بم ہرگز عام گولہ بارود نہیں بلکہ ممنوعہ ہتھیارہیں۔ ان میں موجود ٹی این ٹی، المونیئم اور ٹیٹانیئم پاؤڈر بھڑک کر آتشیں گولہ بناتے ہوئے اطراف کو پگھلا دیتے ہیں۔
آسمانی جہنم
واضح رہے کہ اسرائیل نے 900 کلوگرام وزنی ’ایم کے 84‘ بم کے علاوہ بی ایل یو 109 بنکر بسٹر اور جی بی یو 39 جیسے بموں کا بے رحمانہ استعمال کیا۔ اجل کے اس ’بم دستے‘ نے جگہ جگہ غزہ میں جزوقتی دوزخیں بنائیں، جہاں نہتے اور بے قصور مرد و زن و بچے بخارات بن کر غائب ہوتے رہے لیکن امریکی اور مغربی ہتھیاروں کی جانچ کےلیے انسانی کھال میسر ضرور آگئی۔
نسل کشی اور امن بورڈ
ذرا سوچئے کہ اسرائیل نے کون سا ایسا جنگی جرم نہیں کیا جو آپ کے ذہن میں آسکتا ہے۔ ایک اسنائپر نے 300 بے گناہ جوانوں اور بچوں کو نشانہ بنایا اور پھر گنتی چھوڑ دی۔ خیموں پر گولے، روٹیوں کی قطاروں پر بمباری، مساجد و اسپتالوں پر دستی بم حملے، فضائی حملوں میں ہزاروں ٹن وزنی بموں سے شہر کو تاراج کردیا۔ صحافیوں اور مددگاروں کو چن چن کر مارا، خوراک اور پانی بند کرکے ہزاروں افراد کو ہڈیوں کا ڈھانچہ بنادیا، جو تڑپ تڑپ کر رخصت ہوئے۔ اب غزہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔
غزہ کے 80 ہزار شہیدوں میں 20 ہزار بچے ہیں۔ کم ازکم ایک بازو یا ٹانگ سے محروم بچوں کا سب سے بڑا گڑھ اب غزہ ہے، جن کی تعداد دسیوں ہزاروں میں ہے۔ مائیں بچوں سے کہتی ہیں کہ جلد آپ کا ہاتھ یا پیر واپس آجائے گا لیکن یہ کہہ کر وہ منہ پھیر کر رونے لگتی ہیں۔ پھر وہ آسمان کی جانب سر اٹھا کر رونے لگتی ہیں۔ لیکن ان کی فریاد و فغاں پاکستانی شریفوں، عرب کے سیسیوں اور اماراتی شاہوں کے دل تک نہیں پہنچ پاتیں۔ کیا ان کے دل و دماغ بند ہیں، ہاں! لیکن واشنگٹن کے لیے ضرور کھلے ہیں۔
انہوں نے ایک مرتبہ بھی نہیں کہا کہ ’بس بہت ہوگیا‘، کبھی نہیں کہا کہ بچوں کو کیوں ماررہے ہو؟ کبھی نہیں سوچا کہ غزہ والے مدد کےلیے پکار رہے ہیں؟ کوئی احتجاج، کوئی واک آؤٹ، عالمی عدالتِ انصاف میں کوئی اپیل نہیں کی۔ صرف میرا اقتدار، میرا ملک، میری معیشت کا خیال کرتے ہوئے اپنا قبلہ سفید گھر کی جانب رکھا۔
کولمبیا یونیورسٹی کے جیفری شیز کی ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں نیتن یاہو کےلیے بہت بڑی گالی دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ نوے کی دہائی میں اس نے کہا کہ عراق قابو میں آجائے تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔ اور پھر عراق تاراج ہوا۔ پھر نیتن یاہو نے ایک دوسرے ملک کی دہائی دی۔ اب اسے ایرانی میزائل ستا رہے ہیں، جن کا فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے۔
اگرخدانخواستہ ایرانی دیوار گرگئی اور اگلے پانچ یا دس سال بعد کسی اور نیتن یاہو کو ایٹمی پاکستان یاد آگیا تو کیا کرو گے؟
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔