سینئر رہنما مسلم لیگ (ن) جاوید لطیف نے پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے فیملی اور ذاتی معالج کی ملاقات کروائی جانی چاہیے ، کسی کی زندگی سے کھیلنے کا کسی کو اختیار نہیں ہے، یہ کوئی جواز نہیں کہ کوئی بیمار ہو تو خوش ہوا جائے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو فوری طور پر بیرون ملک سے علاج کی اجازت دینی چاہیے، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ کہہ دینا کہ 15 فیصد بینائی رہ گئی ہے یہ بھی مناسب نہیں ہے۔
رہنما مسلم لیگ ن جاوید لطیف نے بانی پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موصوف خود لوگوں کی بیماری کا مذاق اُڑایا کرتے تھے، کل کو کسی پر بھی کوئی مشکل وقت آسکتا ہے، میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ بانی سے ملاقات کروانی چاہیے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم ہوں یا عام آدمی قانون سب کے لیے یکساں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بانی کو پہلے قید میں ایک دن میں 100 ، 100 لوگ تک ملتے رہے ہیں ۔ اس وقت یہ ریاست کیخلاف سپر پاور کو اُکساتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ میں کہتا ہوں کہ بانی پی ٹی آئی کو سہولت کاری ڈے ون سے تھی اور اب بھی ہے، پاکستان مخالف شخصیات کی موصوف کو سپورٹ حاصل رہی اور اب بھی حاصل ہے، امریکا کے جب ٹرمپ صدر بنے تو اس وقت کیا باتیں ہو رہی تھیں ؟، فارن فنڈنگ کیس میں کن کن ممالک سے پیسہ لیا ؟ کتنا لیا ؟ اور کیوں پیسہ لیا گیا ؟۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے سینئر رہنما مسلم لیگ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور نواز شریف کا کوئی موازنہ نہیں ہے، جب بانی اسٹیج سے گرے تھے تو نواز شریف نے جلسے ملتوی کر دیے تھے ۔ نواز شریف سے بنی گالہ کی روڈ بنانے کا کہا گیا اور وہ بن گئی۔