پولینڈ میں مسلح شخص کی اندھا دھند فائرنگ، 6 افراد ہلاک، 15 زخمی

یورپی ملک پولینڈ کے تاریخی شہر کراکو میں مسلح شخص کی فائرنگ سے 6 افراد ہلاک اور 15 زخمی ہوگئے۔

پولیس حکام کے مطابق حملہ آور نے شہر کے مشہور تاریخی علاقے اولڈ ٹاؤن کے مرکزی بازار اسکوائر میں مختلف مقامات پر گاڑی چلاتے ہوئے خودکار ہتھیار سے لوگوں پر فائرنگ کی۔ یہ واقعہ ہفتے کی سہ پہر تقریباً 3 بجے پیش آیا، جب سیاحوں اور مقامی شہریوں کی بڑی تعداد علاقے میں موجود تھی۔

پولینڈ کی وزارت داخلہ کے مطابق 25 سالہ ملزم انتہائی قوم پرستانہ اور دائیں بازو کے انتہا پسند نظریات سے متاثر تھا۔ وزیر داخلہ مارسن کیروِنسکی نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم کو انتہا پسند دائیں بازو کے نظریات سے گہری دلچسپی تھی۔

فوکس نیوز کے مطابق ملزم نے فوجی طرز کے کپڑے اور بلٹ پروف جیکٹ پہن رکھی تھی، جبکہ اس کے پاس فوجی نوعیت کا خودکار ہتھیار تھا۔ پولیس نے ملزم کی گاڑی سے مزید اسلحہ اور گولیاں بھی برآمد کیں۔ پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ملزم زخمی ہوا، جسے گرفتار کرکے اسپتال منتقل کردیا گیا، جہاں اس کی سرجری کی گئی۔

حکام کے مطابق فائرنگ سے چار خواتین اور دو مرد ہلاک ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک برطانوی شہری بھی شامل ہے، جبکہ زخمیوں میں برطانیہ، جرمنی، آسٹریا، پرتگال اور روس کے شہری بھی شامل ہیں۔ پولیس کے دو اہلکار بھی فائرنگ کے تبادلے میں زخمی ہوئے، جن میں سے ایک کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے۔

واقعے کے چند گھنٹے بعد پولیس نے ملزم کی رہائش گاہ پر تلاشی کے دوران دو خواتین اور ایک مرد کی لاشیں برآمد کیں۔ وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک کے مطابق ابتدائی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تینوں افراد ملزم کے قریبی اہل خانہ تھے۔ یہ مکان کراکوف سے تقریباً 150 کلومیٹر دور شہر اوسٹرووِک شوینتوکرژسکی میں واقع ہے۔ حکام نے ان ہلاکتوں کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کردی ہیں۔

پولینڈ کے وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک نے واقعے کو دہشت گردی کی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک نے اس سے پہلے اس نوعیت کی سنگین دہشت گردی کا سامنا نہیں کیا۔ وزیر دفاع ولادیسواف کوسینیاک کامیش نے بھی حملے کو کراکوف کے شہریوں کے خلاف دہشت گردانہ کارروائی قرار دیا۔

واقعے کے بعد کراکوف کے میئر نے بدھ تک شہر میں سرکاری سوگ کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس افسوس ناک واقعے کے باوجود شہر سیاحوں کے لیے کھلا رہے گا۔ دوسری جانب دارالحکومت وارسا میں بھی اہم شاہراہوں اور تاریخی مقامات پر سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

Related posts