کرکٹ کی دنیا کا سب سے بڑا مقابلے، ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان اور بھارت آج کولمبو میں آمنے سامنے آئیں گے۔ دونوں ٹیمیں گروپ اے میں مسلسل دو کامیابیوں کے ساتھ میدان میں اتریں گی۔ گراؤنڈ میں آج بادل گرجے برسیں گے یا پھر کھلاڑی؟ ہینڈ شیک ہوگا یا نہیں؟ کئی سارے سوالات دل میں لیے دنیا بھر کے شائقینِ کرکٹ پاک بھارت ٹاکرا دیکھنے کے منتظر ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ آج سری لنکا کے شہر کولمبو میں واقع پریما داسا اسٹیڈیم میں پاکستانی وقت کے مطابق شام ساڑھے بجے کھیلا جائے گا۔ لگ بھگ 35 ہزار شائقین اسٹیڈیم میں جب کہ دنیا بھر میں کروڑوں افراد ٹی وی پر یہ ہائی وولٹیج مقابلہ دیکھیں گے۔
بھارت اور پاکستان کے درمیان میچ کی حتمی تصدیق کے بعد کولمبو میں شائقین کی بڑی تعداد پہنچ گئی ہے، جس کے باعث ایئرلائنز کے ٹکٹوں اور مقامی ہوٹلوں کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے اعداد و شمار کے لحاظ سے دفاعی چیمپئن بھارت کو گرین شرٹس پر برتری حاصل ہے تاہم سابق کرکٹرز اور ماہرینِ کرکٹ کا کہنا ہے کہ پاک بھارت ٹاکرا وہ واحد میچ ہے جس میں اعصاب پر قابو رکھنے والا ہی فاتح ٹھہرتا ہے۔
سابق بھارتی کپتان روہت شرما نے پاک بھارت میچ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ’فیورٹ‘ کے لفظ پر کبھی یقین نہیں رکھتے، کیونکہ ٹی ٹوئنٹی ایک ایسا فارمیٹ ہے جہاں کسی بھی دن کوئی بھی ٹیم کسی کو بھی شکست دے سکتی ہے۔
بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو نے کولمبو میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے خلاف میچ ہمیشہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔
پاکستانی اسپنر عثمان طارق کے منفرد ایکشن سے متعلق سوال پر سوریا کمار یادیو کا کہنا تھا کہ جیسے امتحان میں ’آؤٹ آف سلیبس‘ سوال آ جائے تو ہمت نہیں ہارتے، ویسے ہی اس چیلنج کے لیے بھی تیاری کی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اوپنر ابھشیک شرما کی طبعیت اب کافی بہتر ہے اور پاکستان کے خلاف میچ میں ان کی شرکت کا امکان ہے۔
گزشتہ سال دبئی میں ایشیا کپ کے دوران پاکستان ٹیم سے ہاتھ نہ ملانے کے سوال پر بھارتی کپتان نے واضح جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ اس کا جواب وہ میچ کے بعد دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ 24 گھنٹے انتظار کریں، سب سے اہم چیز میچ کھیلنا ہے۔
دوسری جانب پاکستان ٹیم بھی بھارت کے خلاف میچ جیتنے کے لیے پُرعزم نظر آرہی ہے۔
قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان آغا نے کولمبو میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بڑا میچ ہے اور اس کی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے۔
کپتان سلمان آغا کا کہنا تھا کہ ٹیم اچھے مومنٹم میں ہے اور کولمبو میں پہلے سے موجود ہونے کا فائدہ کنڈیشنز کے لحاظ سے ہوگا، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ میچ جیتنے کے لیے اچھی کارکردگی دکھانا ہوگی۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس میچ میں اسپنرز اہم کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے عثمان طارق کو بھارت کی مضبوط بیٹنگ لائن کے خلاف اپنا ’ٹرمپ کارڈ‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ طارق عثمان کی منفرد سلنگ آرم ایکشن پر اٹھنے والے سوالات بے بنیاد ہیں کیونکہ انہیں دو مرتبہ کلیئر کیا جا چکا ہے۔
ٹی 20 ورلڈکپ میں بھارتی ٹیم کے اعداد و شمار کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ تاریخ کو تبدیل نہیں کا جاسکتا لیکن اس سے سیکھا ضرور جاتا ہے، ہم نے بھی سیکھا ہے اور کل ہم اچھی کارکردگی دکھا کر میچ جیتنے کی کوشش کریں گے۔
گزشتہ سال دبئی میں ایشیا کپ کے دوران ہاتھ نہ ملانے کے واقعے کے حوالے سے سلمان آغا نے امید ظاہر کی کہ یہ میچ کھیل کے حقیقی جذبے کے تحت ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ میں برسوں سے ہاتھ ملانا روایت کا حصہ ہے، تاہم حتمی صورتحال کل ہی معلوم ہوگی۔
یہ میچ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ گزشتہ چند روز سے کرکٹ کے حلقوں میں مسلسل زیرِ بحث رہنے والی دو شخصیات آئی سی سی کے چیئرمین جے شاہ اور پی سی بی چیئرمین محسن نقوی بھی میدان میں میچ دیکھتے ہوئے نظر آئیں گے۔
ذرائع کے مطابق محسن نقوی پاک بھارت میچ سے قبل قومی اسکواڈ سے ملاقات کریں گے اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی بھی کریں گے۔
یہ میچ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب پاکستان کی جانب سے میچ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم پاکستان نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) سے مذاکرات اور دوست ممالک کی درخواست پر آخری لمحات میں یہ فیصلہ واپس لے لیا۔
جہاں کھلاڑی اور مداح پرجوش ہیں وہیں موسم کی صورتحال تھوڑی پریشان کن ہے کیونکہ محکمہ موسمیات نے بارش کی پیش گوئی کی ہے جو کھیل کے دوران رنگ میں بھنگ ڈال سکتی ہے۔
پاکستانی ٹیم کی مینجمنٹ نے اس اہم میچ کے لیے سر جوڑ لیے ہیں اور ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیم میں دو اہم تبدیلیوں کا امکان ہے۔
بھارت کے خلاف بیٹنگ لائن کو مضبوط بنانے کے لیے فخر زمان اور نوجوان بلے باز خواجہ نافع کو پلیئنگ الیون میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق اسکواڈ میں تبدیلی کی صورت میں ممکنہ طور پر خواجہ نافع اور فخر زمان کو پلیئنگ الیون میں شامل کیا جاسکا ہے۔
ان تبدیلیوں سے قبل متوقع پاکستانی ٹیم میں صائم ایوب، بابر اعظم، سلمان مرزا، سلمان علی آغا (کپتان)، شاداب خان، محمد نواز، صاحبزادہ فرحان (وکٹ کیپر)، فہیم اشرف، شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ (پیسر) اور ابرار احمد شامل تھے۔
دوسری جانب متوقع ہندوستانی ٹیم میں ایشان کشن (وکٹ کیپر)، سنجو سیمسن یا ابھیشیک شرما، سوریہ کمار یادو (کپتان)، تلک ورما، ہاردک پانڈیا، رنکو سنگھ، اکشر پٹیل، شیوم دوبے، ورُن چکراورتی، کُلدیپ یادو اور جسپریت بمرا شامل ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں نے اپنے ابتدائی دونوں میچز جیتے ہیں اور اس میچ کا فاتح سپر ایٹ مرحلے کے لیے کوالیفائی کرلے گا۔