بنگلا دیش کے پاکستان دوست

بنگلا دیش کا اونٹ جس کروٹ بیٹھنا تھا، بیٹھ گیا۔ باقی سب باتیں ہیں۔ عوام نے بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ ہم اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں اور ممکنہ وزیراعظم طارق رحمان کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ بنگلا دیش کے انتخابات کے چند پہلو غیرمعمولی ہیں۔

گزشتہ ہنگاموں اور ماضی کے رجحانات کے پیش نظر خدشہ تھا کہ انتخابی عمل پرامن نہیں رہ سکے گا لیکن ایسا نہیں ہوا جو بنگلا دیش کی نئی اور خوشگوار حقیقت ہے۔ دوسرا پہلو جماعت اسلامی کا طرزعمل ہے جس نے بی این پی کی کامیابی کو خوش دلی سے تسلیم کرتے ہوئے اسے مبارک باد پیش کی۔ اس ضمن میں امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر شفیق الرحمن کا یہ بیان بھی قابل قدر ہے کہ ان کی جماعت مخالفت برائے مخالفت نہیں کرے گی بلکہ تعمیری حزب اختلاف کا کردار ادا کرے گی۔

بنگلا دیش کے انتخابی عمل کے یہ دو پہلو نئے اور قابل قدر ہیں جن سے توقع پیدا ہوتی ہے ارض بنگال میں نئے اور خوشگوار دور کا آغاز ہو رہا ہے۔ دوسری خوشگوار حقیقت یہ ہے کہ بنگلا دیش میں پاکستان دوست اقتدار میں آئے ہیں۔ بی این پی ہو یا جماعت اسلامی، پاکستان کے ضمن میں ان دونوں پر بھروسہ کیا جا سکتاہے۔

بنگلادیش کے ضمن میں اہل پاکستان کی دلچسپی کا ایک اہم موضوع جماعت اسلامی کی کارکردگی ہے۔ کیا جماعت حکومت بنا سکتی تھی، یہ سوال دلچسپ ہے اور پاکستان میں صرف جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے ہی نہیں، عام پاکستانی کا دل بھی جماعت کے لیے دھڑکتا ہے جس کی وجہ پاکستان کی سالمیت کے لیے اس کی قربانیاں اور حسینہ واجد کے عہد ستم میں مردانہ وار سزاؤں کا برداشت کرنا ہے۔

اس وجہ سے یہ جاننے کے باوجود کہ جماعت اسلامی پچاس سے ساٹھ نشستوں کی توقع رکھتی ہے، دلوں میں ایک خواہش نہاں تھی کہ کاش اس بار جماعت اسلامی کو موقع میسر آجائے۔ یہ خواہش اپنی جگہ لیکن ایک سوال اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔

سوال یہ ہے کہ حسینہ واجد کے مظالم کی شکار جماعت اسلامی جسے اپنی دانست میں ختم کر دیا تھا، طلبہ انقلاب کے بعد یکایک اپنے پاؤں پر کیسے اٹھ کھڑی ہو ئی اور وہ بھی پوری قوت کے ساتھ؟ حالاں کہ بنگلا دیش میں جماعت اسلامی کو کچلنے کا عمل صرف داخلی معاملہ نہیں تھا، اس میں بھارت پوری طرح ملوث تھا۔ جماعت اسلامی اور اس کے اداروں کو تباہ کرنے کے لیے بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی را کا مکمل نظام بنگلا دیش میں متحرک تھا جسے حسینہ واجد کی مکمل تائید حاصل تھی۔ اس کے باوجود جماعت اسلامی موقع ملتے ہی پوری توانائی کے ساتھ متحرک ہو گئی تو اس کا راز کیا ہے؟ مسلم معاشروں میں اسلامی تحریکوں کی ساخت اور کردار کو سمجھنے کے لیے اس سوال پر غور ضروری ہے۔

سب سے پہلے بنیادی بات۔ جماعت اسلامی میں ایسی کیا بات ہے کہ حسینہ واجد کے زمانے کا بہیمانہ سلوک بھی اس کی تنظیم اور حوصلہ ختم کرنے میں ناکام رہا؟ اس راز کو پانے کے لیے ہمیں مولانا مودودی سے مدد لینی ہو گی۔ جماعت اسلامی جب پاکستان میں ظلم و ستم اور پھانسی جیسی سزاؤں کا سامنا کر رہی تھی، مولانا مودودی نے فرمایا تھا کہ ہم لوہے کے چنے ہیں جنھیں اگلا جا سکتا ہے اور نہ نگلا جا سکتا ہے۔

جماعت اسلامی بنگلا دیش کی ہو، پاکستان کی یا بھارت کی، یہ بہرصورت وہی جماعت اسلامی ہے جس کے بانی مولانا مودودی ہیں۔ وہ جماعت اسلامی جس کے بانی مولانا مودودی ہیں، اسے اگر کوئی محض ایک سیاسی جماعت سمجھتا ہے تو غلطی کرتا ہے۔ جماعت اسلامی سیاسی جماعت ضرور ہے لیکن صرف سیاسی جماعت نہیں، یہ ایک تحریک ہے۔

تحریکیں دو طرح کی ہوتی ہیں۔ ایک وقتی اور دوسری مستقل۔ وقتی تحریکیں کسی وقتی مسئلے کے لیے اٹھتی ہیں اور کامیابی یا ناکامی کے بعد ختم ہو جاتی ہیں جیسے ہمارے یہاں جنرل مشرف کی آمریت میں وکلا کی تحریک چلی تھی۔ مستقل تحریکیں نظریاتی مقاصد کے لیے وجود میں آتی ہیں، ان پر پابندیاں لگیں، انھیں جبر کے ذریعے دبا دیا جائے یا پھر موت کے گھاٹ اتار کر ان کے وابستگان کو خوف میں مبتلا کرنے کی کوشش کی جائے، یہ کسی نہ کسی صورت برقرار رہتی ہیں کیوں کہ یہ اپنے مزاج میں پانی جیسی ہوتی ہیں جو کسی نہ کسی طرح راستہ بنا لیتی ہیں۔

بھارت کی جماعت اسلامی کا معاملہ مختلف ہے کیوں کہ اس کا تعلق سیاست سے نہیں لیکن جہاں تک پاکستان اور بنگلادیش کی جماعت اسلامی کا تعلق ہے، ان کے متعلقین صرف سیاست کے لیے ان کا حصہ نہیں بنتے۔ وہ ایک مقصد کے لیے اپنی زندگی ان کے نام کر دیتے ہیں اور یہ مقصد ہے اعلائے کلمۃ الحق۔ اعلائے کلمۃ الحق کا مطلب ہے، سچائی کو برقرار رکھنا اور اس کی پاسداری کرنا۔ مولانا مودودی نے یہ تحریک قائم کی تو اپنے پیروکاروں کو یہ بھی بتایا کہ وہ جس کام کا بیڑا اٹھا رہے ہیں، وہ دراصل انبیاء کا کام ہے، ختم نبوت کے بعد جس کی تمام تر ذمے داری مسلمانوں پر عاید کر دی گئی ہے لہٰذا جو کوئی بھی جماعت اسلامی کا ساتھی بنے، وہ خوب سوچ سمجھ کر بنے کیوں کہ یہ راستہ پھولوں کی سیج نہیں، اس راہ میں بیشتر کانٹے بچھائے جاتے ہیں۔

جماعت اسلامی کی ریڑھ کی ہڈی اس تصور سے بنی ہے جو مولانا مودودی نے اپنے پیروکاروں میں اپنے عمل سے راسخ کیا۔ یعنی خود مولانا مودودی نے ابتلا کا سامنا کیا حتیٰ کہ موت کے منہ میں پہنچا دیئے گئے لیکن وہ ثابت قدم رہے۔ جماعت اسلامی پر جب بھی مشکل وقت آتا ہے، اسلامی تاریخ کی عزیمت کی مثالیں تو اس کے سامنے ہوتی ہی ہیں، خود مولانا مودودی کی اپنی مثال بھی جماعت کے کارکن کے سامنے آ جاتی ہے اور وہ ابتلا کے مواقع پر ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتا ہے۔

جماعت اسلامی کی سخت جانی کا ایک راز اور بھی ہے۔ وہ اپنی نوعیت میں کوئی خفیہ تحریک تو ہرگز نہیں ہے لیکن جماعت کا کارکن جماعت اسلامی میں پورے کا پورا شامل ہوتا ہے۔ اس کی تعلیم اور تربیت کی بنیاد قرآن حکیم کی ایک آیت ہے یعنی ادخلو فی السلم کافۃ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ جو لوگ جماعت اسلامی میں شامل نہیں ہیں ، وہ اسلام میں شامل نہیں ہیں بلکہ یہ ہے کہ جماعت اسلامی کا کارکن شعوری فیصلے کے تحت ایک طے شدہ منصوبہ بندی کے تحت کام کرنے کے لیے اس کا حصہ بنا ہے۔

جماعت اسلامی کا کارکن چوں کہ پوری زندگی اپنی جماعت کو دے دیتا ہے اس لیے جماعت کے ڈسپلن سے ہٹ کر بھی وہ ایک اجتماعیت کا حصہ بنتا ہے جس میں باہمی تعلق کے علاوہ سماج کی تربیت اور بہبود کے علاوہ خدمت خلق کا ایک نظام قائم ہو جاتا ہے۔ جماعت کی تنظیم برقرار رہے یا نہ رہے، یہ نظام کسی نہ کسی صورت فعال رہتا ہے اور کارکنوں کا باہمی تعلق تو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ جماعت اسلامی کہیں کی بھی ہو، یہ خودکار نظام اس کا سب سے بڑا اثاثہ ہے جو اسے کسی عام جماعت کی طرح موت کے منہ میں جانے سے بچا لیتا ہے۔

یہی اسباب رہے ہوں گے جن کی وجہ سے بنگلا دیش میں حسینہ واجد دور جبر کے ختم ہوتے ہی جماعت اسلامی پوری توانائی سے اٹھ کھڑی ہوئی اور اب وہ وہاں کے سیاسی نظام کے بڑے اسٹیک ہولڈرز میں سے ایک ہے۔ اسے یہ طاقت کئی وجہ سے حاصل ہوئی۔ پہلی وجہ اس کے وابستگان کی استقامت ہے اور دوسری نشستوں کی قربانی دے کر بھی ہم خیال سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلنا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جماعت اسلامی نے انتخابی عمل سے خالص سیاسی انداز میں نمٹنے کی حکمت عملی اختیار کی۔ ایسا کرتے ہوئے اس نے اپنی نظریاتی حساسیت کو انتخابی میدان کا حصہ نہیں بننے دیا۔ اگر وہ ایسا کرتی تو اس کے نتیجے میں اپنے کارکنوں اور متاثرین کے دائرے میں محدود ہو کر رہ جاتی، عوامی مقبولیت کا خانہ خالی رہتا۔

Similar Posts