پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ، طاہر اندرابی، نے باقاعدہ اِس خبر کی تصدیق کر دی ہے کہ وزیر اعظم پاکستان ، جناب شہباز شریف، 19فروری 2026ء کو واشنگٹن پہنچ رہے ہیں ۔ اُن کے ساتھ وزیر خارجہ و نائب وزیر اعظم ، جناب اسحاق ڈار، بھی شامل ہوں گے ۔چند روز قبل وزیر اعظم صاحب کی صدرِ مملکت، جناب آصف علی زرداری، سے بھی تفصیلی ملاقات ہُوئی ہے ۔ شنید ہے کہ اِس ملاقات میں بھی صلاح مشورے ہُوئے ہیں ۔
جناب شہباز شریف اجلاس میں شرکت کے لیے واشنگٹن جا تو جا رہے ہیں ، مگر پاکستان کے اندر کئی شخصیات اس کی مخالفت کررہی ہیںے ۔ مثال کے طور پر 13فروری2026 ء کو جے یو آئی (ایف) کے سربراہ حضرت مولانا فضل الرحمن اور امیرِ جماعتِ اسلامی ، حافظ نعیم الرحمن صاحب ، کی اِسی پسِ منظر میں خاص ملاقات بھی ہُوئی ۔بعد از ملاقات دونوں رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو بھی کی ۔ اِسے ہم نظر انداز کر سکتے ہیں نہ19فروری کو واشنگٹن پہنچنے والوں کو نظر انداز کرنا چاہیے ۔ دونوں صاحبان نے ’’امن بورڈ‘‘ میں شرکت کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔ بیک زبان دونوں رہنماؤں نے یہ بھی کہا ہے کہ ’’امن بورڈ‘‘ میں شریک ہونے والے عالمِ اسلام کے رہنما جان لیں کہ امریکہ ، اسرائیل کے علاوہ کسی کا دوست نہیں۔ ‘‘
امن بورڈ کے پہلے اجلاس میں غزہ کے لیے مبینہ طور پر فنڈ ریزنگ بارے بھی کہا جائے گا۔ حیرانی کی بات ہے کہ غزہ میں نسل کشی اور غزہ کی کامل تباہی کرے تو اسرائیل ، مگر غزہ کی تعمیرِنَو کے لیے دیگر ممالک سے فنڈز اکٹھے کیے جائیں ۔ اِسی لیے غزہ پیس بورڈ کے مخالفین و نقاد یہ کہتے سنائی دے رہے ہیں کہ امن بورڈ کے توسط سے ڈونلڈ ٹرمپ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک سے ایسے ہی سلوک کررہے ہیں جیسے سامراج اپنی نَو آبادیات سے کیا کرتے تھے ۔ امن بورڈ کے اِس اولین اجلاس میں ٹونی بلیئر (سابق برطانوی وزیر اعظم) بھی شریک ہوگا جس کے ہاتھ ہزاروں بیگناہ عراقیوں کے خون سے رنگے ہُوئے ہیں ۔ عجب منظر بن رہا ہے ۔
مولانا فضل الرحمن اور حافظ نعیم الرحمن کے بیانات سے ہم بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وطنِ عزیز کی موثر و معروف مذہبی جماعتوں کے قائدین خاصے ناراض ہیں ۔14فروری کی شام کراچی میں جماعتِ اسلامی کے کارکنان نے سندھ حکومت کے خلاف جو زبردست احتجاج کیا ہے، اِس سے بھی ہم جماعتِ اسلامی کے عزائم بھانپ سکتے ہیں۔ یہ بھی عجب حقیقت ہے کہ ’’بورڈ آف پِیس ‘‘کی اوّلین کانفرنس کے حوالے سے جتنی مخالفت اور مزاحمت کی باتیں پاکستان میں ہورہی ہیں ، عالمِ اسلام میں کسی دوسرے ملک میں ایسا نہیں ہورہا ۔ کیا اِسے پاکستانی مذہبی طبقے کی انفرادیت کہا جائے گا؟
ایسے میں’’ غزہ ‘‘ کی مزاحمتی جنگجو تحریک و تنظیم ، حماس، کی جانب سے بھی بعض ایسی شرائط منصہ شہود پر آئی ہیں جو واشنگٹن میں ’’امن بورڈ‘‘ کے کسی حتمی نتیجے کے لیے رکاوٹ بن سکتی ہیں ۔ اس کا آخر مطلب کیا ہے ؟ کیا غزہ کسی نئے تصادم کا شکار ہونے والا ہے ؟
واضح رہے امریکہ کے بہت سے اتحادی ممالک ابھی تک غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت سے ہچکچا رہے ہیں ۔ البتہ اسرائیل نے ’’بورڈ آف پِیس‘‘ میں باقاعدہ شمولیت اختیار کر لی ہے ۔ دُنیا حیران ہے کہ بھلا اسرائیل کا ’’امن بورڈ‘‘ سے کیا تعلق ؟ پچھلے دو ماہ کے دوران جب سے غزہ میں نام نہاد سیز فائرہُوا ہے، اسرائیل وہاں مسلسل خون بہا رہا ہے ، عالمی امداد میں رکاوٹیں بھی ڈال رہاہے اور غزہ پر بمباری بھی کررہا ہے ۔12فروری2026ء کو اسرائیلی کابینہ نے نیتن یاہو کو غزہ پر تجاوزات قائم کرنے کی منظوری بھی دے دی ہے ۔
یوں اسرائیل سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ’’امن بورڈ ‘‘میں بیٹھ کر غزہ کے باسیوں کو امن کا سندیسہ اور تحفہ دے گا ، عبث ہے ۔ مگر امریکی صدر، ٹرمپ صاحب، مُصر ہیں کہ اِسی عطار کے لَونڈے کے ’’دواخانے‘‘ سے اہلِ غزہ کو ’’دوا‘‘ دینی ہے۔ اہلِ دانش کا خیال ہے کہ اِس ’’دوا‘‘ سے شفا ممکن ہے ہی نہیں ۔ اسرائیل اور امریکہ پر اعتبار کیا ہی نہیں جا سکتا ۔ جو ممالک یا جماعتیں غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی مخالفت و مزاحمت کرتے دکھائی دے رہے ہیں ، اُن کا یہی تو خیال ہے۔