ٹیکس نظام، محصولات کی دوڑ یاپائیدار معاشی

پاکستان کا ٹیکس نظام ایک بار پھر اہم موڑ پرکھڑا ہے جہاں حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا فوری محصولات کے حصول کو ترجیح دی جائے یا طویل مدتی معاشی استحکام کیلیے ٹیکس بنیاد کو وسعت دی جائے۔

ماہرین کے مطابق دہائیوں سے ملک کی معاشی پالیسی مالی دباؤ، قرض دہندگان کے اثرورسوخ اور محصولات کے اہداف کے گرد گھومتی رہی ہے، جبکہ بنیادی اصلاحات کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔

حالیہ دنوں میں سپرٹیکس سے متعلق مختصر عدالتی حکم کے بعد ٹیکس حکام کی جانب سے فوری ریکوری نوٹسزکے اجرا نے کاروباری حلقوں میں تشویش پیدا کی ہے، پاکستان کا ٹیکس نظام بنیادی طور پر براہِ راست اور بالواسطہ ٹیکسوں پر مشتمل ہے۔

براہِ راست ٹیکس میں انکم ٹیکس شامل ہے، جبکہ بالواسطہ ٹیکسوں میں سیلز ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹیز اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس بھی بڑی حد تک ودہولڈنگ اور ایڈوانس ٹیکس کے ذریعے وصول کیا جاتا ہے، جس کے باعث حقیقی معنوں میں براہِ راست ٹیکس نیٹ محدود رہتا ہے۔

مالی سال 2024-25 میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح تقریباً 10.3 سے 10.4 فیصد رہی، جبکہ آئندہ مالی سال کیلیے اسے تقریباً 11 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا، تاہم معیشت کے بڑے شعبوں کے ٹیکس نیٹ سے باہر رہنے کے باعث یہ اہداف مسلسل چیلنج کا شکار رہتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ریٹیل، رئیل اسٹیٹ اور زرعی شعبے کے بڑے حصے بدستور ٹیکس نظام سے باہر ہیں، جبکہ تنخواہ دار طبقہ نسبتاً زیادہ بوجھ برداشت کر رہا ہے، ایف بی آر کو محصولات کے سخت اہداف دیے جاتے ہیں، جس کے باعث نفاذ پر زور بڑھ جاتا ہے۔ 

ٹیکس ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو محض شرحوں میں اضافے یا سخت نفاذ کے بجائے نظامی اصلاحات، ٹیکس نظام میں توسیع، رضاکارانہ رجسٹریشن کے فروغ اور ادارہ جاتی اعتماد کی بحالی پر توجہ دینا ہو گی۔

Similar Posts