نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے 295 ارب روپے خسارے کی خبریں مسترد کر دیں

نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) نے 295 ارب روپے کے مبینہ خسارے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ دعوے محض ’’اکاؤنٹنگ کے فرق‘‘ کا نتیجہ ہیں اور ادارہ مالی خسارے میں نہیں۔

ترجمان این ایچ اے کے مطابق مالی سال 25-2024 میں ادارے کی آپریٹنگ آمدن 43.6 ارب روپے ریکارڈ کی گئی، جو 122.021 ارب روپے کی آمدن اور 78.409 ارب روپے کے آپریٹنگ اخراجات کے فرق سے حاصل ہوئی۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ این ایچ اے کے آپریشنز کیش پوزیٹو ہیں اور ادارہ مسلسل آپریشنل منافع برقرار رکھے ہوئے ہے، جو اس کے مالی استحکام کا واضح ثبوت ہے۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ این ایچ اے ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن کے لیے وفاقی حکومت پر بوجھ نہیں اور انتظامی اخراجات کے لیے بھی وفاقی بجٹ سے کوئی رقم نہیں لی جاتی۔ حالیہ عرصے میں آپریٹنگ آمدنی میں 63 فیصد نمایاں اضافہ جبکہ سڑکوں کی دیکھ بھال کے اخراجات میں 31 فیصد کمی لائی گئی ہے۔

بیان کے مطابق ٹول ٹیکس کی 81 فیصد وصولی ایم ٹیگ (M-Tag) کے ذریعے یقینی بنائی جا رہی ہے، جس سے شفافیت اور ریونیو میں بہتری آئی ہے۔ وفاقی پی ایس ڈی پی پر بوجھ کم کرنے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل پر توجہ دی جا رہی ہے، جبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے تعاون سے قرضوں کی درجہ بندی اور واپسی کا نیا فریم ورک بھی تیار کیا گیا ہے۔

ترجمان این ایچ اے نے کہا کہ ادارے سے متعلق منفی تاثر درست نہیں اور این ایچ اے مالی طور پر مستحکم اور فعال انداز میں اپنے فرائض انجام دے رہا ہے۔

Similar Posts