غلط العام نام اورالفاظ (دوسرا اور آخری حصہ)

زراعت کار کی مجبوری یہ ہوتی ہے کہ اسے کاشت کے لیے کسی ایک جگہ زمین سے وابستگی ضروری ہوتی ہے ، فصل کا انتظار کرنا پڑتا ہے اوروہیں پر مستقل رہائش بھی اختیار کرنا پڑتی، بستیاں بسانا پڑتی ہیں ۔ جب کہ جانور پالوں کو اپنا اوراپنے جانوروں کا پیٹ بھرنے کے لیے کبھی یہاں کبھی وہاں کوچ اورگردش کی مجبوری ہوتی ہے۔

ایک جگہ جانوروں کی خوراک ختم ہوتی ہے یا موسم سخت ہوجاتا ہے تو دوسری جگہ خانہ بدوشی کی حالت میں رہنا پڑتا ہے اور ہندوستان یا ایشیا کے مختلف مقامات پر جو لوگ ہمیں تاریخ میں سرگرم نظر آتے ہیں، وہ سارے کے سارے خانہ بدوش ، مویشی پال یا گلہ بان اساک یا تورانی یاکشتری تھے ، آریا نہیں تھے لیکن آریا کیوں مشہور ہوئے، اس کی بھی ایک وجہ تھی ۔ ہم اپنی بات کو صرف ہندوستان تک محدود رکھیں گے کیوں کہ یہاں کے نوشتے تسلسل میں ہیں ۔

یہاں جو لوگ آئے اساک ہونے کے باوجود کیوں آریا کہلائے، وہ اپنے ساتھ ’’رگ وید‘‘ کے بجھن لائے تھے جب کہ ایراینوں کا نوشتہ اوویستا تھا ، دونوں سے صاف صاف پتہ چلتا ہے کہ رگ وید خانہ بدوشوں کا نوشتہ ہے جس میں بارش کے دیوتا ’’اندر‘‘ کی مدح سرائیاں ہیں جب کہ اوویستا میں سب کچھ زراعت سے تعلق رکھتا ہے اور اس میں ساری مدح سرائیاں آہورمزدا (سورج) کی ہوئی ہیں لیکن جب یہ اساک خانہ بدوش اور مویشی پال لوگ ہند جیسی سرسبز اورمالامال سرزمین پہنچے تو یہیں کے ہوگئے، خوشحال اورفارغ البال ہوگئے۔یہ باتیں جب ایران، آج کے افغانستان کے آریاؤں کومعلوم ہوئیں تو وہاں سے بھی آہورمزدا کے پرستار آنا شروع ہوگئے ، میں نے پیچھے پروفیسر محمد مجیب کی کتاب کاحوالہ دیا ہے، اس میں انھوںنے لکھا ہے کہ ہند کے برھمن دراصل ایران کے مذہبی لوگ تھے ۔

واضح رہے کہ ہم جب ہند کی بات کرتے ہیں تو پرانے ہند کی بات کرتے ہیں جس میں ہمارے یہ پاکستان کاخطہ بھی شامل تھا اورہندوکش کا علاقہ بھی ، مجموعی طورپر چاردانگ عالم میں سو نے کی چڑیا کی شہرت رکھتا تھا ، اوویستائی مندرجات میں اسے ستہ سندو یا ھیتہ ھندو یعنی سات دریاؤں کی سرزمین کہا گیا ہے جس میں گنگا اورجمنا کے دودریا بھی شامل تھے ، یہ ایرانی مہکی اورمہرجب ایران سے چلے تو مجموعی طورپر ’’پارسو‘‘ تھے کیوں کہ اس زمانے کے مطابق ان کا جنگی ہتھیار ’’پرسو‘‘عین کلہاڑا تھا ۔ہندی مذہبی نوشتوں میں پرسورام کابہت ذکر ہے جو وشنو کااوتار تھا، ذات کابرھمن تھا اوراس نے سارے کشتریوں کو مارڈالاتھا ، پرسو کوئی فرد نہیں بلکہ وہ آریائی گروہ تھا جو کشتریوں کے تلوار کے مقابل کلہاڑا لے کر اٹھے تھے۔

یہ لفظ پارسو، پارس، پارسا بھی بہت دوردور تک گیا ہے ،انھی کی وجہ سے ایران کا نام پارس، فارس ہوگیا اورزبان بھی پارسا گرد اورپرسی پولس نامی شہربھی ان سے موسوم ہوئے تھے جب کہ موجودہ پشاورکا نام بھی پہلے پرس پور تھا کیوں کہ ایران سے چل کر یہ پہلے اس خطے میں پہنچے تھے اوربرھمن بن گئے تھے چنانچہ لفظ پارسا ، پارسائی اب بھی مذہبی اورعبادت گزار لوگوں کو کہاجاتا ہے ۔

ان پارسو یا برھمنوں کے آنے سے پہلے یہاں کھشتریوں نے جو نظام یامعاشرہ قائم کیاتھا، وہ صرف تین ذاتوں کھشتری (حکمران) ویش (کمانے والوں) اور شودروں( غلاموں) پر مشتمل تھا۔برھمنوں کایہ چوتھا طبقہ اس میں نہیں تھا، اورہاںیہ بتانا بھی ضروری ہے کہ ہندوستان میں ان کی آمد یک دم اورکسی ایک وقت نہیں ہوئی ہے بلکہ یہ ڈھائی ہزارسال قبل مسیح سے شروع ہوکر ایک ہزار قبل مسیح تک جاری رہی تھی ، جتھے آتے رہے اوریہاں آباد ہوتے رہے بلکہ یہ سلسلہ ابھی ایک ڈیڑھ صدی پہلے تک بھی جاری تھا ، کوچی پاوندے خانہ بدوش آتے رہے اوریہاں آباد ہوتے رہے۔

پارسو اورکھشتریوں میں پہلے تو جنگ وجدل، کش مکش اورماراماری ہوتی رہی، پھر دونوں میں وہ سمجھوتہ ہوگیا جو دنیاکے ہرخطے میں ہوتا رہا ہے ، تلوار اورقلم ، کتاب وتخت ، مندراورمحل کا تاج اورچوٹی کاسمجھوتہ اوربرھمنوں کو چوتھا گوٹ تسلیم کیاگیا ، یہ پارسو آریا ، مہگی اورمہر لوگ چونکہ مدنی تھے اور پڑھت اورلکھت کے لیے متمدن ماحول چاہیے ہوتا ہے، اس لیے پڑھے لکھے تھے جب کہ کھشتری خانہ بدوش تھے اورخانہ بدوشی میں لکھت پڑھت کا نہ موقع ملتا ہے نہ ماحول ۔ وہ صرف جنگجو اورتلوار کے دھنی تھے چنانچہ برھمنوں نے ان کو بڑے کمال سے آریا بناکر اپنی پہچان سے محروم کردیا اوروہ برھمنوں کے دیے ہوئے صفاتی ناموں اورنام کی صفات میں خوش ہوگئے اورآریا نام سے خود کو موسوم کرلیا۔

اس بات کا ثبوت کہ ہند میں آنے والے اولین لوگ اساک کشتری تھے آریا نہیں تھے، یہ بھی ہے کہ چونکہ یہ لوگ اس گندھارا نام کے خطے میں داخل ہوئے تھے، اس لیے ان نوشتوں میں یہاں کے بہت سارے نام مذکورہیں ،راجہ گندھار ، گندھاری، امب، امبی، بنوں ، بھرت ،ککی ، پشکلاوتی، سواستو، سوست ،سورگ وغیرہ ، خاص طورپر امبی کاراجہ ، اورسب سے زیادہ ’’اودیانہ‘‘ جو سوات کا پرانا نام ہے جسے لے کر برھمنوں نے ہندوستان میں اودھ اورایودھیا پرچسپاؒں کر دیا، امب آج بھی ’’امبیلہ‘‘ کے نام سے مشہور اورموجود ہے، یہی وہی ریاست تھی جس کا راجہ، راجہ پورس کے خلاف سکندرسے مل گیا تھا ، یہ پاکستان کے بعد بھی ایک عرصے تک ریاست رہی تھی ، ایوب خان کے زمانے میں جب اس کاآخری حکمران کیپٹن اسد ایک ہوائی حادثہ میں مرگیا تو ریاست بھی ختم ہوگئی۔

 ٹیکسلا اوربرہان کے درمیان موٹروے پر ایک انٹرچینج ہے ’’برھمہ یا پتر‘‘ ظاہر ہے کہ یہ علاقہ بھی اسی نام سے موسوم ہوگا اور یہ بھی عام بات ہے کہ (ھ) اور(ح) آپس میں بدلتے ہیں جیسے ہور سے خورشد، اوریہ نام بھی اصل میں برھمن باختر ہوسکتے ہیں اورجن پرسو لوگوں کا اس نے ذکر کیا ہے وہ بلخ وباختر کے مہگی اورمہر تھے ، یہ اس خطے میں آنے یا رہنے بسنے کا دوسرا ثبوت ہے ۔کل ملا کر بات یہ بنی کہ آریا ایک غلط العام نام ہے اورہند میں آنے والے وہ خانہ بدوش مویشی پال قبائل آریا نہیں بلکہ آریاؤں کے دشمن تھے، آریا وہ لوگ تھے جو قدیم دور کے فارس یا پارس کے مختلف علاقوں سے سرزمین ہند میں آئے تھے۔

Similar Posts