قائمہ کمیٹی کی نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلی پرتنقید

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوارکے اجلاس میں ارکان پارلیمنٹ اور سرکاری حکام نے نیپرا کی جانب سے نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے اسے نیٹ بلنگ میں تبدیل کرنے کے فیصلے پر سخت تنقیدکی۔

اجلاس کی صدارت سیدحفیظ الدین  نے کی۔ چیئرمین کمیٹی حفیظ الدین نے کہاکہ اس پالیسی میں ترمیم سے حکومت کی ساکھ پر منفی اثرات مرتب ہونگے،جب ریگولیٹر آئی پی پیز سے کیے گئے معاہدوں کااحترام کرسکتاہے تو صنعتوں اور افراد کی جانب سے نیٹ میٹرنگ پالیسی پر کیے گئے سرمایہ کاری فیصلوں کابھی احترام کیاجاناچاہیے۔

صنعتی یونٹس نے حکومتی پالیسی پر اعتمادکرتے ہوئے سولر نظام نصب کیے،مگر اب اچانک تبدیلی سے وہ شدید ابہام کاشکار ہیں۔کمیٹی ارکان اور سیکریٹری صنعت نے بھی اس خدشے کااظہارکیاکہ اس اقدام سے سرمایہ کاروں کاحکومتی پالیسیوں پر اعتمادمجروح ہوگااورصنعتیں متبادل توانائی اپنانے سے پیچھے ہٹ سکتی ہیں۔

کمیٹی نے اس بات پر بھی اعتراض کیاکہ نیپراکی جانب سے نیٹ میٹرنگ کو نیٹ بلنگ میں تبدیل کرنے کی بنیاد کسی جامع اور معقول مطالعے پر مبنی نہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے زوردیاکہ پاکستان کوصنعتوں کیلیے شمسی اور صاف توانائی کے فروغ کی ضرورت ہے، جس سے طویل مدت میں کاروباری لاگت کم ہو سکتی ہے۔

اجلاس کے ایجنڈے میں وزارت صنعت و پیداوارکے مختلف محکموں کے جاری ترقیاتی منصوبوں کاجائزہ اور منظوری بھی شامل تھی،جانچ پڑتال کے بعدکمیٹی نے متعددمنصوبے مستردکرتے ہوئے پلاننگ کمیشن سے ان کی مانیٹرنگ رپورٹس طلب کر لیں،منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر اور لاگت میں اضافے پر ارکان نے برہمی کااظہارکیا۔

ڈاکٹر مہرین بھٹو نے کہاکہ اگرچہ کووڈ،ڈالر بحران اور حکومت کی تبدیلی کے اثرات کو نظر اندازنہیں کیاجاسکتا، تاہم بیشتر منصوبے 6 سے 9 سال کی تاخیرکاشکار ہیں اورکمیٹی کودی جانیوالی بریفنگز نامکمل ہوتی ہیں۔

Similar Posts