رپورٹ کے مطابق جیکب آباد تھانے میں دائر مقدمے میں خاتون نے موقف اختیار کیا ہے کہ 15 فروری کی دوپہر تین بجے ان کے شوہر کو ٹیلی فون پر ایک ملزم نے کال کی اور کہا کہ ان کی بیوی ٹک ٹاک بنانا چاتی ہیں لہذا وہ ٹک ٹاکر (اپنی اہلیہ) کو بھیج دے۔
مدعی کے مطابق وہ اپنے شوہر کے ہمراہ اپنی کار میں روانہ ہوئیں اور ملزم کے گھر پہنچے جہاں ان کے شوہر کو یہ کہہ کر باہر روک دیا گیا کہ اندر خواتین موجود ہیں اور ان کو اپنے ساتھ لے گئے۔
مدعی کے مطابق ’میں اندر گئی تو وہاں چار مرد موجود تھے۔ انھوں نے مجھے پانی پلایا اور کہا کہ جکھرانی قبیلے کی کوئی لڑکی ٹک ٹاک نہیں بناتی تو تم نے یہ کام کیسے کر لیا۔‘
مدعی نے موقف اختیار کیا کہ تقریبا ساڑھے دس بجے ملزمان انھیں ایک کمرے میں لے گئے جہاں پستول دکھا کر انھیں بے لباس کیا اور ویڈیو ریکارڈنگ کی۔
مدعی کے مطابق اس کے بعد ملزمان نے باری باری ان کا ریپ کیا اور تین گھنٹے بعد چھوڑ دیا۔
خاتون ٹک ٹاکر کے شوہر کا دعویٰ ہے کہ ان کی بیوی کو ٹک ٹاک بنانے کی سزا دی گئی اور کہا گیا کہ اگر وہ ٹک ٹاک بنانے سے باز نہ آئیں تو ان کی عریاں ویڈیوز انٹرنیٹ پر شیئر کر دی جائیں گی۔
پولیس نے گینگ ریپ اور ویڈیو بنانے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔
ایس ایس پی جیکب آباد محمد کلیم ملک نے بی بی سی کو بتایا کہ مقدمہ درج کر کے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا گیا اور دیگر کی تلاش جاری ہے جبکہ متاثرہ خاتون کا میڈیکل چیک اپ بھی کروایا گیا ہے۔