وزیر نے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی ایچ ایف انتظامیہ کے اقدامات سے نہ صرف کھیل بلکہ ملک کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کا رویہ ہرگز قابل قبول نہیں اور اسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔
رانا ثناء اللہ نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس معاملے پر مفصل رپورٹ فوری طور پر جمع کرائے اور خبردار کیا کہ ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بدانتظامی اور کھیل کو بدنام کرنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
اس معاملے کی باقاعدہ انکوائری شروع کر دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ تحقیقات میں جو بھی قصوروار پایا گیا اسے قانون کے مطابق نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ذرائع کے مطابق کھلاڑیوں کو چھوٹے کمروں میں تین، تین کی تعداد میں ٹھہرایا گیا رہائشی انتظامات بین الاقوامی معیارکے مطابق نہیں تھے جس سے قومی کھلاڑیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک میں کھیلوں کے فروغ کو یقینی بنایا جائے گا اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔