اسرائیلی ادارے کوگات کے بیان کے مطابق صرف وہی فلسطینی نمازی داخل ہو سکیں گے جو پیشگی خصوصی اجازت نامہ حاصل کریں گے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مردوں کے لیے کم از کم عمر 55 سال، خواتین کے لیے 50 سال جبکہ 12 سال تک کے بچوں کو قریبی رشتہ دار کے ساتھ آنے کی اجازت ہوگی۔
یہ پابندیاں صرف مقبوضہ مغربی کنارے سے آنے والے فلسطینیوں پر لاگو ہوں گی، جسے اسرائیل نے 1967 کی جنگ کے بعد اپنے قبضے میں لیا تھا۔
اسرائیلی حکام کے مطابق تمام اجازت نامے سیکیورٹی کلیئرنس سے مشروط ہوں گے اور واپسی پر ڈیجیٹل اندراج بھی لازم ہوگا۔
دوسری جانب اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصیٰ کے امام شیخ محمد العباسی کو احاطہ مسجد سے گرفتار کر لیا۔ فلسطینی خبر رساں ایجنسی کے مطابق گرفتاری کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی گئی۔
فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے امام کی گرفتاری اور نمازیوں پر پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے مسجد کے امور میں مداخلت قرار دیا ہے۔
رمضان کے دوران عام طور پر لاکھوں فلسطینی مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے آتے ہیں، تاہم 2023 میں غزہ جنگ کے بعد سیکیورٹی پابندیوں کے باعث حاضری میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔