مارک زکربرگ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کی کمپنی کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بچوں کو اپنی جانب راغب کرنے یا ان کا اسکرین ٹائم بڑھانے کے مقصد سے تیار نہیں کیا گیا۔
مقدمے کی سماعت کے دوران وکلا نے زکربرگ سے 2024 میں کانگریس کے سامنے دیے گئے ان کے بیان سے متعلق سوالات کیے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کمپنی اپنی ٹیموں کو ایپس پر صارفین کا وقت زیادہ سے زیادہ بڑھانے کا ہدف نہیں دیتی۔ تاہم مدعی کے وکیل نے عدالت میں 2014 اور 2015 کی ای میلز پیش کیں، جن میں ایپس پر صارفین کے گزارے گئے وقت میں نمایاں اضافے کے اہداف کا ذکر موجود تھا۔
اس پر زکربرگ نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں صارفین کے وقت سے متعلق اہداف ضرور موجود تھے، لیکن کمپنی نے بعد ازاں اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی۔ انہوں نے عدالت میں کہا کہ اگر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ان کا کانگریس میں دیا گیا بیان درست نہیں تھا تو وہ اس سے سختی سے اختلاف کرتے ہیں۔
Meta CEO Mark Zuckerberg leaves a Los Angeles courthouse after testifying in a landmark tech addiction case against Meta and YouTube. pic.twitter.com/l6VUJjCCtk
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) February 19, 2026
یہ پہلا موقع ہے کہ میٹا پلیٹ فارمز کے سربراہ نے عدالت میں پیش ہو کر انسٹاگرام کے نوجوانوں کی ذہنی صحت پر ممکنہ اثرات سے متعلق براہِ راست گواہی دی ہے۔
ماہرین کے مطابق لاس اینجلس میں جیوری کے سامنے جاری اس مقدمے کے نتائج کمپنی کے لیے اہم مالی اور قانونی اثرات کا باعث بن سکتے ہیں، کیونکہ کیس ہارنے کی صورت میں ہرجانے کی ادائیگی کرنا پڑ سکتی ہے۔
یہ مقدمہ دراصل ان بڑھتے ہوئے عالمی خدشات کا حصہ ہے جو سوشل میڈیا کے بچوں اور کم عمر صارفین کی ذہنی صحت پر اثرات کے حوالے سے سامنے آ رہے ہیں۔ اسی تناظر میں آسٹریلیا پہلے ہی 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی پر پابندی عائد کر چکا ہے، جبکہ اسپین سمیت دیگر ممالک بھی اسی نوعیت کی پابندیوں پر غور کر رہے ہیں۔