برطانوی میڈیا کے مطابق دی ہنڈریڈ کی آٹھ میں سے چار ٹیمیں مانچسٹر سپر جائنٹس، ایم آئی لندن، سدرن بریو اور سن رائزرز لیڈز اب جزوی یا مکمل طور پر ان کمپنیز کی ملکیت میں ہیں جو آئی پی ایل ٹیموں کو کنٹرول کرتی ہیں۔
آئندہ ماہ ہونے والے آکشن میں بھارتی ملکیت رکھنے والی ٹیمیں پاکستانی پلیئرز کو منتخب نہیں کریں گی۔
پاکستانی کھلاڑی 2009 سے آئی پی ایل میں بھی شریک نہیں ہوئے، اس کی وجہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی ہے۔
انگلش بورڈ کے ایک سینئر آفیشل نے پلیئر ایجنٹ کو اشارہ دیا کہ آئی پی ایل سے تعلق نہ رکھنے والی ٹیموں کو ہی پاکستانی کھلاڑیوں میں دلچسپی ہوگی۔
ایک اور ایجنٹ نے اس صورتحال کو بھارتی سرمایہ کاری والی مختلف ٹی ٹوئنٹی لیگز کا غیر تحریری اصول قرار دیا۔
انگلش کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو رچرڈ گولڈ نے گزشتہ سال کہا تھا کہ مجھے توقع ہے کہ تمام ممالک کے کھلاڑی تمام ٹیموں کے لیے منتخب کیے جائیں گے۔
A number of sources have told the BBC that Pakistan cricketers are not being considered by Indian-owned sides for next month’s Hundred auction.
Players from Pakistan have not featured in the Indian Premier League (IPL) since 2009 because of diplomatic tensions between the two… pic.twitter.com/X6qAbMk9aJ
— Test Match Special (@bbctms) February 19, 2026
انہوں نے واضح کیا تھا کہ لیگ میں ’انسدادِ امتیاز پالیسی‘ نافذ ہے۔ تاہم مذکورہ چار ٹیموں یا مالکان نے اس خبر پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
البتہ ای سی بی کے ترجمان نے کہا کہ دی ہنڈریڈ دنیا بھر سے مرد و خواتین کھلاڑیوں کو خوش آمدید کہتی ہے، ہم توقع کرتے ہیں کہ تمام آٹھ ٹیمیں اسی تنوع کی عکاسی کریں گی۔
تقریباً 18 ممالک کے ایک ہزار کرکٹرز نے نیلامی کے لیے رجسٹریشن کرائی ہے، ان میں آسٹریلیا، جنوبی افریقا، نیوزی لینڈ، پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے بالترتیب 50 سے زائد کھلاڑی شامل ہیں۔
پاکستان کے دو سابق انٹرنیشنل کھلاڑی محمد عامر اور عماد وسیم گزشتہ سال کے ٹورنامنٹ میں شریک ہوئے تھے، وہ نئے سرمایہ کاروں کے آنے سے قبل آخری ایڈیشن تھا۔
اس سے پہلے شاداب خان، شاہین شاہ آفریدی اور حارث رؤف بھی مقابلوں میں شامل ہو چکے ہیں تاہم اب تک کسی پاکستانی خاتون کھلاڑی نے ویمنز ہنڈریڈ میں حصہ نہیں لیا۔
پاکستانی ٹیم لیگ کے دوران ویسٹ انڈیز میں ٹیسٹ سیریز کھیلنے والی ہے، مگر وائٹ بال اسپیشلسٹ کھلاڑی دستیاب ہوں گے۔
اب تک کوئی پاکستانی کھلاڑی ایس اے ٹوئنٹی میں بھی شامل نہیں ہوا جو 2023 میں شروع ہوئی تھی۔ اس کی تمام چھ ٹیمیں آئی پی ایل مالکان کی ہی ہیں، ان میں سے چار گروپس اب دی ہنڈریڈ میں بھی موجود ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی آئی ایل ٹی ٹوئنٹی میں ایم آئی لندن اور سدرن بریو نے چار سیزنز میں کسی پاکستانی کھلاڑی کو منتخب نہیں کیا، البتہ 15 دیگر ممالک کے کھلاڑی شامل کیے۔
اس کے برعکس امریکی ملکیت والی فرنچائز ڈیزرٹ وائپرز نے اسی مدت میں 8 پاکستانی کھلاڑیوں سے معاہدے کیے۔
اس حوالے سے ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹیو ٹام موفٹ نے کہا کہ ہر کھلاڑی کو منصفانہ اور مساوی مواقع کا حق حاصل ہونا چاہیے، اگرچہ مالکان کو سلیکشن میں خود مختاری حاصل ہے لیکن اْن کے فیصلے ہمیشہ انصاف، مساوات اور احترام کے اصولوں کے مطابق ہونے چاہئیں۔
یاد رہے انگلش بورڈ نے گزشتہ سال دی ہنڈریڈ کی آٹھوں ٹیموں میں سے اپنے 49 فیصد شیئرز فروخت کر کے 500 ملین پاؤنڈ کا سرمایہ حاصل کیا جسے کاؤنٹیز اورگراس روٹ کرکٹ میں تقسیم کردیا گیا۔
میزبان کاؤنٹیز کو بقیہ 51 فیصد میں سے حصہ رکھنے یا فروخت کرنے کی اجازت دی گئی۔
ای سی بی اب بھی ٹورنامنٹ کا کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے اور مستقبل کی حکمت عملی طے کرنے کیلیے ایک نئی بورڈ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں ٹیموں کے نمائندے شامل ہیں۔
یہ ایونٹ اب بھی آزاد کرکٹ ریگولیٹر کے تحت ہے جو 2023 کی ’ایکویٹی ان کرکٹ‘ رپورٹ کے بعد قائم ہوا تھا، اس میں انگلش کرکٹ میں امتیاز کو وسیع پیمانے پر پھیلا ہوا قرار دیا گیا تھا۔
کاؤنٹی کرکٹ ممبرز گروپ نے کہا کہ اگر پاکستانی کھلاڑیوں کو قومی بنیاد پر منتخب نہ کرنے کا کوئی ثبوت ملا تو ہم توقع کرتے ہیں کہ متعلقہ کاؤنٹی بورڈز اور ای سی بی نجی شراکت داروں کو جوابدہ ٹھہرائیں گے۔
اعداد و شمار کے مطابق گریٹر مانچسٹر کی 12 اور لیڈز کی 4 فیصد آبادی پاکستانی شناخت کی حامل ہے۔
ایک معروف ایجنٹ نے کہا کہ ہمارے کھلاڑی کسی رعایت کے طلبگار نہیں وہ صرف منصفانہ موقع چاہتے ہیں، میں امید کرتا ہوں کہ دی ہنڈریڈ ان رویوں کی پیروی نہیں کرے گا جو ہم دیگر فرنچائز لیگز میں دیکھ رہے ہیں۔