سپریم کورٹ کا ٹیرف کالعدم قرار دینا انتہائی مضحکہ خیز ہے: ٹرمپ کا ردِ عمل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے دوسرے ملکوں پر ٹیرف لگانے کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے پر اپنے ردِ عمل میں کہا کہ یہ فیصلہ انتہائی مایوس کن ہے اور ایسے فیصلے ہماری قوم کی توہین ہیں۔ انہوں نے عدالت پر سیاسی دباؤ ہونے کا بھی عندیہ دیا اور کہا کہ عدالت کتنی آسانی سے دباؤ میں آ جاتی ہے۔ ایسے فیصلے امریکی قوم کی توہین ہیں۔

سپریم کورٹ کی جانب سے ٹیرف اقدام کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے بعد وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ٹیرف کے ذریعے اپنے دور میں عالمی معاملات میں کامیابیوں کا ذکر کیا اور کہا کہ جو لوگ چار سال میں نہیں کر پائے، ہم نے ایک سال میں کر دکھایا۔

امریکی صدر نے اس موقع پر کہا کہ بعض فیصلوں میں حکومت کی کارکردگی کو سراہا جانا اچھی بات ہے، تاہم عالمی دباؤ کے باوجود انہوں نے اہم اقدامات کیے جو ان کے نزدیک کامیابی کے مترادف ہیں۔ اس ٹیرف نے ہمیں بڑی نیشنل سیکیورٹی فراہم کی۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ان کے لیے انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ ان کے مطابق عدالت نے کہا کہ وہ ایک ڈالر بھی چارج نہیں کر سکتے، یعنی وہ ٹیرف لگانے کے لیے قانونی طور پر پیسہ وصول نہیں کر سکتے۔

انھوں نے کہا کہ عدالت نے انہیں تجارتی پابندیاں لگا کر کسی بھی ملک کو نقصان پہنچانے کی اجازت تو دے دی، لیکن اس کے لیے رقم وصول کرنے کی اجازت نہیں دی، جو ان کے خیال میں غلط ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ دیگرممالک سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر بہت خوش ہیں، ان ممالک کی خوشی زیادہ دیگر قائم نہیں رہے گی، میں جو چاہوں کر سکتا ہوں مگر میں کوئی رقم وصول نہیں کرسکتا۔ مجھے کسی ملک کے ساتھ تجارت ختم کرنے اور پابندیاں لگانے کا اختیار ہے۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ اس فیصلے کے باوجود ان کے پاس متبادل طریقے موجود ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ وہ لائسنس دینے کا اختیار رکھتے ہیں، لیکن لائسنس فیس وصول کرنے کا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت کے اس فیصلے سے ان کے ٹیرف کو آگے بڑھانے کی اہلیت پر کوئی پابندی نہیں ہے اور وہ اپنی پالیسیوں کو دیگر طریقوں سے نافذ کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے نے ٹیرف لگانے کے اختیار میں مزید اضافہ کر دیا، ٹیرف سے ملنے والے منافع میں مزید اضافہ ہوگا، دیگر ٹیرفس کے علاوہ 10 فیصد عالمی ٹیرف نافذ کیا جائےگا۔ ٹیرف لگانے کے لیے مجھے کانگریس سے پوچھنے کی ضرورت نہیں، سیکشن 301 کے تحت تمام قومی سلامتی ٹیرف برقرار رہیں گے۔

امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ٹیرف کی وجہ سے وہ آٹھ میں سے پانچ جنگیں روکنے میں کامیاب ہوئے، جن میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ممکنہ جنگ بھی شامل تھی، جو نیوکلیئر جنگ میں بدل سکتی تھی۔

صدر ٹرمپ نے پریس کانفرنس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کی بھی تعریف کی اور کہا کہ ان کی مدد سے 35 ملین افراد کی جانیں بچائی گئیں اور جنگ کو روکا گیا۔ پاکستانی وزیراعظم سے پیس بورڈ اجلاس میں ملاقات ہوئی، شہبازشریف نے یہ بات وہاں بھی دہرائی اور کہا کہ ٹرمپ کی کوششوں سے ہماری جنگ رکی۔

واضح رہے کہ جمعہ کو امریکی سپریم کورٹ نے دوسرے ملکوں پر صدر ٹرمپ کے اضافی ٹیرف غیرقانونی قراردیے۔ 3 کے مقابلے میں 6 ججوں کی اکثریت نے فیصلہ جاری کیا تھا۔

Similar Posts