ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ ایران آئندہ دو سے تین روز میں امریکا کے ساتھ ممکنہ جوہری معاہدے کا ابتدائی مسودہ تیار کرلے گا۔
ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو دیتےہوئے عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ مسودہ تیار ہونے کے بعد اسے اعلیٰ ایرانی قیادت کی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا، اور منظوری ملنے پر یہ دستاویز امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے حوالے کی جائے گی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ اگرچہ پیش رفت مثبت سمت میں جاری ہے تاہم حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کے ایک اور دور کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کے مطابق بعض تکنیکی اور قانونی نکات پر ابھی مزید مشاورت درکار ہے تاکہ معاہدہ قابلِ عمل اور پائیدار ثابت ہو۔
اُدھر خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے دو امریکی عہدیداروں نے بتایا کہ ایران سے متعلق امریکی فوجی منصوبہ بندی ایک اعلیٰ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
ان کے مطابق زیرِ غور آپشنز میں حملے کے دوران مخصوص افراد کو نشانہ بنانا اور اگر صدر ٹرمپ حکم دیں تو تہران میں قیادت کی تبدیلی کی کوشش بھی شامل ہے۔
دوسری جانب واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران پر معاہدے کے لیے دباؤ بڑھانے کی غرض سے محدود فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ میں کہہ سکتا ہوں کہ میں اس پر غور کر رہا ہوں۔ تاہم انہوں نے کسی حتمی فیصلے یا ٹائم لائن سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
صدر ٹرمپ نے جمعرات کے روز تہران کو 10 سے 15 دن کی مہلت دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ برسوں سے جاری جوہری تنازع کے حل کے لیے معاہدہ کرے، بصورتِ دیگر اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی سرگرمیوں میں اضافے کے باعث وسیع جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام کے حوالے سے اختلافات گزشتہ کئی برسوں سے جاری ہیں، اور کسی بھی نئے معاہدے کو خطے میں طاقت کے توازن کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔