امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تمام ممالک پر دس فیصد ٹیکس یعنی ٹیرف لگانے کا اعلان کر کے دنیا بھر کی منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ اگرچہ امریکی سپریم کورٹ نے ان کے کچھ پرانے ٹیرفس کو روک دیا ہے، لیکن صدر ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنے ایجنڈے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی کہا ہے کہ حکومت ٹیرف برقرار رکھنے کے لیے دیگر قانونی راستے اختیار کرے گی۔ ان کے مطابق اب سیکشن 232 اور سیکشن 301 کے تحت ٹیرف نافذ کیے جائیں گے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ٹرمپ امریکی قانون کی کچھ دفعات کا استعمال کرتے ہوئے کیسے دوسرے ملکوں سے آنے والی چیزوں پر ٹیکس لگا سکتے ہیں۔
اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ان اہم قانونی دفعات کو جاننا ضروری ہے جو صدر ٹرمپ کے پاس ایک ہتھیار کے طور پر موجود ہیں۔
پہلا ہتھیار سیکشن 122 کہلاتا ہے جو امریکی صدر کو یہ طاقت دیتا ہے کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر 15 فیصد تک ٹیکس لگا سکیں۔
یہ طریقہ کار تیز رفتار ہے اور اس کے لیے کسی لمبی چوڑی تحقیقات کی ضرورت نہیں ہوتی۔
یہ قانون اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب امریکا دوسرے ملکوں سے سامان زیادہ خرید رہا ہو لیکن اس کا اپنا سامان باہر کم بک رہا ہو۔
تاہم اس کی ایک حد یہ ہے کہ یہ ٹیکس صرف 150 دنوں کے لیے لگایا جا سکتا ہے اور اسے مزید بڑھانے کے لیے پارلیمنٹ کی منظوری درکار ہوتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اسی قانون کے تحت دس فیصد عالمی ٹیکس لگانے کا حکم جاری کیا ہے۔
دوسرا اہم ہتھیار سیکشن 301 ہے جسے صدر ٹرمپ نے اپنے پچھلے دور میں چین کے خلاف بھرپور طریقے سے استعمال کیا تھا۔
یہ قانون اس وقت حرکت میں آتا ہے جب امریکا کو لگے کہ کوئی دوسرا ملک امریکی کمپنیوں کے ساتھ ناانصافی کر رہا ہے یا تجارت میں امتیازی سلوک برت رہا ہے۔
اس قانون کے تحت ٹیکس لگانے سے پہلے ایک باضابطہ انکوائری کی جاتی ہے جس میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں، لیکن ایک بار جب یہ ٹیکس لگ جائے تو اسے عدالتوں میں چیلنج کرنا مشکل ہوتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اب دوبارہ اس قانون کے تحت کارروائی شروع کرنے کا اشارہ دیا ہے۔
تیسرا طریقہ سیکشن 232 ہے جو ملکی سلامتی سے جڑا ہوا ہے۔
اگر امریکی حکومت کو لگے کہ کسی خاص چیز کی درآمد سے ملک کی حفاظت کو خطرہ ہو سکتا ہے، جیسے فولاد یا ایلومینیم، تو وہ اس پر بھاری ٹیکس لگا سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ پہلے ہی فولاد اور گاڑیوں کے پرزوں پر اس قانون کے ذریعے ٹیکس لگا چکے ہیں اور انہوں نے اعلان کیا ہے کہ یہ ٹیکس پوری قوت کے ساتھ برقرار رہیں گے۔
اس کے علاوہ ایک اور پرانا قانون سیکشن 338 بھی موجود ہے جس کے تحت 50 فیصد تک ٹیکس لگایا جا سکتا ہے۔
لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے استعمال نہیں کیا کیونکہ اس سے عالمی تجارتی جنگ چھڑنے کا خطرہ ہوتا ہے۔