بنگلہ دیش نے بھارتی ائرلائن کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دیں

بنگلہ دیش نے بقایاجات کی عدم ادائیگی پر بھارتی ائرلائن اسپائس جیٹ کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں، جس کے بعد متعلقہ پروازوں کو متبادل راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں۔

بنگلہ دیشی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ فیصلہ واجبات کی ادائیگی نہ ہونے کے باعث کیا گیا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان فضائی روابط متاثر ہوئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق فضائی حدود بند ہونے کے بعد اسپائس جیٹ کی پروازوں کا دورانیہ بڑھ گیا ہے اور ایندھن کے استعمال میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ متبادل راستے اختیار کرنے سے آپریشنل اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے، جس کا براہ راست اثر ائرلائن کی مالی حالت پر پڑ سکتا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق اسپائس جیٹ گزشتہ چند ماہ سے مالی مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔

کمپنی نے حالیہ مالی رپورٹ میں 269.27 کروڑ روپے کے نقصان کا اعتراف کیا ہے، جبکہ اس کے شیئرز میں بھی معمولی کمی دیکھی گئی۔

ماہرین کے مطابق پہلے سے موجود مالی دباؤ کے دوران فضائی حدود کی بندش کمپنی کے لیے ایک اور چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔

ادھر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش اور بھارت کے تعلقات حالیہ عرصے میں کشیدگی کا شکار رہے ہیں اور بعض معاملات تنازعات کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

ماہرین کے مطابق بنگلہ دیش سفارتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے بھارت کو مختلف معاملات پر چیلنج کر رہا ہے، جس کا اثر تجارتی اور فضائی شعبوں پر بھی پڑ رہا ہے۔

دوسری جانب بھارتی ایوی ایشن انڈسٹری کو بھی مجموعی طور پر مشکلات کا سامنا ہے۔ بڑھتے ہوئے اخراجات، مسابقت اور مالی دباؤ کے باعث کئی ائرلائنز کو چیلنجز درپیش ہیں۔

ایسے میں فضائی حدود کی بندش جیسے اقدامات صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

تاحال اسپائس جیٹ یا بھارتی حکام کی جانب سے اس معاملے پر کوئی تفصیلی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ مسئلے کے حل کے لیے سفارتی اور مالی سطح پر بات چیت ناگزیر ہوگی تاکہ پروازوں کا معمول بحال کیا جا سکے اور دونوں ممالک کے درمیان فضائی روابط میں مزید رکاوٹ پیدا نہ ہو۔

Similar Posts