کراچی میں پولیس اہلکاروں کا رشوت نہ دینے پر شہری پر بہیمانہ تشدد

شہر قائد کے ڈسٹرکٹ سینٹرل میں لاقانونیت کی انتہا ہوگئی، شاہین فورس کے اہلکاروں نے بے گناہ شہری کو روکا اوررشوت نہ دینے پر تھانے لے جاکر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناکر اُسے ہاف فرائی کی دھمکیاں بھی دیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی کے عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے بنائی گئی شاہین فورس کے اہلکاروں نے غریب آباد پھاٹک کے قریب لگائے گئے ناکے پر شہری کو روک کر مبینہ طور پر رشوت طلب کی۔

شہری نے رشوت دینے سے انکار کیا تو اسے شریف آباد تھانے لے جاکر مبینہ طور پر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اسے مقابلے میں ہائی فرائی کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔

شہری کی شکایت پر ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل نے متاثرہ شہری پر کیے جانے والے تشدد کی انکوائری ڈی ایس پی لیاقت آباد کو سونپ دی۔

 شہری اپنے اوپر کیے گئے تشدد کے باعث 2 روزے بھی نہیں رکھ سکا جبکہ پولیس کے ہاتھوں بلاجواز پکڑ کر تشدد کرنے کی اطلاع ملتے ہی شہری کے اہلخانہ ، اہل محلہ اور وکلا کی بڑی تعداد شریف آباد تھانے پہنچی۔

 شہری نے سی پی ایل سی سے ایم ایل لیٹر حاصل کر کے عباسی شہید اسپتال میں اپنا جسمانی معائنہ بھی کرایا ہے۔

اس حوالے سے متاثرہ شہری انور علی نے بتایا کہ وہ گلبرگ فیڈرل بی ایریا بلاک 4 کا رہائشی ہے اور مرغیوں کی فیڈ بنانے کے کارخانے کا مالک ہے، پہلے روزے بروز جمعرات کو وہ تروایح کے بعد ورزش کیلیے جم گیا اور وہاں سے الکرم کے قریب بریانی سینٹر سے گھروالوں کے لیے بریانی لیکر جا رہا تھا کہ شریف آباد کے علاقے میں ریلوے پھاٹک کے قریب سنسان مقام پر 2 موٹر سائیکلوں پر سوار 4 اہلکاروں نے اُسے روکا۔

انور علی کے مطابق بعد میں پتہ چلا کہ وہ شاہین فورس کے اہلکار تھے انھوں نے ناکہ لگایا ہوا تھا اور وہاں سے گزرنے والوں کو روک کر چیکنگ کر رہے تھے۔

شہری نے الزام عائد کیا ہے کہ جب میں وہاں پہنچا تو اہلکاروں نے مجھے روکا اور مجھے سے مبینہ طور پر 2000 روپے طلب کیے جبکہ میرے پاس 58 ہزار روپے نقد موجود تھے تاہم شہری نے پیسے دینے سے انکار کیا تو اس کے موٹر سائیکل کے دستاویزات طلب کیے جسے دیکھ کر اہلکاروں نے کہا کہ یہ چوری کی موٹر سائیکل ہے جس پر اس تھانے لیجایا گیا،

شہری انور علی نے بتایا کہ تھانے میں ڈیوٹی افسر آصف ، سنتری اور دیگر افراد نے مجھے ایک کمرے میں لے جا کر بلاجواز تشدد کا نشانہ بنایا جس کے باعث میں شدید خوفزدہ ہوگیا جبکہ کمرے میں دیگر 2 سے 3 افراد بھی پہلے سے موجود تھے اور انھیں خوفزدہ کرنے کے لیے مجھے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔

انور علی نے بتایا کہ پولیس کے مبینہ تشدد سے اس کے دو روزے بھی چھوٹ گئے جبکہ تشدد کرنے والے ایک اہلکار نے کسی کو کال پر لیکر میری ویڈیو بھی بنائی اور یہ بات ایس ایچ او شریف آباد کو پتہ چلی تو انھوں نے اس اہلکار کے موبائل فون سے ویڈیو دیکھ کر اس پر غصہ بھی کیا۔

شہری نے بتایا کہ ایس ایچ او کی جانب سے تعاون کیا گیا لیکن دیگر پولیس اہلکاروں نے مجھے خوفزدہ کرنے کے لیے کہا کہ اس کے پاس سے اسلحہ بھی ملا ہے اور اسے مقابلے ہائی فرائی کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئی اس دوران ایسا محسوس ہوا کہ میرا دل پھٹ جائیگا اور میں اپنے آپ کو کوسنے لگا کہ انھیں 2000 دیکر جان چھڑا لیتا۔

پولیس گردی کا شکار شہری نے مزید بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے میرا آئی فون 14 پرو موبائل بھی توڑ دیا جبکہ میرے پکڑے جانے کی اطلاع پر اہلخانہ ، اہل محلہ اور وکلا کی بڑی تعداد تھانے پہنچ گئی جس کے بعد مجھے رہائی ملی۔

بعدازاں سی پی ایل سی کا ایم ایل لیٹر لیکر عباسی شہید اسپتال سے اپنا ایم ایل او بھی کرایا جبکہ میرے جسم پر بلاجواز تشدد کے نشانات واضح طور پر پائے گئے۔

شہری نے بتایا کہ اس حوالے سے ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل کے دفتر بھی گیا اور انھوں نے معلومات حاصل کرنے کے بعد ڈی ایس پی لیاقت آباد کو واقعے کی انکوائری دی ہے۔

شہری نے بتایا کہ اس کی گلبرگ موسیٰ کالونی میں بھی مرغیوں کی ویسٹیج کی فیکٹری قائم ہے جس کا میں مالک ہوں۔ شہری کا کہنا تھا کہ پولیس نے اسے اتنا خوفزدہ کیا تھا کہ اس کا ہارٹ فیل بھی ہوسکتا تھا۔

اس حوالے سے ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل ڈاکٹر عمران خان نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ شہری کی شکایت پر ڈی ایس پی لیاقت آباد کو انکوائری کا حکم دیدیا ہے جبکہ انکوائری افسر ڈی ایس پی وسیم احمد نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ متاثرہ شہری سے واقعے کی تفصیلات معلوم کرنے کے لیے دفتر بلوایا ہے جبکہ اس کی جانب سے جو الزامات عائد کیے جا رہے ہیں ان کی بھی غیرجانبدار تحقیقات کر کے رپورٹ مرتب کی جائیگی۔

Similar Posts