عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ ہلاکتیں ٹائیگر کنگڈم نامی پارک میں ہوئی ہیں جہاں موجودہ انتظامیہ سے ہفتے کے روز رابطہ نہیں ہو سکا۔
چیانگ مائی میں صوبائی لائیو سٹاک آفس نے جمعہ کو بتایا کہ جانچ میں چیتوں میں انتہائی متعدی کینائن ڈسٹیمپر وائرس کے ساتھ ساتھ نظامِ تنفس پر اثر ڈالنے والے بیکٹیریا کی موجودگی بھی پائی گئی۔
قومی لائیو اسٹاک ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ جب چیتے بیمار پڑتے ہیں تو بلیوں یا کتوں جیسے جانوروں کی نسبت ان کا پتہ لگانا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ جب تک ہمیں احساس ہوا کہ وہ بیمار ہو گئے تھے تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔
جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم پیٹا ایشیا نے اے ایف پی کو بتایا کہ چیتے اسی طریقے سے ہلاک ہوئے جیسے وہ زندہ تھے۔ بہت تکلیف، قید اور خوف کے ماحول میں ہوئی۔
ماہرین نے اس واقعے پر تشویش ظاہر کی کہ نجی جانوروں کے پارکوں میں بیماریوں کی نگرانی اور حفاظتی اقدامات میں اضافہ ناگزیر ہے۔