پاکستان نیوزی لینڈ میچ واش آؤٹ ہونے کا کیا مطلب ہے، بھارت فکرمند کیوں؟

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان کولمبو میں ہفتہ کے روز کھیلا جانے والا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا اہم سپر ایٹ مرحلے کا میچ بارش کی نذر ہو گیا۔ مسلسل بارش کے باعث ایک بھی گیند پھینکے بغیر میچ منسوخ کر دیا گیا اور چونکہ اس مقابلے کے لیے کوئی ریزرو ڈے مقرر نہیں تھا، اس لیے دونوں ٹیموں کو ایک، ایک پوائنٹ دے دیا گیا تھا۔

بھارتی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی ٹیم کی سیمی فائنل تک رسائی کی راہ مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ سلمان علی آغا کی قیادت میں پاکستان کو ایونٹ میں اب مزید دو میچز کھیلنا ہیں، جو انگلینڈ اور سری لنکا کے خلاف ہوں گے۔ اگر پاکستان دونوں میچ جیت لیتا ہے تو اس کے پوائنٹس کی تعداد پانچ ہو جائے گی، جو انہیں فائنل فور میں جگہ دلانے کے لیے کافی سمجھی جا رہی ہے۔

تاہم اگر پاکستان ایک میچ جیتے اور ایک ہار جائے تو اس کے پوائنٹس تین رہ جائیں گے، اور ایسی صورت میں سیمی فائنل میں رسائی کا انحصار دیگر ٹیموں کے نتائج پر ہوگا۔ اگر قومی ٹیم دونوں میچ ہار جاتی ہے تو اس کے پاس کوالیفائی کرنے کا کوئی امکان باقی نہیں رہے گا۔

بارش کے باعث میچ کے منسوخ ہونے سے نہ صرف پاکستان بلکہ کیوی ٹیم کی پوزیشن بھی سپر ایٹ مرحلے میں مزید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔

سری لنکا کے موسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ میچوں میں بھی اسی نوعیت کے نتائج یا کسی ایک شکست کی صورت میں دونوں ٹیموں کی سیمی فائنل تک رسائی کی امیدوں کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ کولمبو کرکٹ اسٹیڈیم میں ہلکی بوندا باندی کے دوران پاکستان نے نیوزی لینڈ کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا، تاہم کچھ ہی دیر بعد بارش تیز ہو گئی تھی جس پر امپائرز نے میچ منسوخ کردیا تھا۔

پاکستان اب 24 فروری کو اسی مقام پر انگلینڈ کے مدمقابل ہوگا، جبکہ نیوزی لینڈ 25 فروری کو کولمبو میں میزبان سری لنکا کے خلاف میدان میں اترے گا۔

دوسری جانب بھارت کو اس بات کی فکر ستانے لگی ہے کہ اگر پاکستان سیمی فائنل میں پہنچ گیا تو وہ ممبئی میں سیمی فائنل میچ نہیں کھیل سکے گا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے ممکنہ سیمی فائنل سے قبل ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے مطابق بھارت کو ممبئی کے تاریخی میدان وانکھیڈے اسٹیڈیم میں سیمی فائنل کھیلنے کا موقع شاید نہ مل سکے۔

موجودہ شیڈول کے مطابق اگر بھارت سپر ایٹ مرحلے سے کوالیفائی کر کے سیمی فائنل میں پہنچتا ہے تو اسے 5 مارچ کو ممبئی میں ہونے والا دوسرا سیمی فائنل کھیلنا تھا۔ تاہم یہ صورتحال ایک خاص شرط کے تحت تبدیل ہو سکتی ہے۔

اگر سپر ایٹ مرحلے کے گروپس کے نتائج اس انداز میں سامنے آتے ہیں کہ سیمی فائنل میں بھارت اور پاکستان کا ٹاکرا طے پا جائے، تو پھر یہ میچ ممبئی کے بجائے سری لنکا کے شہر کولمبو میں کھیلا جائے گا۔

اس صورتحال کی وضاحت یوں کی گئی ہے کہ اگر بھارت اپنے سپر ایٹ گروپ میں پہلی پوزیشن حاصل کرے اور پاکستان دوسرے نمبر پر رہے، یا اس کے برعکس پاکستان پہلے اور بھارت دوسرے نمبر پر رہے، تو دونوں ٹیمیں سیمی فائنل میں آمنے سامنے ہوں گی۔ ایسی صورت میں بھارت 5 مارچ کو وانکھیڈے اسٹیڈیم میں دوسرا سیمی فائنل نہیں کھیلے گا بلکہ اسے 4 مارچ کو کولمبو میں پہلا سیمی فائنل کھیلنا ہوگا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ 4 مارچ کو بھارت میں ہولی کا تہوار منایا جاتا ہے، اور اس ترتیب کے تحت بھارتی ٹیم کو اسی دن میدان میں اترنا پڑے گا۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے اپنے ایک سابقہ اعلامیے میں واضح کیا تھا کہ اگر سیمی فائنل میں بھارت اور پاکستان کا مقابلہ طے پاتا ہے تو یہ میچ کولمبو میں منعقد ہوگا، جبکہ ممبئی میں ہونے والا دوسرا سیمی فائنل اس صورت میں بھارت کھیلے گا جب اس کا مقابلہ پاکستان کے علاوہ کسی اور ٹیم سے ہوگا۔

مزید برآں، اگر پاکستان سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرتا ہے تو پہلے سیمی فائنل کا مقام بھی تبدیل ہو جائے گا۔ ابتدائی طور پر پہلا سیمی فائنل کولکتہ کے ایڈن گارڈنز میں شیڈول تھا، لیکن پاکستان کی موجودگی کی صورت میں اسے کولمبو منتقل کر دیا جائے گا۔

یہ تمام تبدیلیاں بھارت اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے ہائبرڈ ماڈل معاہدے کے تحت ہوں گی، جو 2027 تک مؤثر ہے۔ اس معاہدے کے مطابق دونوں روایتی حریفوں کے درمیان ہونے والے تمام میچز نیوٹرل وینیو پر کھیلے جائیں گے، اسی لیے ممکنہ سیمی فائنل کے لیے بھارت کو سری لنکا کا سفر کرنا پڑے گا۔

مزید حیران کن پہلو یہ ہے کہ اگرچہ سری لنکا اس ٹورنامنٹ کا شریک میزبان ہے، لیکن ممکنہ سیمی فائنل کی صورت میں اسے خود بھارت کا سفر کرنا پڑ سکتا ہے۔

Similar Posts