امریکا نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر اپنے سیکڑوں فوجیوں کو قطر اور بحرین کے اڈوں سے واپس بلا لیا۔
گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق ممکنہ لڑائی کے پیشِ نظر اپنے چند سو فوجیوں کو قطر اور بحرین کے اڈوں سے واپس بلانے کا احتیاطی فیصلہ کیا ہے، جسے دفاعی حکمت عملی اور سلامتی وجوہات سے جوڑا جا رہا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ سینکڑوں فوجیوں کی واپسی کا عمل سعودی، خلیجی اور نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مشاورت کے بعد شروع کیا گیا، اور اس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں فوجی استعداد اور ردعمل کو زیادہ مؤثر انداز سے منظم کرنا بتایا گیا ہے۔
دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ اس پر کسی بھی حملے کی صورت میں وسیع ردعمل دیا جائے گا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو بھیجے گئے خط میں ایران کے مستقل مشن نے کہا کہ اگر ایران کو نشانہ بنایا گیا تو خطے میں موجود امریکی اڈے اور تنصیبات ممکنہ اہداف سمجھے جائیں گے۔
خط میں کہا گیا کہ ایسی کسی بھی کارروائی کے نتائج غیر متوقع اور بے قابو ہو سکتے ہیں، اور اس کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہو گی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری سکیورٹی حالات، دفاعی توازن اور سفارتی کوششیں ایک ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں تاکہ عدم استحکام کی صورت میں باہمی تعاون اور امدادی حکمت عملی مضبوط رہے، جبکہ عالمی طاقتوں کے درمیان رابطے اور مشاورت جاری ہے۔