یہ انتخابات شفاف بھی کہے گئے ہیں اور غیر جانبدار بھی ۔ اِکا دُکا ناقابلِ ذکر واقعات کے سوا، بنگلہ دیشیوں نے تمام پولنگ اسٹیشنز کو پُر امن رکھا۔ مذکورہ پارلیمانی انتخابات کی نگرانی کرنے والے عالمی اداروں ، انٹرنیشنل آبزرورز، بنگلہ دیش پہنچنے والے سیکڑوں غیر ملکی صحافیوں اور یورپین یونین ، سبھی نے بیک زبان اقرار و اعتراف کیا ہے کہ 12فروری کے بنگلہ دیشی انتخابات فیئر اینڈ فری تھے ۔یوں ہم نوبل انعام یافتہ ( پروفیسر محمد یونس) کی زیر نگرانی بنگلہ دیش کی (سابقہ) عبوری حکومت کو شاباش دے سکتے ہیں ۔
مذکورہ بنگلہ دیشی انتخابات میں ’’عوامی لیگ‘‘ کو انتخابات سے باہر رکھا گیا ۔ ’’عوامی لیگ‘‘ کی سربراہ اور سابق وزیر اعظم(شیخ حسینہ واجد) پر متعدد سنگین الزامات عائد تھے ۔ اِسی وجہ سے حسینہ واجد کی حکومت اگست2024میں ختم ہو گئی تھی اور حسینہ واجد بنگلہ دیش سے فرار ہو کر بھارت پناہ گزیں ہو گئی تھیں ۔ موصوفہ اب تک وہیں ہیں۔ حسینہ واجد کی غیر حاضری میں بنگلہ دیشی عدالت نے اُنہیں سزائے موت بھی سنائی۔ پروفیسر محمد یونس کی عبوری حکومت نے بھارت سے کئی بار مطالبہ کیا کہ مجرم و سزا یافتہ حسینہ واجد کو بنگلہ دیش کے حوالے کیا جائے ۔ یہ مطالبہ مگر ابھی تک تسلیم نہیں کیا گیا۔
بارہ فروری کے انتخابات کا ایک اہم منظر یہ بھی سامنے آیا کہ بنگلہ دیش کے جن انقلابی اور تعلیم یافتہ نوجوانوں نے حسینہ واجد کا تختہ اُلٹ کر نئی سیاسی جماعت(NCP)بنائی تھی ، وہ کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکی ۔’’این سی پی ‘‘ کے سربراہ ناہید اسلام ہیں۔ اُن کی پارٹی صرف 7سیٹیں حاصل کر سکی ہے۔ حالانکہ اندازے یہی تھے کہ NCPبھاری اکثریت سے انتخابات جیتے گی ۔ بنگلہ دیش کی سیاست و انتخابات پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ’’نیشنل سٹیزن پارٹی‘‘ یعنی ’’این سی پی‘‘ کو اس لیے انتخابات میں شکست ہُوئی ہے کہ اُس نے بنگلہ دیش کی جماعتِ اسلامی سے انتخابی اتحاد کیا تھا ۔
اندازے اور توقعات تو یہ بھی تھیں کہ جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش ( جس کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن ہیں)، بھی بھاری اکثریت سے انتخابات جیت کر حکمران جماعت بن جائے گی ۔ ہم نے تو اِنہی اندازوں اور قیافوں کی اساس پر اِنہی صفحات پر ’’ کیا جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کا اقتدار سنبھالنے کو تیار ہے؟‘‘ کے زیر عنوان کالم بھی لکھ دیا تھا ۔ مگر جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش ، دیگر کئی بنگلہ دیشی مذہبی جماعتوں کی طرح، ایسی بھاری کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکی ہے کہ بنگلہ دیش کے اقتدار پر براجمان ہو سکے ۔
عام پارلیمانی انتخابات نے یہ سنہری اور تاریخی موقع BNP ( بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی) کو عطا کیا ہے ۔ بی این پی دو تہائی سے زائد اکثریت حاصل کر کے حکمران جماعت بن چکی ہے۔ بی این پی کے سربراہ جناب طارق رحمن بنگلہ دیش کے نئے وزیراعظم بھی بن چکے ہیں اور 24رکنی کابینہ بھی تشکیل دے چکے ہیں ۔جناب طارق رحمن کے والد گرامی( جنرل ضیاء الرحمن مرحوم ) بھی بنگلہ دیش کے صدر تھے( پارٹی کے بانی بھی) اور اُن کی والدہ محترمہ( خالدہ ضیاء مرحومہ) بھی بنگلہ دیش کی وزیر اعظم رہی ہیں ۔
بنگلہ دیش کے بارہ فروری2026کے انتخابات میں اصل مقابلہ ’’بی این پی ‘‘ اور ’’جماعتِ اسلامی ‘‘ ہی میں تھا۔ جماعتِ اسلامی کو مگر صرف 77سیٹوں پر کامیابی ملی ہے۔ ہمارے نزدیک تو یہ بھی عظیم الشان انتخابی کامیابی ہے۔ خاص طور پر جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اتنی سیٹیں تو کسی جنرل الیکشن میں پاکستان کی جماعتِ اسلامی کو بھی پچھلے78برسوں میں کبھی نہیں مل سکی ہیں۔
اِس پس منظرمیں بنگلہ دیش کی جماعتِ اسلامی کی یہ کامیابی ایک عظیم الشان کامیابی ہی نظر آنی چاہیے۔ مگر جماعتِ اسلامی کے نقادوں اور مخالفین کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں جماعت ِ اسلامی کو انتخابی شکست ہُوئی ہے ۔ حتمی انتخابی نتائج کے بعد بظاہر تو ایسا ہی نظر آ رہا ہے۔ ویسے بنگلہ دیش کی کئی دیگر اسلامی ومذہبی جماعتوں کو حالیہ تازہ انتخابات میں زبردست شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مثال کے طور پر :بنگلہ دیش خلافت مجلس کو 2، اور خلافت مجلس( زی) و اسلامی اندولن بنگلہ دیش نے محض ایک ایک سِیٹ جیتی ہے۔بنگلہ دیش میں بروئے کار ’’جمعیت العلمائے اسلام‘‘ (جس کے سربراہ مولانا ممنون الحق ہیں) تو ایک بھی سِیٹ نہیں جیت سکی ، حالانکہ اِس جماعت کے بنگلہ دیش کی تبلیغی جماعت میں گہرے اثرات ہیں ۔
جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کے اقتدار حاصل کرنے میں ناکامی کی ایک وجہ بیان کرتے ہُوئے مقامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ’’ بنگلہ دیش کی کئی مذہبی جماعتیں بھی جماعتِ اسلامی کے خلاف تھیں ۔ مثلاً: جے یو آئی کے دو بڑے علماء نے جماعتِ اسلامی کے خلاف فتویٰ دیا کہ اِسے ووٹ دینا حرام ہے۔ اِسی طرح بنگلہ دیش کی بریلوی جماعت کے وابستگان نے بھی جماعتِ اسلامی کو ووٹ نہیں دیے ۔‘‘ اگر ہم ’’برکلے سینٹر‘‘ میں شائع شدہ لامیا کریم کا تفصیلی مقالہ بعنوان Tableghi Jamaat and Regulation of Women in Bangladeshکامطالعہ کریں توسمجھ آ جاتی ہے کہ بنگلہ دیش کی ’’جمعیت العلمائے اسلام‘ کو بارہ فروری کے انتخابات میں زبردست شکست کیوں ہُوئی ؟ ہمارا بنیادی سوال مگر یہ ہے کہ جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش توقعات کے مطابق بڑی کامیابی کیوں حاصل نہ کر سکی ؟ بعض باخبر حلقے اور بنگلہ دیش میں جماعتِ اسلامی پر کڑی نظر رکھنے والے محققین کا دعویٰ ہے کہ اِس انتخابی شکست کے اصل ذمے دار خود امیرِ جماعت ہیں۔
انتخابات کی گرمی کے عین درمیان میں جماعتِ اسلامی کے ایک معروف لیڈر ( ٹھاکر گاؤں ضلع کے امیر بلال الدین) ائر پورٹ پر نقد 50لاکھ ٹکہ کے ساتھ گرفتار کیے گئے ۔ حالانکہ جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کی مرکزی قیادت نے بہتیرا شور مچایا کہ یہ رقم کسی انتخابی مقصد کے لیے نہیں تھی ، بلکہ اُن کی کاروباری تھی، مگر جماعت کے مخالفین نے اِس بنیاد پر بے حد منفی پروپیگنڈہ کیا ۔
پھر انتخابات سے قبل امیرِ جماعت ، ڈاکٹر شفیق الرحمن ، سے منسوب ایک ایسے ٹویٹ میسج نے خواتین ووٹروں کو بددل کر دیا جس میں مبینہ طور پر بنگلہ دیشی خواتین کی توہین کا پہلو نکلتا تھا ۔ جماعتِ اسلامی نے سوشل میڈیااور مین اسٹریم میڈیا پر اِس کی وضاحت کرتے ہُوئے بہت کہا کہ ’’امیرِ جماعت کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ہیک کرکے یہ میسج ٹائپ کیا گیا‘‘ مگر تب تک ٹوئیٹر میسج اپنا منفی اور تباہ کن اثرات مرتب کر چکا تھا ۔ بعد ازاں اِس ٹویٹ میسج کو جماعت والوں نے ڈیلیٹ بھی کر دیا ۔
انتخابات سے چند دن قبل امیرِ جماعت بنگلہ دیش( ڈاکٹر شفیق الرحمن صاحب) نے ’’الجزیرہ‘‘ کے صحافی(معصوم باللہ) کو جو تفصیلی انٹرویو دیا تھا، اِس نے بھی بنگلہ دیشی خواتین ووٹروں کو جماعت سے دُور کر دیا ۔ خواتین بارے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں امیرِ جماعت نے کہا تھا:’’ مرد بچہ جَن سکتا ہے نہ مرد اپنی چھاتی سے بچے کو دُودھ پلا سکتا ہے ۔ہم اللہ کی تقسیم نہیں بدل سکتے ۔ہم خواتین کو الیکشن لڑنے کے لیے جماعت کا ٹکٹ دے سکتے ہیں نہ کوئی خاتون جماعت کی سربراہ بن سکتی ہے ۔‘‘اِس بیان پر جماعتِ اسلامی کی مخالف جماعتوں نے یہ کہہ کر کہ ’’جماعتِ اسلامی خواتین کی برابری کی دشمن ہے ‘‘ اور یہ کہ’’ جماعتِ اسلامی خواتین کے بنیادی حقوق بھی تسلیم کرنے سے انکاری ہے ‘‘ ، خوب منفی پروپیگنڈہ کیا۔
جماعت کے خلاف انتخابی بھَد اُڑانے کی کوششیں کی گئیں ۔ جماعت مخالف بعض بنگلہ دیشی ’’دانشوروں‘‘ نے تو یہاں تک کہا کہ ’’ایران اور افغانستان میں مقتدر مذہبی جماعتیں خواتین سے جو سلوک کررہی ہیں ، کیا اِس پیش منظر میں بنگلہ دیشی خواتین جماعتِ اسلامی کو ووٹ دینے کا رِسک لے سکتی ہیں؟۔‘‘ گویا جماعتِ اسلامی کو ہرانے کے لیے کئی قوتیں میدان میں کود پڑی تھیں ۔ بھارت کا خفیہ ہاتھ الگ کارفرما تھا ۔ ’’عوامی لیگ‘‘ کے ووٹ بھی جماعت کی حریف(بی این پی کو) پڑے ہیں ۔