تفصیلات کے مطابق آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ میں عثمان طارق اپنی منفرد بولنگ ایکشن کی وجہ سے توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں، پاکستانی اسپنر کے غیر روایتی انداز نے نہ صرف شائقین بلکہ کرکٹ کے ماہرین کو بھی حیران کر دیا ہے۔
عالمی کپ کے ابتدائی میچز میں 8 وکٹیں حاصل کرکے انھوں نے ثابت کیا کہ ان کی انوکھی تکنیک محض دکھاوا نہیں بلکہ مؤثر ہتھیار بھی ہے۔
منفرد اسٹائل میں بولنگ کے حوالے سے عثمان طارق کا کہنا تھا کہ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ بولنگ ایکشن کو اس قدر توجہ ملے گی۔
میڈیا سے بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ میں ہر لمحے سے لطف اندوز ہو رہا اور ٹیم کی کامیابی میں کردار ادا کرنے پر خوش ہوں۔
عثمان طارق نے کہا کہ کمنٹیٹرز اور سابق کرکٹرز کی جانب سے ملنے والی تعریف ان کے لیے اعزاز اور وہ مزید بہتر کارکردگی دکھانے کے لیے پرعزم ہیں۔
منفرد ایکشن کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ٹینس بال کے ساتھ کرکٹ کھیلنے کے دوران یہ انداز اپنایا، بولنگ کو سلو موشن میں دیکھا جائے تو ٹائمنگ مکمل طور پر درست نظر آتی ہے، بس رفتار میں معمولی فرق ہوتا ہے۔
سپر ایٹ مرحلے کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے عثمان طارق نے کہا کہ پاکستانی اسپنرز نے واضح حکمت عملی تیار کر رکھی ہے، اگر وکٹ سے اسپنرز کو مدد ملی تو اپنی منصوبہ بندی پر بہتر انداز میں عمل درآمد کر سکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہر میچ ایک نیا امتحان ہوتا اور ٹیم کی پوری توجہ اگلے مقابلے میں کامیابی حاصل کرنے پر مرکوز ہے۔
عثمان طارق نے اپنے مخصوص ہیڈ بینڈ کے بارے میں بھی بتایا کہ بولنگ کے دوران بال اکثر آنکھوں کے سامنے آجاتی تھی جس سے توجہ متاثر ہوتی تھی، اس لیے انہوں نے ہیڈ بینڈ پہننا شروع کیا، شائقین کی جانب سے اس انداز کو سراہا جا رہا ہے تو وہ اسے جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔