مفاہمتی سیاست کے کمزور امکانات

پاکستان کی سیاست آگے بڑھنے کے لیے واحد حل مفاہمت کی سیاست کو اختیار کرنے اور تصادم سے گریز کی پالیسی ہے ۔ جو لوگ یہ سوچ رکھتے ہیں کہ ہم ہٹ دھرمی کے ذریعے اپنی جارحانہ سیاست کو آگے بڑھا سکتے ہیں تو یہ درست نہیں ہے ۔ سیاست کا بڑا سبق ہی یہ ہے کہ گھیراؤ جلاؤ کو بنیاد بنا کر ہم اپنی مخالف سیاسی قوتوں کو ختم نہیں کرسکتے۔ آج قومی سیاست کا بیانیہ مفاہمت اور مزاحمت کی سیاست کے درمیان تقسیم ہے۔

اس تقسیم نے قومی سیاست سمیت پورے ریاستی نظام کو متاثر کیا ہے ۔پچھلے کچھ دنوں میں مختلف سیاسی حرکیات کی بنیاد پر یہ تاثر قائم ہوا کہ قومی سیاست ٹکراؤ سے مفاہمت کی جانب بڑھنے کی طرف پیش قدمی کی جا رہی ہے۔لیکن یہ تاثر ایک بار پھر کمزور ہورہا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ مفاہمت کی حقیقی سیاست کم جب کہ مفاہمت کے نام پر مفاد پرستی غالب نظر آتی ہے۔

جب کوشش یہ ہوگی کہ جو بھی مفاہمت ہوگی اس میں کچھ نہ کرنے والوں کو ہی سیاسی برتری حاصل ہوگی تو پھر مفاہمت کی سیاست کے امکانات کمزور ہوجاتے ہیں۔یہ ہی کہانی اس وقت پاکستان کی داخلی سیاست میں دیکھنے کو مل رہی ہے جہاں سیاسی بات چیت یا مفاہمت کے مقابلے میں ہمیں مفاد پرستی دیکھنے کو مل رہا ہے ۔

جب مفاہمت کی باتیں کرنے والے حلقوں میں سیاست کے نام پر مفاد پرستی کا کھیل غالب ہوگا اور سب ہی ایک دوسرے کو پیچھے کر کے خود اپنی سیاسی برتری چاہتے ہیں تو پھر مفاہمت کی سیاست پس پشت چلی جاتی ہے ۔اسی طرح ایسے بھی لگتا ہے کہ ہمارے یہاں مفاہمت کے نام پر سیاسی ایشوز کو برتری نہیں بلکہ شخصیت پرستی کے کھیل کو برتری حاصل ہے ۔ اس وقت کچھ لوگ بانی پی ٹی آئی کو مائنس کرنے اور ’’ قومی حکومت ‘‘ کی باتیں کررہے ہیں ۔ایک طرف قوم مختلف قسم کے بیانیوں میں تقسیم ہے ۔

ایک حکومتی وزیر نے بانی پی ٹی آئی اور پی ٹی آئی سے مفاہمت پر مبنی پس پردہ بات چیت کا انکشاف کیا اور ان کے بقول بانی پی ٹی آئی کے سخت گیر رویہ کی وجہ سے مفاہمت کا عمل آگے نہیں بڑھ رہا ۔جب کہ دوسری طرف حکومتی وزرا اور ان کے بیشتر سیاسی و صحافتی سطح کے ترجمان مسلسل اس بات کی تردید کررہے ہیں کہ حکومت کی سطح پر کسی بھی طور پر بانی پی ٹی آئی یا پی ٹی آئی کے ساتھ کوئی ڈیل یا ڈھیل کی باتوں میں صداقت نہیں۔اسی طرح حکومتی سطح سے یہ بیانات بھی دیے گئے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کی بہنیں مفاہمت کی سیاست میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں اور خود پی ٹی آئی کے سرکردہ راہنما بھی بانی کی بہنوں کی سیاست سے نالاں ہیں۔ اچانک سیاسی منظر نامہ میں کے پی کے سابق وزیر اعلی علی امین گنڈا پور ، شیر افضل مروت سمیت بانی پی ٹی آئی یا ان کی بہنوں کی مخالفت میں تیزی آرہی ہے ، یہ بھی ایک خاص کھیل کی نشاندہی کرتا ہے ۔

اسی طرح ابھی تک بانی پی ٹی آئی کی بیماری پر ان کے خاندان اور فیملی ڈاکٹرز تک رسائی نہ دینے سے بھی پی ٹی آئی میں فریسٹریشن بڑھ رہی ہے ۔کے پی کے، کے وزیر اعلی سہیل آفریدی کے خلاف علی امین کا براہ راست سامنے آنا اور الزامات کی سیاست پی ٹی آئی کی داخلی سیاست میں موجود بہت سی خرابیوں کی بھی نشاندہی کررہی ہے ۔ایسے لگتا ہے کہ پی ٹی آئی میں سیاسی تقسیم بڑھ رہی ہے اور پارٹی راہنماؤں کا پارٹی پر کنٹرول نہ ہونا بھی اس وقت پارٹی کی موجودہ قیادت کی ناکامی کی صورت میں دیکھنے کو مل رہا ہے ۔کے پی کے، کے وزیر اعلی کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کی رہائی فورس کمیٹی بنانے پر بھی پارٹی قیادت تقسیم ہے اور اس فیصلہ کو پسند کی نگاہ سے نہیں دیکھا گیا ۔

دوسری جانب قومی ڈائیلاگ کمیٹی ملک میں ’’ نئی قومی حکومت ‘‘کی تشکیل کا بیانیہ بنانے کی تگ ودو میں مصروف ہے ، ان کے بقول اس وقت سیاسی سطح پر موجود بحران کا حل تمام جماعتوںپر مشتمل قومی حکومت ہے جو سیاسی ٹکراؤ کے ماحول کو کم کرے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ پہلے ہی یہ حکومت، قومی حکومت ہے اور اس میں بیشتر سیاسی جماعتیں حکومت کا حصہ ہیں ۔لیکن دوسری بات یہ ہے کہ پاکستان کی سیاست میں قومی سطح پر قومی حکومت کی کہانی نئی نہیں ہے ۔ہم اکثر اس طرز کی حکومت کو مسائل کا حل سمجھتے ہیں بلکہ اس سے پہلے یہ بیانیہ بھی بنایا گیا تھا کہ اگر ملک میں یک جماعتی نظام کے مقابلے میں مخلوط حکومتیں ہوں گی تو مسائل حل ہوسکیں گے ،مگر ایسا نہیں ہوسکا ۔جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ قومی حکومت ان حالات میں مسائل کا حل ہے تو اس قومی حکومت کی تشکیل کون کرے گا، اس کی پشت پناہی کون کرے گا ، کون اس کا سربراہ ہوگا ، کتنے مدت کی حکومت ہوگی ،کیا ایجنڈا ہوگا اور کن اصلاحات کو بنیاد بنایا جائے گا اور اگر یہ لمبی مدت کی حکومت ہوگی تو اس سے کیا مسائل اور زیادہ نہیں بڑھیں گے ۔

سب سے بڑھ کر ساری سیاسی جماعتوں پر مشتمل اس سیاسی کچھڑی سے ہم کیسے قومی مسائل کا حل تلاش کرسکیں گے اور کیسے یہ بڑے قد کاٹھ کے لوگ ایک دوسرے کو برداشت کریں گے یا یہ بھی سب قومی حکومت کے نام پر نئی سیاسی بندر بانٹ کا حصہ ہوں گے۔یہ تو کہا جاتا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے سیاسی لچک کا مظاہرہ نہیں ہوتا لیکن یہ سوال کوئی بتانے کے لیے تیار نہیں ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے مفاہمت کے لیے ان کے پاس کیا لچک ہے ۔حکومت تو سمجھتی ہے کہ پی ٹی آئی جتنی زیادہ سیاسی طور پر دیوار سے لگے گی اور جتنا ان کا اسٹیبلیشمنٹ سے ٹکراؤ ہوگا اتنا ہی ان کے سیاسی حق میں بہتر ہوگا ۔اس لیے موجودہ حالات میں سیاسی بہتری یا پی ٹی آئی کے لیے سیاسی راستے کی تلاش حکومت کا ایجنڈا نہیں ہوسکتا۔

یہاں یہ اعتراف بھی کرنا ہوگا کہ پی ٹی آئی کی اپنی سیاسی قیادت نے بھی مفاہمت کی سیاست میں اپنے کارڈ بہت زیادہ ہوشیاری کی بنیاد پر نہیں کھیلے اور وہ مفاہمت سے زیادہ ایک دوسرے کے یا حکومت اور اسٹیبلیشمنٹ دشمنی کا شکار رہے ہیں۔جب آپ حزب اختلاف میں ہوتے ہیں تو آپ کو حکومت سے زیادہ سیاسی لچک کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے اور جو کچھ آپ مطالبات کے نام پر مانگ رہے ہوتے ہیں وہ ممکن نہیں ہوتا۔اس کے لیے پہلے جو سیاسی جمود ہے اسے توڑ کر اپنے لیے سیاسی راستہ تلاش کرنا ہوتا ہے۔

جب آپ سیاسی راستے کو تلاش کرلیتے ہیں تو پھر باقی کے سیاسی کارڈ بھی کھیلے جاسکتے ہیں ۔اب بھی پی ٹی آئی کی قیادت بالخصوص بانی پی ٹی آئی کو ایک ایسے راستے کا رخ اختیار کرنا ہوگا جو ان کے لیے نئے سیاسی راستوں کی تلاش میں مددکرسکے ۔اس تاثر کی پی ٹی آئی کو نفی کرنا ہوگی کہ وہ سیاسی ڈیڈلاک کا شکار ہے بلکہ اسے حکومت کی اپنی داخلی خامیوں اور تضادات کو نمایاں کرنا ہوگا۔پی ٹی آئی جس کی پارلیمان میں ایک اچھی تعداد ہے پارلیمانی سطح پر بھی موثر کردار ادا نہیںکرسکی اوردوسری طرف احتجاج کی سیاست میں اسے مختلف مراحل میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا جو ان کے لیے مسائل پیدا کرنے کا سبب بھی بن رہا ہے ۔

Similar Posts