سہولت کاری اور دہشت گردی

خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں ایف سی کے قلعے پر کواڈ کاپٹر ڈرون حملے کے بعد زخمی اہلکاروں کو لے جانے والی ایمبولینسوں کو نشانہ بنانا محض ایک دہشت گرد کارروائی نہیں بلکہ انتہائی بزدلانہ لیکن ایک منظم، کثیر الجہتی اور تکنیکی طور پر ارتقأ یافتہ جنگ کا اظہار ہے جوافغانستان کی سرزمین کو استعمال کرکے انتہاپسند دہشت گرد قوتیں کے ذریعے پاکستان کے خلاف مسلسل لڑی جارہی ہے۔ ضلع کرک کے بہادر خیل کے علاقے میں پیش آنے والا دہشت گردی کا یہ واقعہ، جس میں ابتدائی ڈرون حملے کے بعد فائرنگ اور ایمبولینسوں کو نذر آتش کرنے جیسے سفاکانہ، جاہلانہ اور پرلے درجے کا بزدلانہ اقدامات شامل تھے۔

 اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ دہشت گرد گروہ نہ صرف عسکری اہداف کو چیلنج کر رہے ہیں بلکہ انسانی اقدار، جنگی اخلاقیات اور ریاستی و حکومتی رٹ کو بھی براہ راست نشانہ بنا رہے ہیں۔ اسی دوران خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں سیکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں چار خارجیوں کی ہلاکت اور ان کے بھارتی پراکسی نیٹ ورک سے تعلق کے انکشاف نے اس وسیع تر منظر نامے کو مزید واضح کیا ہے کہ پاکستان کو درپیش دہشت گردی محض داخلی بے چینی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم پراکسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

 دہشت گردی کے واقعات میں دوبارہ اضافہ اس بات کا اشارہ ہے کہ دشمن نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کی ہے۔ اب روایتی خودکش حملوں کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کا استعمال، سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں اور مقامی سہولت کاری کو یکجا کر کے ایک ہائبرڈ جنگ مسلط کی جا رہی ہے۔ ڈرون حملوں کا رجحان اس نئی جنگی حکمت عملی کا اہم پہلو ہے۔ کواڈ کاپٹر جیسے سستے مگر مؤثر آلات کی مدد سے قلعوں اور چیک پوسٹوں کو نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گرد گروہ تکنیکی معاونت اور تربیت حاصل کر رہے ہیں۔

یہ ٹیکنالوجی مقامی سطح پر آسانی سے دستیاب نہیں، اس کے لیے مالی وسائل، تربیت اور لاجسٹک سپورٹ درکار ہوتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بیرونی ہاتھ کے شواہد سامنے آتے ہیں۔ پاکستان متعدد بار یہ مؤقف اختیار کر چکا ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ خطے میں عدم استحکام کو ہوا دینے کے لیے سرگرم ہے۔ افغانستان کی صورتحال اس تناظر میں کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔ 2021 میں اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد اور اس سے قبل دوحا معاہدے میں طالبان نے یقین دہانی کرائی کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، مگر زمینی حقائق پیچیدہ ہیں۔پاک افغان سرحدی علاقوں میں کالعدم دہشت گرد تنظیموں، جرائم پیشہ مافیاز کی موجودگی، منشیات کی آزادانہ کاشت ، تیاری ، منشیات کا کاروبار، اسلحے کی آزادانہ نقل و حرکت اور نگرانی کے نظام کی کمزوری نے دہشت گردوں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع دیا۔

دہشت گردوںکے لیے سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں کابل پر قابض انتہاپسند حکمرانوں اور ان کے سرپرستوں کے لیے ایک اسٹرٹیجک اثاثہ ہیں۔ پاکستان پر دباؤ ڈالنے اور پاکستانی معیشت کو نقصان پہنچانے کے لیے ایک کم لاگت مگر مؤثر حکمت عملی ہے، جس کا مقصد پاکستان کو مسلسل داخلی سلامتی کے چیلنج میں الجھائے رکھنا ہے۔ یہ پراکسی حکمت عملی محض عسکری نوعیت کی نہیں بلکہ سیاسی اور معاشی مقاصد بھی رکھتی ہے۔

جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن، مسئلہ کشمیر اور خطے میں چین کا بڑھتا ہوا کردار بھارت کے اسٹرٹیجک حساب کتاب کا حصہ ہیں۔ China-Pakistan Economic Corridor جیسے منصوبے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے معاشی امکانات رکھتے ہیں۔ ان منصوبوں پر حملے دراصل پاکستان کی معاشی شہ رگ کو نشانہ بنانے کے مترادف ہیں۔ دہشت گردی کے ذریعے اگر سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل کیا جائے، ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر ہو اور سیکیورٹی اخراجات میں اضافہ ہو تو معیشت پر دباؤ بڑھتا ہے۔ یہی وہ ہدف ہے جو دشمن کی پراکسی جنگ کے پیچھے کارفرما دکھائی دیتا ہے۔

تاہم خارجی عوامل کے ساتھ ساتھ داخلی کمزوریاں بھی اس مسئلے کا اہم حصہ ہیں۔ دہشت گردی صرف اس وقت پنپتی ہے جب اسے مقامی سطح پر سہولت کاری میسر ہو۔ یہ سہولت کاری نظریاتی ہمدردی، قبائلی یا علاقائی وفاداری، مالی مفاد یا ریاستی اداروں کی کمزور گرفت کی صورت میں سامنے آ سکتی ہے۔ بعض علاقوں میں غربت، بے روزگاری اور تعلیم کی کمی نوجوانوں کو شدت پسند گروہوں کے لیے نرم ہدف بنا دیتی ہے، اگر ریاست ترقیاتی منصوبوں، روزگار کے مواقع اور سیاسی شمولیت کے دروازے بروقت فراہم نہ کرے تو خلا کو شدت پسند قوتیں پُر کر دیتی ہیں۔ انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی میں صرف عسکری کارروائیاں کافی نہیں ہوتیں بلکہ انٹیلی جنس نظام کی بہتری، مقامی کمیونٹی کی شمولیت اور ادارہ جاتی احتساب بھی ناگزیر ہیں۔

قومی ایکشن پلان کا تنقیدی جائزہ بھی وقت کی ضرورت ہے۔ اس منصوبے کے تحت دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے، نفرت انگیز تقاریر کے خلاف کارروائی اور مدارس کی اصلاحات جیسے اقدامات شامل تھے۔ ابتدا میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ بعض پہلوؤں پر عمل درآمد کی رفتار سست پڑ گئی۔ دہشت گردی ایک متحرک خطرہ ہے جو بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھالتا ہے، اس لیے پالیسی کو بھی مسلسل اپ ڈیٹ کرنا ہوگا۔ سائبر اسپیس میں شدت پسند مواد کی روک تھام، کرپٹو کرنسی یا غیر رسمی مالیاتی نظام کے ذریعے فنڈنگ کی نگرانی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے خلاف مؤثر حکمت عملی ناگزیر ہو چکی ہے۔

علاقائی سفارت کاری بھی اس جنگ کا اہم محاذ ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ افغانستان کے ساتھ سرحدی مینجمنٹ، انٹیلی جنس شیئرنگ اور کالعدم تنظیموں کے خلاف مشترکہ اقدامات پر واضح اور دوٹوک بات کرے۔ اسی طرح عالمی برادری کو باور کرانا ضروری ہے کہ خطے میں عدم استحکام کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ بین الاقوامی امن کے لیے خطرہ ہے، اگر افغانستان ایک بار پھر پراکسی جنگوں کا میدان بنتا ہے تو اس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔میڈیا اور بیانیے کی جنگ کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ دہشت گردی کا مقصد صرف جانی نقصان نہیں بلکہ خوف اور مایوسی پھیلانا ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے جھوٹی خبروں، پراپیگنڈے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیا جاتا ہے۔

اس کے مقابلے میں ریاست کو شفاف معلومات، بروقت حقائق اور مثبت بیانیے کے ذریعے عوام کا اعتماد بحال کرنا ہوگا۔ علماء، اساتذہ اور رائے ساز شخصیات کو شدت پسندی کے خلاف واضح موقف اختیار کرنا چاہیے تاکہ نوجوانوں کو گمراہ ہونے سے بچایا جا سکے۔دہشت گردی کے معاشی اثرات بھی گہرے ہیں۔ سیکیورٹی پر بڑھتے اخراجات، سرمایہ کاری میں کمی اور ترقیاتی منصوبوں کی سست روی قومی معیشت کو متاثر کرتی ہے۔ جب غیر یقینی فضا قائم ہو تو کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں اور بیروزگاری میں اضافہ ہوتا ہے، جو خود شدت پسندی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرتا ہے۔

اس شیطانی چکر کو توڑنے کے لیے سیکیورٹی اور ترقی کو ساتھ ساتھ چلانا ہوگا۔ پسماندہ علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری، صحت و تعلیم کی سہولیات اور چھوٹے کاروبار کے فروغ سے مقامی آبادی کا ریاست پر اعتماد بڑھے گا۔ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی فوری اقدامات درکار ہیں۔ کاؤنٹر ڈرون سسٹمز، نگرانی کے جدید آلات اور ڈیٹا اینالیٹکس کے ذریعے خطرات کی پیشگی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔ دنیا بھر میں ہائبرڈ وار فیئر کا تصور مضبوط ہو رہا ہے جس میں روایتی جنگ، سائبر حملے، معلوماتی پراپیگنڈا اور پراکسی گروہوں کا استعمال شامل ہے۔ پاکستان کو بھی اپنی دفاعی حکمت عملی کو اسی تناظر میں جدید بنانا ہوگا۔

آخرکار یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ محض سیکیورٹی فورسز کی ذمے داری نہیں بلکہ سیاسی قیادت، اہل علم اور بزنس کلاس اور تعلیم یافتہ مڈل کلاس کی مشترکہ جدوجہد ہے۔ کرک اور ڈی آئی خان کے واقعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ دشمن اپنی حکمت عملی میں جدت لا رہا ہے اور انسانی اقدار کو بھی پامال کرنے سے دریغ نہیں کرتا۔ اس کے مقابلے میں ریاست کو عسکری، سفارتی، معاشی اور سماجی محاذوں پر مربوط اور طویل المدتی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ داخلی کمزوریوں کا ادراک، مقامی سہولت کاری کا خاتمہ، علاقائی تعاون اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، یہ سب عناصر ایک جامع پالیسی کا حصہ ہونے چاہئیں۔پاکستان نے ماضی میں دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں اور نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

آج ایک بار پھر اسی عزم، اتحاد اور بصیرت کی ضرورت ہے، اگر ہم نے داخلی استحکام کو مضبوط بنیادوں پر استوار کر لیا، خارجہ محاذ پر فعال سفارت کاری کی اور دشمن کی پراکسی حکمت عملی کو بے نقاب کر کے مؤثر جواب دیا تو دہشت گردی کی یہ لہر بھی دم توڑ دے گی۔ بصورت دیگر وقتی ردعمل اور جزوی اقدامات اس پیچیدہ خطرے کا مکمل سدباب نہیں کر سکیں گے۔ قومی سلامتی کا تقاضا ہے کہ ہم اس چیلنج کو محض سیکیورٹی مسئلہ نہ سمجھیں بلکہ اسے ریاستی استحکام، معاشی خود مختاری اور قومی بقا کے تناظر میں دیکھتے ہوئے ایک ہمہ گیر اور مستقل حکمت عملی کے ذریعے آگے بڑھیں۔

Similar Posts