معیشت کے اعداد وشمار اور عام آدمی کی زندگی کے درمیان ایک گہرا خلا پیدا ہو چکا ہے۔ ایک طرف بتایا جاتا ہے کہ مہنگائی کی شرح میں کمی آئی ہے۔ دوسری طرف بازار میں دال، آٹا، چاول،گھی اور سبزیوں کی قیمتیں اب بھی عام مزدورکی پہنچ سے باہر ہیں، اگر کسی شے کی قیمت میں چند روپے کمی بھی ہو جائے تو وہ پچھلے کئی برسوں میں ہونے والے اضافے کے سامنے نہ ہونے کے برابر محسوس ہوتی ہے۔ یہ ریاضی شاید ماہرین کو مطمئن کر دے مگر وہ ماں جو شام کو اپنے بچوں کے لیے روٹی کا بندوبست سوچ رہی ہو، اس کے لیے یہ ریاضی بے معنی ہے۔
شہر میں مختلف علاقوں میں لگے دسترخوان جہاں لمبی قطاریں، ہاتھوں میں برتن، چہروں پر تھکن اور آنکھوں میں ایک خاموش سی شرمندگی۔ کوئی کیمرہ قریب آتا ہے تو کچھ لوگ نظریں چرا لیتے ہیں۔ کیا یہ وہ سماج ہے جس کا خواب ہم نے دیکھا تھا؟ جہاں لوگ سڑک کنارے اس انتظار میں کھڑے ہوں کہ کوئی صاحبِ ثروت افطارکا اہتمام کرے، کوئی این جی او کھانا تقسیم کرے اور وہ اپنے بچوں کا پیٹ بھر سکیں۔
سوال یہ نہیں کہ خیرات دینے والے غلط ہیں۔ بھوک کے سامنے نظریاتی بحثیں بے معنی ہو جاتی ہیں۔ جو شخص کھانا بانٹ رہا ہے، وہ یقیناً ایک انسانی فریضہ ادا کر رہا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ایک پورا سماج اس بات کا عادی ہو جائے کہ اس کی بقا خیرات پر منحصر ہے؟ کیا ریاست کی ذمے داری کو ہم نے صدقات اور عطیات کے سپرد کردیا ہے؟ کیوں عوام اس انتظار میں رہیں کہ کوئی مال دار شخص رحم کھائے اور دسترخوان بچھا دے۔
یہ کیسی معیشت ہے جس میں دولت کے جزیرے بلند ہوتے جا رہے ہیں اور غربت کے سمندرگہرے؟ چند فیصد لوگ لگژری گاڑیوں اور مہنگے ریسٹورنٹس کی رونق بڑھا رہے ہیں اور اکثریت یوٹیلیٹی بلوں اور اسکول فیس کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، اگر مہنگائی کم بھی ہو رہی ہے تو کیا آمدنی میں اضافہ ہوا ہے؟ کیا مزدورکی اجرت اس رفتار سے بڑھی ہے جس رفتار سے گزشتہ برسوں میں قیمتیں بڑھیں، اگر نہیں تو پھر اعداد و شمار کی خوش خبری کس کے لیے ہے؟
چند روز پہلے میری اپنی بیٹی اور داماد سے گفتگو ہو رہی تھی۔ وہ کچھ ایسے اسکولوں سے منسلک ہیں جہاں زیادہ تر بچے لوئر مڈل کلاس گھرانوں سے پڑھنے آتے ہیں۔ ایک اسکول کی پرنسپل نے انھیں جو بات بتائی وہ سن کر میرا دل دہل گیا۔ انھوں نے کہا کہ ایک گھر سے تین بچے اسکول آتے ہیں مگر تینوں میں سے صرف ایک بچہ ناشتہ کر کے آتا ہے۔ اگلے دن دوسرا بچہ ناشتہ کرتا ہے اور تیسرے دن تیسرا۔ گویا ایک ہی گھر میں ناشتہ بھی باری باری تقسیم ہو رہا ہے۔ میں اس صورتِ حال کا تصور کر کے کانپ گئی۔ وہ ماں کس کرب سے گزرتی ہوگی جب اسے یہ طے کرنا پڑتا ہوگا کہ آج کس بچے کو پیٹ بھر کر بھیجنا ہے اور کس کو خالی پیٹ۔یہ کوئی افسانہ نہیں یہ ہمارے شہروں کی حقیقت ہے۔ بچے کلاس روم میں بیٹھے ہوتے ہیں، کتاب کھولے ہوئے مگر ان کی توجہ حرفوں پر نہیں ہوتی بلکہ وہ بھوک کو تھپکی دے کر بھلا رہے ہوتے ہیں۔ ہم ان سے کیسی تعلیمی کارکردگی کی توقع رکھتے ہیں، بھوک صرف جسم کو کمزور نہیں کرتی، ذہن کو بھی مضمحل کر دیتی ہے۔ کیا اعداد و شمار میں اس بھوک کا کوئی خانہ موجود ہے؟
ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ خیرات کی ثقافت کب اورکیسے ایک مستقل نظام میں بدل گئی۔ رمضان آتا ہے تو دستر خوانوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے سردی آتی ہے تو کمبل تقسیم ہوتے ہیں، عید پر راشن بیگ بانٹے جاتے ہیں۔ یہ سب اپنی جگہ قابلِ تحسین ہے مگر کیا غربت موسمی مسئلہ ہے؟ کیا بھوک صرف رمضان میں لگتی ہے، سال کے باقی مہینوں میں وہ لوگ کہاں جاتے ہیں جو آج قطار میں کھڑے ہیں۔ ایک خود دار سماج کی بنیاد یہ نہیں ہوتی کہ لوگ خیرات کے منتظر رہیں۔ بنیاد یہ ہوتی ہے کہ ہر شخص کو باعزت روزگار ملے تعلیم اور صحت کی سہولت میسر ہو اور ریاست اپنے شہریوں کی بنیادی ضروریات کی ضامن ہو۔ جب ریاست اپنی ذمے داری پوری نہیں کرتی تو خلا کو پر کرنے کے لیے خیرات کا نظام پھلتا پھولتا ہے، مگر خیرات انصاف کا متبادل نہیں بن سکتی۔ وہ وقتی ریلیف تو دے سکتی ہے مستقل حل نہیں۔ میں نے ایک بزرگ کو دیکھا جو دسترخوان سے کھانا لے کر کنارے بیٹھ گئے۔ ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ شاید وہ کبھی کسی دفتر میں ملازم رہے ہوں گے شاید انھوں نے بھی اپنی جوانی میں ٹیکس دیا ہوگا، شاید انھوں نے بھی اس ملک کی ترقی کے خواب دیکھے ہوں گے۔ آج وہ اس انتظار میں تھے کہ کوئی انھیں دو وقت کی روٹی دے دے۔ کیا یہ ان کی تقدیر تھی یا ہماری اجتماعی ناکامی؟
اعداد و شمار ہمیں بتاتے ہیں کہ افراطِ زر کی شرح میں کمی آئی ہے، مگر یہ نہیں بتاتے کہ کتنے گھرانوں نے اپنی خوراک کم کردی، کتنے بچوں نے دودھ پینا چھوڑ دیا، کتنے نوجوانوں نے تعلیم ادھوری چھوڑکر محنت مزدوری شروع کر دی۔ یہ گراف ہمیں وہ آنکھیں نہیں دکھاتے جن میں محرومی کی نمی ہے۔ ہمیں ایک سنجیدہ مکالمے کی ضرورت ہے۔ کیا ہماری معاشی پالیسیاں واقعی عوامی مفاد کے لیے بن رہی ہیں یا بیرونی دباؤ کے تحت۔ کیا بجٹ میں سبسڈی کم کر کے اور ٹیکس کا بوجھ بالواسطہ طریقوں سے عوام پر ڈال کر ہم انصاف کر رہے ہیں؟ جب پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو اس کا اثر صرف گاڑی رکھنے والوں پر نہیں پڑتا، وہ ہر شے کی قیمت میں شامل ہو جاتا ہے اور اس کا بوجھ آخرکار اسی مزدور پر پڑتا ہے جو پہلے ہی کم اجرت پرگزارا کر رہا ہے۔ میں یہ نہیں کہتی کہ خیرات بند کردی جائے۔ بھوک کے سامنے دروازہ بند کرنا ظلم ہوگا، مگر میں یہ ضرور پوچھتی ہوں کہ کب تک؟ کب تک عوام سڑک کنارے قطار میں کھڑے رہیں گے؟ کب تک مائیں اپنے بچوں کو باری باری ناشتہ کرا کر خود کو تسلی دیں گی۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم ایک ایسا نظام بنائیں جہاں کسی کو قطار میں کھڑا نہ ہونا پڑے، جہاں دسترخوان گھر کے اندر بچھا ہو اور اس پر باعزت محنت کی کمائی رکھی ہو۔
معاشی اشاریے اہم ہوتے ہیں مگر وہ مقصد نہیں ذریعہ ہوتے ہیں، اگر ان کا نتیجہ عام آدمی کی زندگی میں بہتری کی صورت میں ظاہر نہ ہو تو وہ محض کاغذی کامیابی رہ جاتے ہیں۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم کیسی معیشت چاہتے ہیں وہ جس میں چند لوگوں کے لیے خوش حالی کے جزیرے ہوں یا وہ جس میں اکثریت کو باعزت زندگی ملے۔ شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم خیرات کی تعریف بدل دیں۔ سب سے بڑی خیرات یہ ہوگی کہ ہم ایسا نظام قائم کریں جہاں ہر شخص کو اس کا حق ملے۔ جہاں روزگارکے مواقع بڑھیں جہاں اجرتیں مہنگائی کے مطابق ہوں جہاں تعلیم اور صحت بنیادی حق ہوں نہ کہ رعایت۔ اگر ہم یہ نہ کر سکے تو دسترخوان بڑھتے جائیں گے، قطاریں لمبی ہوتی جائیں گی اور مائیں اپنے بچوں کے درمیان ناشتہ تقسیم کرتی رہیں گی اور تب اعداد و شمار کی خوش خبری ایک تلخ مذاق بن کر رہ جائے گی۔
میں اعداد و شمار کی نفی نہیں کررہی مگر خالی دسترخوان اور بھوکے بچوں کی آنکھوں کو نظر انداز بھی نہیں کر سکتی،کیونکہ قوموں کی اصل حالت گرافوں سے نہیں، گھروں کے چولہوں اور اسکول جاتے بچوں کے ناشتے سے معلوم ہوتی ہے اور جب تک بچے سیر نہ ہوں کسی بھی معاشی کامیابی کا جشن ادھورا رہے گا۔