وزارتِ اقتصادی امورکے اعداد وشمارکے مطابق وفاقی حکومت نے جولائی تاجنوری کے دوران 5.1 ارب ڈالرکے نئے قرض حاصل کیے،جبکہ سعودی عرب، چین اورآئی ایم ایف کی جانب سے تقریباً 5 ارب ڈالرکے موجودہ قرضوں کی ادائیگی یامدت میں توسیع کی گئی۔
دستاویزات کے مطابق مجموعی طور پر غیر ملکی قرضوں اور رول اوور کی رقم 10.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے،جوگزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 1.4 ارب ڈالرکم ہے۔
کم وصولیوں کی بڑی وجہ یو اے ای کے 2 ارب ڈالرکے قرض کی غیر واضح صورتحال بتائی جارہی ہے،جس کی مدت پہلے جنوری میں اور پھررواں ماہ ختم ہوئی، مگر اسٹیٹ بینک نے معمول کے برعکس اس کی توسیع سے متعلق کوئی اعلان جاری نہیں کیا۔
دسمبر میں اسٹیٹ بینک نے اعلان کیا تھاکہ سعودی عرب نے 3 ارب ڈالرکے ڈپازٹ کی مدت میں ایک سال کی توسیع کردی ہے،جو 2021 سے پاکستان کی معاونت کیلیے جاری سہولت کاحصہ ہے۔
اسی طرح چین نے بھی ایک ارب ڈالرکے کیش ڈپازٹ کی مدت میں ایک سال کی توسیع کی،جبکہ آئی ایم ایف کی جانب سے ایک ارب ڈالرکی قسط بھی جاری کی گئی۔
رواں مالی سال کیلیے حکومت اور مرکزی بینک نے 25 ارب ڈالرسے زائدکی بیرونی آمدن کاتخمینہ لگایا تھا،جس میں نئے قرض اور پرانے قرضوں کارول اوور شامل ہے۔
تاہم جولائی تاجنوری وصول ہونیوالی رقم سالانہ ہدف کا تقریباً 40 فیصد بنتی ہے، پاکستان کواس سال 12.5 ارب ڈالرکے کیش ڈپازٹس واپس کرناہیں،وزارتِ خزانہ کوامیدہے کہ بین الاقوامی قرض دہندگان ان رقوم کو رول اوورکردینگے،کیونکہ اس وقت تقریباً 16 ارب ڈالرکے زرمبادلہ ذخائر بھی دباؤکاشکار ہیں۔
سعودی عرب نے 6 فیصدشرح سود پر 705 ملین ڈالرکا آئل فیسلٹی پیکیج بھی فراہم کیا۔ کثیر الجہتی اداروں کی جانب سے 2.1 ارب ڈالر جاری کیے گئے،جبکہ اسلامی ترقیاتی بینک نے 502 ملین ڈالرفراہم کیے۔
ادھر حکومت کو بیرونی قرضوں پر انحصار اور برآمدات میں اضافے میں ناکامی پر تنقید کا سامنا ہے۔