سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کوہاٹ میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ انتہائی قابلِ مذمت ہے اور جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے جوان دہشت گردوں کے خلاف بہادری سے برسرِ پیکار ہیں اور ملک کے امن کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔
شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ گزشتہ روز سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم اور عوام دوست فیصلے کیے گئے، جن میں سندھ الیکٹرک ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام بھی شامل ہے تاکہ صوبہ توانائی کے شعبے میں خودمختار ہو سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت صوبے کو معاشی طور پر مستحکم بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے سے وابستہ خواتین کو سہولیات فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، سندھ بھر کی کسان خواتین کا باقاعدہ ڈیٹا مرتب کیا جا رہا ہے اور ان کے لیے نئے منصوبے متعارف کرائے جائیں گے۔ اسی طرح کاروباری طبقے کے لیے بھی اہم فیصلے کیے گئے ہیں اور تاجروں کو دس دن کے اندر آن لائن سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
سینئر وزیر کے مطابق تھرپارکر تک ریلوے لائن بچھائی جا رہی ہے، جبکہ سندھ حکومت نے تھر کول منصوبے میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج توانائی کا بحران ہے اور سستی ترین بجلی کوئلے سے پیدا کی جا رہی ہے، جسے نیشنل گرڈ میں شامل کیا جا رہا ہے۔ حکومت نے کوئلہ منصوبوں پر آٹھ ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کراچی کو بلاوجہ تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، حالانکہ یہ شہر ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ کراچی میں روزانہ ہزاروں افراد روزگار، علاج اور کاروبار کے لیے ملک بھر سے آتے ہیں اور شہر بڑے دباؤ کے باوجود معیشت کا مرکز بنا ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ پولیس نے 28 ڈاکوؤں کو ہلاک کیا ہے جبکہ دو ماہ میں 187 ڈاکوؤں نے سرینڈر کیا، جو پولیس کی مؤثر کارروائیوں کا نتیجہ ہے۔ زیرِ گردش صدر آصف علی زرداری کی مبینہ میٹنگ سے متعلق خبروں کو انہوں نے بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ زرداری صاحب اور بلاول بھٹو زرداری باقاعدگی سے بریفنگ لیتے رہتے ہیں۔
سینئر وزیر نے بتایا کہ شاہراہِ بھٹو منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے اور اپریل کے پہلے یا دوسرے ہفتے میں افتتاح متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ انفراسٹرکچر سیس کی رقم سپریم کورٹ میں جمع ہو رہی ہے، جس کے حل کے لیے مکیش چاؤلہ کی قیادت میں کمیٹی قائم کی گئی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کراچی کے اسپتالوں میں تقریباً 50 فیصد مریض بیرونِ شہر سے آتے ہیں، جن پر لاکھوں روپے سندھ حکومت خرچ کر رہی ہے، جبکہ گمبٹ میں جگر کی پیوندکاری کی سہولت دستیاب ہے اور اب مریضوں کو علاج کے لیے بیرونِ ملک نہیں جانا پڑتا۔