یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد 13 اپریل صبح 10 بجے (ایسٹرن ٹائم) سے نافذ کیا گیا جس کے تحت دنیا بھر کے جہازوں کو ایران کی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں تک رسائی سے روکا جائے گا۔
سینٹکام کے مطابق یہ پابندیاں بحیرہ عرب اور گلف عمان میں واقع ایرانی بندرگاہوں پر لاگو ہوں گی تاہم اہم عالمی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے دیگر ممالک کی بندرگاہوں کے لیے جہازوں کی آمد و رفت متاثر نہیں ہوگی۔
امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں آزادیٔ جہاز رانی برقرار رکھی جائے گی، لیکن ایران سے منسلک بحری سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔
مزید برآں سمندری جہازوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نوٹس ٹو میرینرز نشریات پر نظر رکھیں اور خلیجِ عمان اور آبنائے ہرمز کے قریب آپریشن کے دوران امریکی بحریہ سے رابطے کے لیے چینل 16 استعمال کریں۔