سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ اسرائیل نے ایران کی دو اسٹیل فیکٹریوں، ایک پاور پلانٹ اور جوہری تنصیب کو نشانہ بنایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے یہ کارروائی امریکا کے ساتھ مل کر کرنے کا دعویٰ کیا ہے، یہ حملہ ٹرمپ کی سفارت کاری کے لیے توسیع شدہ آخری تاریخ سے متصادم ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کو اسرائیلی جرائم کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسرائیلی حملے میں مبارکہ اسٹیل کمپنی کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں اس کے الیکٹریکل تنصیبات اور اسٹیل بنانے والا ورک شاپ کو نقصان پہنچا ہے جبکہ اس حملے میں ایک شہری شہید اور دو زخمی ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایک اور حملے میں خوزستان اسٹیل کمپنی کے اسٹوریج شیڈ کو نشانہ بنایا گیا۔
ایران کی سرکاری خبرایجنسی نے اصفہان کے گورنر مہدی جمالنیجاد کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں صوبہ اصفہار میں 25 مزدور شہید ہوئے۔
گورنر اصفہان نے بتایا کہ صوبے میں دو پاور پلانٹس اور ایک پروڈکشن کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا، جس کی صلاحیت 914 اور 250 میگاواٹ تھی، حملوں میں دونوں تباہ ہوگئے ہیں۔