ایران پر حملے کے بعد تہران نے بھی جواب میں میزائل داغ دیے، شمالی اسرائیل میں دھماکے

ایران پر حملے کے بعد تہران نے بھی جواب میں میزال داغ دیے ہیں، جس کے بعد شمالی اسرائیل میں دھماکے سنے گئے۔ ایران نے اسرائیل کے خلاف میزائل آپریشن کو ’فتح خیبر‘ کا نام دیا ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران نے اسرائیل پر 30 بیلسٹک میزائل داغے ہیں، اسرائیلی فوج ایرانی میزائلوں کو روکنے کی کوشش کررہی ہے۔

ایرانی حملے کے بعد اسرائیل کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے اور شہریوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر جانے کی ہدایت کی گئی۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ایران سے داغے گئے میزائلوں کی نشاندہی ہوتے ہی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا۔

اسرائیلی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ عوام فوری طور پر ہوم فرنٹ کمانڈ کی ہدایات پر عمل کریں۔ فوج کے مطابق اسرائیلی فضائیہ خطرات کو روکنے اور جہاں ضرورت ہو وہاں کارروائی کرنے میں مصروف ہے تاکہ ممکنہ نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔

فوج نے واضح کیا کہ دفاعی نظام مکمل طور پر ناقابلِ تسخیر نہیں ہوتا، اس لیے شہریوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ جاری کردہ حفاظتی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔ حکام نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ پناہ گاہوں کے قریب رہیں اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور امریکا نے ایران پر ہفتے کے روز ’پیشگی حملہ‘ کیا ہے جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ایرانی دارالحکومت تہران میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور مختلف علاقوں سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے دعویٰ کیا کہ حملے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے دفتر کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم، وہ اس دوران تہران میں موجود نہیں تھے اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان بھی حملے میں محفوظ رہے ہیں۔

خبر ایجنسیوں کے مطابق تہران کے یونیورسٹی روڈ پر میزائل گرے جبکہ جمہوری ایریا میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ تہران میں مہرآباد ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ’فارس‘ کے مطابق تہران میں تین مقامات پر میزائل گرے ہیں۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایران میں 30 اہداف پر 50 میزائل داغے گئے ہیں۔ ایران کے مقامی میڈیا کے مطابق کرمانشاہ، لورستان، تبریز، اصفہان اور کرج کے شہروں میں بھی دھماکوں کی اطلاعات ملی ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یکے بعد دیگرے کئی دھماکے ہوئے جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

الجزیرہ کے مطابق، اب تک ایرانی دارالحکومت پر ہونے والے اسرائیلی حملوں میں وزارتِ انٹیلی جنس، وزارتِ دفاع، ایران کی ایٹمی توانائی کی تنظیم اور پارچین ملٹری کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے ایران کو نشانہ بنایا ہے۔ تاہم انہوں نے حملے کی وجوہات یا اہداف کی تفصیل فراہم نہیں کی۔

اسرائیلی چینل 12 کا کہنا ہے کہ یہ اسرائیل اور امریکا کا مشترکہ حملہ تھا۔

ایک اسرائیلی دفاعی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ اس آپریشن کی منصوبہ بندی واشنگٹن کے ساتھ مل کر مہینوں پہلے کی گئی تھی، اور حملے کی تاریخ کا فیصلہ ہفتوں قبل ہو چکا تھا۔

ایک امریکی عہدیدار نے الجزیرہ کو بتایا کہ امریکا اور اسرائیل کے ان مشترکہ فضائی حملوں کا مقصد ایران کے سیکیورٹی ڈھانچے (انٹیلی جنس اور دفاعی نظام) کو مفلوج کرنا تھا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ دنیا جان لے یہ جنگ ہم نے شروع نہیں کی۔ ایرانی حکام نے رائٹرز کو بتایا کہ تہران امریکا اور اسرائیل کے حملوں کا جواب دینے کی تیاری کر رہا ہے اور یہ جوابی کارروائی انتہائی تباہ کن ہوگی۔

ایرانی پارلیمنٹ کے قومی سلامتی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایک پر جاری اپنے پیغام میں لکھا: ”ہم نے تمہیں خبردار کیا تھا! اب تم نے اس راہ کا آغاز کر دیا ہے جس کا انجام اب تمہارے اختیار میں نہیں رہا۔“

حملے کے فوراً بعد اسرائیل میں بھی خطرے کے سائرن بج اٹھے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں ممکنہ جوابی کارروائی کے خدشات موجود ہیں۔

اسرائیل نے اپنی فضائی حدود کو شہری پروازوں کے لیے بند کر دیا ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایران پر حملے کے بعد ہفتے کے روز ان کی فضائی حدود شہری پروازوں بند کردی گئی ہے۔

عراق نے بھی اپنی فضائی حدود بند کردی ہیں، قطر میں بھی امریکی سفارت خانے کے عملے کو پناہ گاہوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔

حملے کے فوراً بعد ایران میں موجود پاکستانیوں کے لیے سفری ایڈوائرزی جاری کردی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ایران میں موجود پاکستانی غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں۔

اس دوران کئی ممالک نےبھی اپنے شہریوں پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد ایران چھوڑ دیں۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج ہی ایران سے یورینیم کی افزودگی روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ مذاکرات میں ایران کے موقف سے مطمئن نہیں ہیں اور وہ ایسے مواد کی تیاری کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں جو جوہری ہتھیار بنانے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے ایران پر امریکی حملے کے امکان کے بارے میں خدشات کو بڑھا دیا تھا۔

واضح رہے کہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں ایران پر یہ دوسرا امریکی حملہ ہے۔ آخری بار امریکا نے جون 2025 میں ایرانی سرزمین کو اس وقت نشانہ بنایا تھا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگی طیاروں کو ایران کے اندر تین ایٹمی تنصیبات پر بڑے بم گرانے کا حکم دیا تھا۔

جوابی کارروائی میں ایران نے قطر میں واقع مشرق وسطیٰ میں امریکا کی سب سے بڑی فوجی تنصیب العدید ایئر بیس پر تقریباً ایک درجن کم اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل داغے تھے۔

اس کے فوراً بعد امریکی صدر نے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اور اسرائیل کو ایران پر مزید بمباری سے باز رہنے کی وارننگ دی تھی۔

Similar Posts