اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے دعوٰی کیا ہے اسرائیل اور امریکا کے حالیہ حملوں کے بعد متعدد اشارے ملے ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اب نہیں رہے۔ ایرانی سپریم لیڈر کے دفتر کے ترجمان نے تردید کی ہے کہ دشمن ممالک یہ خبریں پھیلا کر ذہنی دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آیت اللہ علی خامنہ ای ٹھیک اورمحفوظ مقام پرہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے ہفتے کو ایک ویڈیو بیان میں دعوٰی کیا ہے کہ اسرائیل اور امریکا کی حالیہ فضائی کارروائیوں کے دوران متعدد اشارے ملے ہیں کہ ایرانی سپریم لیڈرخامنہ اب نہیں رہے۔
نیتن یاہو نے ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ ہفتے کی صبح انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا اور تباہ کیا۔
اسرائیل کے وزیراعظم نے یہ دعویٰ بھی کہ حملوں میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر اور دیگر سینئر جوہری حکام بھی مارے گئے اور آنے والے دنوں میں ایران میں مزید اہداف کو نشانہ بنائیں گے۔
نیتن یاہو کا ویڈیو بیان میں یہ بھی کہنا تھا کہ ایران کے خلاف کارروائی جب تک ضروری ہوگا جاری رہے گی۔
ادھر، الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی میڈیا نے نام نہ ظاہر کرنے والے اسرائیلی اہلکاروں کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای حملوں میں مارے گئے ہیں۔
قطر کی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر کے دفتر کے ترجمان نے اس بات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دشمن ممالک یہ خبریں پھیلا کر ذہنی دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق ایران کا کہنا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای ٹھیک اورمحفوظ مقام پرہیں۔ عباس عراقچی نے این بی سی نیوزکو بتایا کہ جہاں تک انھیں علم ہے، سپریم لیڈر اور دیگر اعلیٰ ایرانی عہدے دار صحت مند ہیں اور محفوظ ہیں۔
واضح رہے کہ ہفتے کے روز امریکا اور اسرائیل نے ایران پر بحری اور فضائی حملے کیے جن میں 201 ایرانی شہری جاں بحق اور 747 زخمی ہو گئے۔ خبر ایجنسی کے مطابق حملوں میں ایرانی وزیر دفاع امیر ناصر زادہ اور ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ محمد پاکپور شہید ہوگئے ہیں۔
ایرانی صدارتی محل اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کے قریب سات میزائل گرے تاہم ایران نے صدر مسعود پزشکیان اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے محفوظ رہنے کا اعلان کیا ہے۔