عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات کا اعلان اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں کیا۔
جس میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کی بقیہ مدت کے دوران تمام کمرشل بحری جہاز ایران کی جانب سے مقرر کردہ مربوط (کوآرڈی نیٹڈ) روٹ کے ذریعے گزر سکیں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اپنی ٹوئٹ میں مزید کہا کہ یہ روٹس پہلے ہی ایران کی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن کی جانب سے جاری کیے جا چکے ہیں۔
In line with the ceasefire in Lebanon, the passage for all commercial vessels through Strait of Hormuz is declared completely open for the remaining period of ceasefire, on the coordinated route as already announced by Ports and Maritime Organisation of the Islamic Rep. of Iran.
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) April 17, 2026
یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر فضائی حملہ کیا تھا جس میں آیت اللہ خامنہ ای عسکری قیادت سمیت شہید ہوگئے تھے۔
ان حملوں کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز بند کردی تھی جو دنیا کو تیل و گیس کی ترسیل کی ایک اہم آبی گزرگاہ ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش سے دنیا میں تیل و گیس کی قلت پیدا ہوئی اور قیمتیں آسمانوں سے باتیں کرنے لگیں جس کے اثرات مہنگائی اور معیشت کی تباہی کی صورت میں سامنے آئے۔
ایسے میں پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کیا اور فریقین دو ہفتوں کی جنگ بندی پر متفق ہوگئے جس میں امریکا نے مزید حملے نہ کرنے اور ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا وعدہ کیا تھا۔
جس کے بعد پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے تھے۔ اس وقت بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران کے دورے پر ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف بھی سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے دورے پر ہیں اور ان سفارتی کاری کی کوششیں بآور ثابت ہورہی ہیں۔