مجھے اس دیس جانا ہے

0 minutes, 0 seconds Read
تسنیم کوثر ایک کمال نثر نگار ہیں۔ چند دن پہلے ان کی ایک کتاب موصول ہوئی جس کا عنوان ہے ’’مجھے اس دیس جانا ہے۔‘‘ اندرون صفحہ پر حد درجہ دلچسپ جملے لکھے ہوئے تھے۔ ’’محترم آداب! گذشتہ برس کتاب آپ کو پوسٹ کروائی۔ محکمہ ڈاک نے پھرتی دکھائی۔ اور دو دن بعد کتاب مجھے ہی موصول ہو گئی۔ آج پھر جسارت کر رہی ہوں۔ کتاب پر تاریخ وہی پرانی ہے‘‘۔ ذاتی طور پر تسنیم صاحبہ سے کبھی کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ بس اتنا معلوم تھا کہ وہ ایک مصنفہ ہیں۔ مگر میرا قیاس غلط ثابت ہوا۔

کتاب پڑھنے سے پتہ چلا کہ وہ محض نثر نگار نہیں بلکہ باکمال لکھاری ہیں۔ ان کی کتاب بظاہر تو ملائیشیا کا سفر نامہ ہے۔ مگر اصل میں الفاظ‘ جملوں‘ مضمون کی ساخت اور زبان پر ان کی گرفت کا ثبوت ہے۔ سفرنامہ بہت ہی کم پڑھتا ہوں۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ مگر یہ ایک ایسی عمدہ تحریر ہے۔ جو اردو ادب میں ایک نکھرا ہوا اضافہ ہے۔ دو تین نشستوں میں ہی اس کتاب کو پڑھ ڈالا۔ اب اس میں سے چند اقتسابات ‘ پیش کرتا ہوں۔

پیش لفظ میں مصنفہ رقمطراز ہیں:وقت کی تتلی: یہ کب ضروری ہے کہ جو جی چاہے وہی ہوجائے!کہیں حالات انسان کو الجھائے رکھتے ہیں اور کہیں خوف بہت سے شوق دبا دیتا ہے مگر…اس ڈر اور خوف کے باوجود ہر انسان سفر ضرور کرتا ہے۔ ایک شہر سے دوسرے شہر اور …کبھی دوسرے ملک جا پہنچتا ہے۔کوئی روزگار کے لیے‘کوئی حصول تعلیم کے لیے‘لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو محبت کے رتھ پر سوار ہو کر تنہا ہزاروں میل دور کا سفر کر جاتے ہیں۔محبت وہ منہ زور جذبہ جو ناممکن کو ممکن بنا دے۔اور ایک ماں کو اپنی اکلوتی بیٹی سے ملنے کی لگن لگا دے۔مجھے بھی یہ لگن ہی اس خوبصورت جزیروں والے ہرے بھرے دیس میں لے گئی تھی۔ اس محبت نے ہی مجھے اس سفر پہ اکسایا تھا۔

سلمیٰ اعوان صاحبہ نے حد درجہ سادہ مگر پر تاثیر پیش لفظ رقم کیا ہے۔تسنیم … ایک اچھی افسانہ نگار: سالوں پہلے کی بات ہے تخلیق کے بانی مدیر اظہر جاوید حیات تھے۔ پرچہ ملا تو ہندوستان کے ایک سفر نامے کا آغاز ہو رہا تھا۔ پہلی قسط ہی ایسی دل موہ لینے والی تھی کہ پڑھ کر تھوڑی دیر تو گم صم ہونے والا سلسلہ ہوا۔ نثر سا دگی اورپرکاری کی اپنی مثال آپ تھی۔ توجہ کھنیچ کر بتاتی تھی کہ رکو‘ مجھے پڑھو اور ہاں سراہو بھی۔ مصنفہ کون تھی؟ پڑھا تو تسنیم کو ثر پڑھنے کو ملا۔ اس وقت ابھی شناسائی زیاہ نہ تھی۔ ہاں کہیں کسی تقریب میں بس ہیلو ہائے والی بات ضرور تھی۔ پھر جیسے تخلیق کا انتظار رہنے لگا۔ خصوصی طور پر تسنیم کوثر کے سفر نامے کا۔ کیا دل پذیر سا انداز تھا ۔ کہیں دلی کے گلی کوچوں میں لیے پھرتی تھی۔ کہیں چندی گڑھ کے سبزہ زار وں میں گھما پھرا رہی ہے۔ کہیں شملہ کے پہاڑوں میں پہنچی ہوئی ہے۔ لوگوں سے ملاقاتیں کروا رہی ہے۔ پنجاب کی رہتل اور وسیب کی کہانیاں اپنے ہندوستانی دوستوں کے حوالے سے سنا رہی ہے۔ بات سے بات نکال رہی ہے۔ شگفتہ بیانی سے دلوں میں اتر رہی ہے۔ محبتیں بانٹ رہی ہے۔ اور انھیں سمیٹ بھی رہی ہے۔

میں اور میرا دل:یہ دل کا نگر بھی عجیب ہوتا ہے۔کبھی تو‘آپ ہی آپ بنا کسی بات کے مہکے سرخ گلابوں کا مسکن بن جاتاہے اور کبھی‘ گہری اداسی کی آکاس بیل اسے یوں جکڑ لیتی ہے کہ چاروں اور بکھرے اجالے بھی نظر نہیں آتے۔ احساسات اورجذبات کی اس نگری میں ایک محبت ہی تو ہے جو ‘خاموشی میں بھی گنگناتی ہے۔ میری خاموشی بھی اس روز گنگنانے لگی تھی جب ‘جاڑے کی نرم گرم دھوپ میں لپٹی ایک چمکدار صبح ارم نے اپنے خوابوں کی تعبیر پائی۔ یہ نوید ملتے ہی میرا باؤلا سا دل پروں کی خواہش کرنے لگا۔ میرے گلشن میں اک کلی کھل گئی تھی۔ میں تعبیر کو دیکھنے اور ارم سے ملنے کی دعائیں کرنے لگی تھی مگر‘یہ سب میرے لیے اتنا آسان کب تھا؟اسی اضطراب میں جاڑا رخصت ہوا۔بہار کا موسم بھی اپنی چھب دکھلا کے گرمی کی شدت ہمیں سونپ گیا۔ اس دوران میںنے کئی بار اڈاری مارنا چاہی مگر بات نہ بن سکی تھی ۔

پام نگری: امیگریشن کے مراحل سے نمٹنے کے بعد پھلجھڑی کی طرح پھوٹتی بکھرتی اس کیفیت کے ساتھ میرے قدم اب تیزی سے اس بیریئر کی طرف اٹھنے لگے تھے جہاں میرے اپنے میرے منتظر تھے۔اور پھر فاصلے سمٹ گئے۔میری لاڈلی نے جب اپنی لاڈلی کو بانھوں میں بھرے اپنی ماں کو گلے لگایا تو جیسے دریاؤں کے بند ٹوٹ گئے تھے۔ دور کہیں اک پرانے گیت کی باز گشت سنائی دینے لگی تھی۔

مانواں دھیاں ملن لگیاں

چاروں کنداں نے

چوبارے دیاں ہلیاں

اس بلوریں ائر پورٹ پہ تو آنسوؤں کی اس برسات سے کوئی ہلچل نہ مچی تھی البتہ کچھ آنسو چھلک کے ارم کی گود میں سمٹی ہوئی تعبیر کو مضطرب کر گئے تھے۔ وہ کسمسائی ۔ میرے گلشن کی پہلی کلی نے اپنی گول آنکھیں گھمائیں اور ہم ماں بیٹی کے ملن کا یہ منظر اپنی آنکھوں میں بھر لیا۔

کوالالمپور میں بسنت :یہ جو شوق ہے نا۔ یہ سب کام کرا دیتا ہے۔ منی اسکرٹ پہننے والیوں کو بھی عبایا پہن کے چلنا سکھا دیتا ہے۔ سورج کی نرم گرم کرنوں نے جھیل کے پانی کو بھی سنہرا کر دیا تھا اور مسجد کا گلابی عکس‘ اس سنہرے پن کو اور بھی حسین بنا رہا تھا۔ مسجد پترا جایا جھیل کے پانی میں ہلکورے لے رہی تھی اور ہم ان ہلکوروں سے محفوظ ہو رہے تھے کہ اچانک موسم بے ایمان ہو گیا۔یہاں کی بارشیں بھی خوب ہیں۔ پلک جھپکتے میں گرجتے چمکتے بادلوں کی اوٹ سے اپنا آپ دیکھاتی ہیں۔ اورفضا میں حبس گھول کر چلتی بنتی ہیں۔ اس بارش نے سب پات شجر مزید نکھار دیے تھے۔ پترا جایا کی ہریالی کچھ اور چمکدار ہو گئی تھی۔ سرسبز پودے آنکھوں کو ٹھنڈک دیتے تھے اور مٹی کی سوندھی خوشبو من مہکائے جاتی تھی۔یہ بارشیں بھی کیا کیا یاد دلادیتی ہیں؟

کیمرون ہائی لینڈز… ایک طلسم :رستے میں ہر طرف شادابیاں تھیں۔ درختوں کے جھنڈ تھے۔ کچی پکی بستیاں تھیں۔ سڑک کنارے لگے ہوئے اسٹال تھے جہاں چھاتے تان کے ملے اور چینی خواتین کاروبار میں الجھی ہوئی تھیں۔کہ اس ملک کے بے اعتبارے موسم میں بارش کبھی اپنا جلوہ دکھا سکتی تھی۔ اس وقت بھی کن من ہمارے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتی جاتی تھی۔ شاداب رستے بل کھاتے ہوئے بلندیوں کی طرف جاتے تھے۔ گہرے سر مئی بادل منڈلاتے تھے اور ہرباول مستیاں دکھاتی تھی۔ راہ میں کوئی شاندار سی عمارت ہمیں اپنی طرف متوجہ کرتی تو ہم سب نظریں چرائے آگے بڑھ جاتے تھے کہ چلتے سمے متفقہ فیصلہ یہی کیاگیا تھا کہ رستے کی رنگینیوں میں الجھے بغیر زیادہ سے زیادہ وقت پہاڑ کی گود میں گزارا جائے۔ دن کی روشنی میں یہاں کی اترائیوں‘ اونچائیوں اور گہرائیوں کے منظر دیکھے جائیں اور شام کو جب سورج واپسی کا رستہ ناپے تو ہم سب بھی گھروں کو پلٹ آئیں۔ لہٰذا کہیں بھی بغیر رکے ہماری گاڑیاں دھیرے دھیرے رینگتی ہوئی اونچائی کا سفر طے کرتی رہیں۔ پہاڑیوں ‘ گھاٹیوں‘ ٹیلوں نے اپنے جوبن سے ہمیں پر چانا چاہا۔ سبز مخملیں دوشالہ اوڑھے چائے کے باغات بھی اپنی طرف بلاتے رہے۔ پھلوں اور پھولوں سے لدے فارم دل لبھاتے رہے مگر ہم واپسی پہ انھیں دیکھنے کا ارادہ کرتے ہوئے آگے بڑھتے گئے یہاں تک کہ تنگ و تاریک گھیریوں میں گھومتے گھماتے ہم کیمرون ہائی لینڈ آ پہنچے۔

پینکورآئس لینڈ کا ہرا سمندر:میں نے دیکھا یہ ہرا سمندر دل و جاں کو سکون بخشتا تھا۔ دور سطح سمندر پہ لپٹی کشتیاں پانی سے ہم آغوش ہونے کو بے تاب ہوئی جاتی تھیں۔ ملاح اپنے لیے مسافر تلاش کرتے تھے اور گورے‘ کالے اور ہم سب بہت سے دیوانے چاندی جیسے پانی پہ سنہری کرنوں کا جال بچھتے دیکھتے تھے تو مستانے ہوئے جاتے تھے۔ لہروں کی بے تابی دل کا اضطراب بڑھاتی تھی۔اور مچلتی لہریں جب ساحل سے ٹکرا کر پلٹتی تھیں تو میری آنکھیں ان کا پیچھا کرتی دور تک چلی جاتی تھیں۔ جہاں گھنے جنگلوں کا عکس میری توجہ اپنی طرف کر لیتا تھا۔

سفر نامہ کی بابت پروفیسر خواجہ محمد ذکریا لکھتے ہیں: سفر نامہ جہاں بھی جائے اور جہاں سے بھی گزرے وہ ان مقامات کو خارجی انداز میں بھی دیکھتا ہے اور اپنے ذاتی زاویۂ نظر سے بھی مشاہدے کو احساس کا رنگ دے دیتا ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ وہ اس ملک کا تقابل اپنے ملک سے بھی کرتا چلا جاتا ہے۔ مثلاً اس اجنبی خطۂ زمین اور ہمارے منظر نامے میں کیا نمایاں فرق ہے؟ افراد کی شکل شباہت‘ پوشاک‘ خوردنوش ‘ رہن سہن‘ تہذیب ‘ وثقافت وغیرہ میں کتنا اختلاف اور کتنی مشابہت ہے۔ سفرنامہ نگار مرد ہو تو اس کا زاویہ ٔ نظر خاتون سفر نامہ نگار سے بعض معاملات میںالگ ہو گا۔ تسنیم کوثر نے ملائیشیا جیسے ابھرتے ہوئے ملک سے جو تاثرات اخذ کیے ہیں ان کو بڑے دلچسپ‘ اسلوب اور باریک بینی سے تحریر کیا ہے۔

بڑے عرصے کے بعد اس کتاب کی صورت میں ہوا کا ایک تازہ جھونکا محسوس ہوا ہے۔ خدا کرے کہ تسنیم کوثر صاحبہ یونہی بلکہ اتنی ہی عمدگی سے لکھتی چلی جائیں!

Similar Posts