ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں سب سے زیادہ 383 رنز صاحبزادہ فرحان نے بنائے، سب سے زیادہ 2 سنچریاں بھی انھوں نے بنائیں، زیادہ 18 چھکے لگانے والے بیٹرز میں ان کا دوسرا نمبر ہے۔
البتہ ٹیم سیمی فائنل میں بھی نہ پہنچ سکی، اس میں بیچارے صاحبزادہ فرحان کا کوئی قصور نہیں، انھوں نے تو اپنی جانب سے ایڑی چوٹی کا زور لگایا لیکن وہ کوئی سپرمین تو نہیں جو اکیلے ناممکن کو ممکن کر دکھائیں۔
دلچسپ مگر شرمناک بات یہ ہے کہ ہماری بیٹنگ لائن میں شامل صائم ایوب، سلمان علی آغا، بابر اعظم اور عثمان خان نے مل کر پورے ایونٹ میں 281 رنز بنائے، اس سے 102 رنز زائد صاحبزادہ نے اسکور کیے۔
وہ صائم جس سے ہمیں امید تھی کہ رنز کے ڈھیر لگا دیں گے وہ6 میچز میں 70 رنز بنا سکے، وہ سلمان جس کے بارے میں ہمیں لگتا تھا کہ اگر تیسری پوزیشن پر کھیل رہے ہیں تو خوب اسکور کریں گے وہ 7 میچز میں 60 رنز بنا سکے۔
وہ بابر اعظم جس سے ہمیں سنچریوں کی توقع تھی وہ 6 میچز میں مجموعی طور پر بھی 100 رنز نہ بنا پائے اور 91 تک محدود رہے، وہ عثمان خان جس سے چھکوں کی برسات کی آس لگائی ہوئی تھی وہ 7 میچز میں60 رنز بنا سکے۔
اب آپ سچ سچ بتائیں کیا ایسی بیٹنگ کارکردگی ورلڈکپ جتوا سکتی تھی؟ اکیلا صاحبزادہ اور کیا کرتا، برا نہ مانیے گا صائم کا دماغ خراب کرنے میں آپ لوگوں کا بڑا کردار ہے، جو خود کو کھیل سے بڑا سمجھے اس کا یہی حال ہوتا ہے۔
اچھا خاصا پلیئر تھا فین فالوئنگ بڑھ گئی لوگوں نے ’’ نو لک شاٹ‘‘ پر آسمان پر چڑھا دیا اب دیکھیں کیا حال ہے، یہ بندہ 67 ٹی ٹوئنٹی میچز میں 6 ففٹیز ہی بنا سکا ہے، اس دوران اوسط بھی 21 ہی رہی۔
اس سے زیادہ شاید ہی کوئی اور خوش قسمت ہو جسے مسلسل ناکامیوں کے باوجود اتنے مواقع دیے گئے،آخری 30 میچز میں صائم نے 579 رنز19 کی اوسط سے بنائے،اس میں 2 نصف سنچریاں شامل ہیں، اس دوران 6 بار وہ صفر پر آؤٹ ہوئے، مسلسل تین اننگز بھی ایسی رہیں جس میں کوئی رن نہ بنایا۔
البتہ شائقین کو وہ بہت پسند ہیں کیونکہ دیکھنے میں اچھے ہیں اور ’’ نو لک شاٹ‘‘ کھیلتے ہیں، بھائی آپ کو ایسا کوئی ہیرو چاہیے تو کسی فلم اسٹار کو آئیڈیل بنائیں کرکٹ کو تو بخش دیں، ٹھیک ہے بولنگ میں صائم کو کبھی وکٹیں مل جاتی ہیں لیکن اصل کام تو بیٹنگ ہے ناں۔
اسی طرح سلمان علی آغا نے کپتانی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ورلڈکپ میں تیسری پوزیشن پر قبضہ کیا لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ایشیا کپ اور ورلڈکپ میں ان کا سب سے بڑا اسکور 38 ہے، اس دوران انھوں نے 13 اننگز میں 11 کی اوسط سے 132 رنز بنائے۔
کرکٹ میں ٹینس کی طرح نان پلئینگ کپتان کا تصور نہیں ورنہ چل جاتا، جب کپتان خود کچھ نہ کرے تو ٹیم کو کیسے جتوا سکتا ہے؟
میں جانتا ہوں انھیں ذمہ داری دلانے میں عاقب جاوید نے اہم کردار ادا کیا، وہ شریف اور تابعدار انسان ہیں ، ان سے جو کہو مان لیتے ہیں،اس لیے کپتان بنا دیا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔
ورلڈکپ میں اصل کپتان مائیک ہیسن تھے جو بار بار فیلڈ میں بھی جا کر بھی ہدایات دیتے نظر آتے، یہ کوئی مبالغہ آرائی نہیں حقیقت ہے کہ اسلام آباد یونائٹیڈ کی وجہ سے شاداب خان اور ہیسن کی بڑی دوستی ہے جس کا وہ فائدہ بھی اٹھاتے ہیں، فیلڈ میں بھی شاداب کبھی کبھی غیر اعلانیہ کپتان لگتے ہیں۔
بابر اعظم کی کرکٹ ٹی ٹوئنٹی کی حد تک ختم ہے، انھیں از خود اس فارمیٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر کے ٹیسٹ اور ون ڈے پر فوکس رکھنا چاہیے،ورلڈکپ میں ان سے بڑی امیدیں تھیں لیکن بیحد مایوس کیا، وہ اس ٹیم میں مس فٹ نظر آ رہے تھے، ان کی جگہ بنانے کیلیے فخرزمان جیسے جارح مزاج بیٹر کو باہر بیٹھنا پڑا۔
جب اس غلطی کا احساس ہوا تو بہت دیر ہو گئی تھی، نولک صائم کی جگہ فخر نے صاحبزادہ کے ساتھ اوپننگ کی تو دنیا دنگ رہ گئی،کاش ایسا پہلے ہو جاتا،اسی طرح عثمان خان کا یو اے ای کی کرکٹ چھوڑ کر پاکستان آنے کا ’’احسان‘‘ نجانے کب تک چکایا جاتا رہے گا، ان کی وکٹ کیپنگ تو ٹھیک رہی لیکن وہ بیٹنگ میں فلاپ رہے۔
آج کل کی کرکٹ میں بیٹر وکٹ کیپر ضروری ہوتا ہے، بولنگ میں شاہین شاہ آفریدی ایک میچ کے سوا ناکام رہے، نسیم شاہ کا پیٹ اہم میچز سے قبل اکثر ’’خراب‘‘ ہو جاتا تھا، آخری میچ میں کھیلے تو کوئی تاثر نہ چھوڑ پائے، سلمان مرزا بھی اوسط درجے کے پیسر ثابت ہوئے۔
ہیسن پاکستانی ٹیم کو بھی اسلام آباد یونائٹیڈ سمجھنے لگے ہیں، انھوں نے نام نہاد آل راؤنڈرز کی بھرمار کر دی، ویسے بھی پاکستان میں آج کل آل راؤنڈر وہی ہے جو رنز بنائے نہ وکٹیں لے، شاداب خان کو ہی دیکھ لیں، انھوں نے زیادہ رنز بنائے نہ وکٹیں لیں، اہم مواقع پر دل کھول کر رنز بھی دیتے رہے،
فہیم اشرف نے بلاشبہ نیدرلینڈز کیخلاف میچ میں اپنی بیٹنگ سے فتح دلائی لیکن بطور بولر ان پر ٹیم مینجمنٹ کو ہی بھروسہ نہیں ہے، عثمان طارق نے آخری میچ کے سوا اچھی بولنگ کی لیکن ان کا درست استعمال نہ ہوا۔
اسی طرح ابرار احمد سے بھی درست استفادہ نہ کیا گیا، ’’عظیم آل راؤنڈر‘‘ محمد نواز نے 7 میچز میں 15 رنز بنائے اور بولنگ میں بھی بے اثر ثابت ہوئے، اس ٹیم سے اگر صاحبزادہ فرحان کو نکال دیں تو معیار یو اے ای اور نمیبیا جیسا ہو جائے۔
ہر ورلڈکپ کی طرح اس بار بھی ٹیم نے مایوس کیا، پی سی بی کو اب سرجری کے دعوؤں کے بجائے کچھ کرنا ہوگا، آدھے سے زیادہ پلیئرز کی جگہ نہیں بنتی، نان پرفارمرز چاہے جتنا بھی بڑا نام ہیں انھیں باہر کریں۔
صاحبزادہ جیسے ڈومیسٹک پرفارمرز کو آگے لائیں، نوجوانوں کو موقع دیں جو سیٹ ہو کر یقینی طور پر اچھی کارکردگی دکھائیں گے، سینئر کرکٹرز ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔
بابر نے شاید 6،7 سال سے قائد اعظم ٹرافی میں حصہ نہیں لیا، پلیئرز کو اس کا پابند کریں ، بھارت نے کچھ عرصے قبل ہی کوہلی اور روہت شرما کو بھی ڈومیسٹک میچز کھیلنے کے بعد ہی منتخب کیا تھا۔
جو پاکستانی پلیئر ایسا نہ کریں اسے قومی ٹیم سے دور رکھیں، لیگز کے این او سی بھی نہ دیں، عاقب جاوید، علیم ڈار اور اسد شفیق سمیت جو بھی سلیکشن پراسس کا حصہ ہیں انھیں بھی گھر بھیجنا چاہیے۔
کپتان کا باقاعدہ طور پر انٹرویو لے کر تقرر کریں، ہیسن سے بھی جواب دہی کرنی چاہیے، اگر اب کچھ نہیں کیا تو وہ دن دور نہیں لگتا جب کرکٹ کا حال بھی ہاکی والا ہو جائے گا۔
(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)