بہت ہو چکا! لبنان پر اب کوئی بمباری نہیں ہوگی: صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو خبر دار کردیا

0 minutes, 0 seconds Read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کو سخت الفاظ میں خبر دار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب بہت ہو چکا! لبنان پر اب کوئی بمباری نہیں ہوگی۔ جب کہ اسے امریکا کی جانب سے واضح طور پر روک دیا گیا ہے۔

جمعے کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹرتھ پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کو وہ تمام جوہری مواد حاصل ہوگا جو ان کے مطابق اسٹریٹجک بمبار طیاروں کے ذریعے تیار کیا گیا ہے اور اس کے بدلے کسی قسم کا مالی لین دین نہیں ہوگا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے مطابق یہ معاملہ لبنان کی صورت حال سے الگ ہے اور امریکا لبنان کے ساتھ بھی علیحدہ طور پر تعاون کرے گا تاکہ وہاں موجود مسلح گروپ حزب اللہ کے مسئلے سے نمٹا جا سکے۔

انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اسرائیل کو لبنان پر مزید بمباری کی اجازت نہیں ہوگی اور اسے امریکا کی جانب سے واضح طور پر روک دیا گیا ہے اور اب یہ عمل جاری نہیں رہے گا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ اب بہت ہو چکا ہے، اسرائیل اب لبنان پر بمباری نہیں کرے گا اور اس فیصلے پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔

امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان حالات پہلے ہی کشیدہ ہیں۔ حکام کے مطابق خطے میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں سفارتی اور سیکیورٹی سطح پر پیش رفت جاری ہے، جبکہ مختلف فریقین صورتحال کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کارروائی مکمل نہیں ہوئی، نتین یاہو

دوسری طرف اسرائیلی وزیر اعظم نتین یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ لبنان میں مسلح گروپ حزب اللہ کے خلاف کارروائی ابھی مکمل نہیں ہوئی اور اسرائیل اپنے اہداف کے حصول تک آپریشن جاری رکھے گا۔

اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیل کا بنیادی مقصد حزب اللہ کے عسکری ڈھانچے کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے اور اس حوالے سے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔

نیتن یاہو کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لبنان میں 10 روزہ جنگ بندی نافذ ہوئی ہے تاہم خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

اسرائیل کا لبنان کے تمام علاقوں پر قبضہ برقرار رکھنے کا اعلان

قبل ازیں اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی معاہدے کے باوجود وہ جنوبی لبنان میں قبضہ کیے گئے تمام علاقوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گا۔

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے جمعے کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اپنی کارروائیوں کے دوران حاصل کیے گئے تمام علاقوں پر بدستور موجود رہے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج نے لبنان کے اندر تقریباً 10 کلومیٹر تک ایک ”سیکیورٹی زون“ قائم کر لیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق جنگ بندی معاہدے میں اسرائیل کو جنوبی لبنان سے انخلا کا پابند نہیں بنایا گیا، جہاں اسرائیلی فوج نے دریائے لیتانی کے جنوب میں رہائشیوں کو نقل مکانی کا حکم دینے کے بعد متعدد دیہات اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کیا۔ یہ علاقہ لبنان کے تقریباً 8 فیصد رقبے پر مشتمل ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج لبنان کے دیہات میں گھروں کو مسمار کرتی رہے گی، جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ انہیں حزب اللہ استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج ان تمام علاقوں پر کنٹرول برقرار رکھے گی جنہیں کلیئر اور فتح کیا جا چکا ہے۔

اسرائیل کاٹز نے کہا کہ جنگ بندی کے بعد حزب اللہ کو دریائے لیتانی کے جنوب میں غیر مسلح کیا جانا چاہیے، چاہے یہ عمل سیاسی طریقے سے ہو یا پھر دوبارہ فوجی کارروائی کے ذریعے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب دونوں ممالک کے درمیان حالیہ دنوں میں شدید کشیدگی اور فوجی جھڑپیں دیکھنے میں آئیں۔

لبنان میں جنگ بندی کے اعلان کے باوجود خلاف ورزیاں جاری

دوسری طرف لبنان کی فوج نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے 10 روزہ جنگ بندی کے نفاذ کے فوراً بعد ہی اس کی خلاف ورزی کی، جس کے باعث جنوبی لبنان کے متعدد علاقوں میں کشیدگی برقرار ہے۔

لبنانی فوج کا کہنا ہے کہ جمعہ کی رات مقامی وقت کے مطابق آدھی رات سے جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد اسرائیل کی جانب سے متعدد خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں۔

فوج نے اسرائیل پر ’کئی جارحانہ اقدامات‘ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی لبنان کے مختلف دیہات پر وقفے وقفے سے گولہ باری کی گئی، جس سے وہاں کے حالات متاثر ہوئے۔

لبنانی فوج نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ موجودہ صورت حال کے پیش نظر جنوبی علاقوں کے دیہات اور قصبوں میں واپسی مؤخر کر دیں۔

دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اس معاملے پر مؤقف جاننے کے لیے اسرائیلی فوج سے رابطہ کیا ہے، تاہم فوری طور پر کوئی جواب سامنے نہیں آیا۔

Similar Posts