ایران کی قیادت کے لیے 3 نام زیر غور ہیں، ٹرمپ

0 minutes, 0 seconds Read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی قیادت کے لیے ان کے پاس تین ناموں کی مختصر فہرست موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں چار سے پانچ ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہیں، جبکہ سپریم لیڈر کی ہلاکت کے بعد ایران سے مذاکرات اب پہلے سے زیادہ آسان ہو گئے ہیں۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے پاس ایران کی قیادت کے لیے’تین بہت اچھے انتخاب” موجود ہیں، تاہم انہوں نے نام ظاہر کرنے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ “ابھی نام ظاہر نہیں کروں گا، پہلے کام مکمل کر لیں۔‘

ٹرمپ نے کہا کہ ایران کیخلاف کارروائیاں4 سے 5 ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہیں، اسی شدت کے ساتھ ایران پر حملے جاری رکھ سکتے ہیں یہ مشکل نہیں ہوگا،

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس ہتھیاروں کی بڑی تعداد ہیں، ہمارے ہتھیاردنیا بھرمیں مختلف ملکوں میں ذخیرہ کیےگئےہیں۔

ایک اور انٹرویو میں امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ’بالکل جانتے ہیں‘ کہ اس وقت ایران میں فیصلے کون کر رہا ہے، لیکن اس کا نام نہیں بتا سکتے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ کسی خاص شخصیت کو ایران کی قیادت میں دیکھنا چاہتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ ’ہاں، کچھ اچھے امیدوار موجود ہیں۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ سپریم لیڈر کی جگہ کون لے گا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ “کسی وقت وہ خود مجھ سے پوچھیں گے کہ میں کس کو دیکھنا چاہتا ہوں”، بعد ازاں انہوں نے وضاحت کی کہ وہ یہ بات قدرے طنزیہ انداز میں کہہ رہے تھے۔

ایرانی سپریم لیڈر آئت اللہ علی خامنہ ای، جو 1989 سے ایران کی قیادت کر رہے تھے، ہفتے کے روز امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہو گئے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے ان کی ہلاکت کی تصدیق کی۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ تہران میں خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کو تباہ کر دیا گیا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق حملوں میں خامنہ ای کی بیٹی، نواسی، داماد اور بہو بھی مارے گئے۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ خامنہ ای کے قریبی مشیر علی شمخانی اور پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ جنرل محمد پاکپور بھی حملوں میں ہلاک ہوئے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق تقریباً 200 لڑاکا طیاروں نے ایران بھر میں 500 اہداف کو نشانہ بنایا، جسے اسرائیل کی تاریخ کا سب سے بڑا فضائی مشن قرار دیا گیا۔

ایران نے ان حملوں کو بلااشتعال اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسرائیل اور کم از کم سات دیگر ممالک پر میزائل داغنے کا اعلان کیا، جن میں وہ خلیجی ریاستیں بھی شامل ہیں جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر علی خامنہ ای کو ’تاریخ کے بدترین افراد میں سے ایک‘ قرار دیا۔

انہوں نے لکھا کہ یہ صرف ایرانی عوام ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں ان افراد کے لیے بھی انصاف ہے جو خامنہ ای اور ان کے ساتھیوں کے اقدامات سے متاثر ہوئے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ ایرانی عوام کے لیے اپنے ملک کو’واپس لینے‘ کا سب سے بڑا موقع ہے۔ ان کے مطابق’بھاری اور انتہائی درست بمباری‘ پورے ہفتے بلا تعطل جاری رہے گی یا جب تک مشرق وسطیٰ اور دنیا میں امن کے مقصد حاصل نہیں ہو جاتے۔

انہوں نے بتایا کہ اس فوجی مہم کو امریکا نے’آپریشن ایپک فیوری‘ کا نام دیا ہے، جس کا مقصد ایرانی حکومت کی جانب سے لاحق خطرات کا خاتمہ ہے۔

Similar Posts