امریکی وزیرِ دفاع کا ایران میں فوج اتارنے کا عندیہ: ’امریکا کو مزید اموات کے لیے تیار رہنا چاہئے‘

0 minutes, 0 seconds Read

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ امریکا نے 28 فروری کو رات 9 بج کر 45 منٹ پر ایران پر حملہ کیا۔ اس کارروائی میں اسرائیلی فوج کے ساتھ مل کر آپریشن کیا گیا اور مختلف عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ملٹری اہداف مکمل طور پر حاصل کرنے میں وقت لگے گا اور یہ کوئی آسان مرحلہ نہیں ہے، اس لیے مزید اموات کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔

واشنگٹن میں نیوز کانفرنس کے دوران وزیر دفاع نے کہا کہ اس آپریشن میں امریکی فوج کی تمام شاخوں نے حصہ لیا، جن میں آرمی، نیوی، مرین کور، ائیرفورس، اسپیس فورس، کوسٹ گارڈز اور ریزرو کمپوننٹس شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حملے کا مقصد ایران کی حملہ کرنے کی صلاحیت کو ختم کرنا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں سمندر اور زمین سے تقریباً 100 طیاروں نے کارروائی کی۔

امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ اس وقت ایران میں امریکی فوج کو نہیں اتارا گیا ہے، تاہم انہوں نے مستقبل میں کسی بھی ممکنہ قدم کو مسترد کرنے سے انکار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے جہاں تک جانا پڑا جائے گا، لیکن غیر دانشمندانہ اقدام نہیں کیا جائے گا۔

وزیر دفاع نے کہا کہ امریکا اپنے ممکنہ فوجی اقدامات کو عوامی طور پر بیان نہیں کرے گا کیونکہ اس سے مخالف کو پیشگی اطلاع مل سکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ دانشمندی نہیں ہوگی کہ امریکا اپنے منصوبے کھلے عام ظاہر کرے۔

اسی پریس کانفرنس میں امریکی جنرل ڈین کین نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے ایران کے اوپر فضائی برتری حاصل کر لی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں مقامی سطح پر فضائی برتری قائم کی گئی ہے جو نہ صرف امریکی افواج کے تحفظ کو یقینی بنائے گی بلکہ ایران کے اندر جاری کارروائیوں کو بھی ممکن بنائے گی۔

جنرل کین نے مزید کہا کہ فضائی برتری سے امریکی افواج کو آپریشن جاری رکھنے میں مدد ملے گی۔ تاہم انہوں نے اس بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ یہ برتری کس حد تک ہے اور آئندہ کے اقدامات کیا ہوں گے۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایک ہزار اہداف پر حملے کیے گئے جبکہ اب تک آپریشن کو 57 گھنٹے ہو چکے ہیں۔

حکام کے مطابق ایران کے کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام، بنیادی ڈھانچے، بیلسٹک میزائل سائٹس اور انٹیلی جنس انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

دوسری جانب پینٹاگون نے اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی قیادت نے بم اور میزائل بنانے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگر ایران کا جوہری پروگرام پرامن ہوتا تو اسے زیر زمین تنصیبات بنانے کی ضرورت نہ ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کو بارہا معاہدے کی پیشکش کی گئی لیکن اس نے قبول نہیں کیا، اور خبردار کیا کہ اگر ایران نے دوبارہ اسی نوعیت کی سرگرمیاں شروع کیں تو مزید حملے کیے جائیں گے۔

پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امریکا ایران کی بحریہ اور اہم انفرااسٹرکچر کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایران کبھی بھی جوہری بم بنانے کے قابل نہ ہو۔

امریکی حکام نے کہا کہ اس جنگ کے اصول امریکا طے کرے گا اور اس کے آغاز سے لے کر اختتام تک فیصلے بھی وہی کرے گا۔ ان کے مطابق امن طاقت کے ذریعے قائم کیا جا سکتا ہے۔

Similar Posts