اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اعلان کیا ہے کہ اگر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد کوئی نیا رہنما مقرر کیا گیا تو اسرائیلی فوج اسے بھی نشانہ بنائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کی قیادت اگر اسرائیل کو نقصان پہنچانے، امریکا اور خطے کے دیگر ممالک کو دھمکانے اور ایرانی عوام کو دبانے کے منصوبے جاری رکھتی ہے تو ایسا ہر رہنما واضح ہدف ہوگا۔
واضح رہے کہ اسرائیلی میڈیا کی جانب سے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا سپریم لیڈر منتخب کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس دعوے کی تصدیق ایران کے سرکاری حکام نے ابھی نہیں کی ہے۔
اسرائیل کاٹز نے اپنے بیان میں کہا کہ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ اس رہنما کا نام کیا ہوگا یا وہ کہاں چھپا ہوگا، اسرائیل اسے ختم کرنے کی کوشش کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل امریکا کے ساتھ مل کر ایران کی صلاحیتوں کو تباہ کرنے کے اقدامات جاری رکھے گا اور ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کرے گا جن سے ایرانی عوام اپنی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔
دوسری جانب مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ سے رپورٹنگ کرنے والی عرب خبر رساں ادارے ’الجزیرہ‘ کی صحافی ندا ابراہیم کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے اس قسم کے بیانات کوئی نئی بات نہیں ہیں۔
ان کے مطابق اسرائیلی حکام کافی عرصے سے یہ دعویٰ کرتے آ رہے ہیں کہ وہ ایرانی سپریم لیڈر تک کہیں بھی پہنچ سکتے ہیں، اور اب وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کے بعد آنے والے کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی تجزیہ کاروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وہ خامنہ ای کو ہدف بنانے کو ایک بڑی آپریشنل کامیابی کے طور پر پیش کر رہے ہیں، ساتھ ہی اسے انٹیلی جنس کی کامیابی بھی قرار دیا جا رہا ہے جس کی بنیاد پر ایسا کوئی حملہ ممکن ہو سکتا ہے۔
ندا ابراہیم کے مطابق، اسرائیل کے اندر اس وقت فخر اور اعتماد کی فضا دیکھی جا رہی ہے کہ وہ مستقبل میں بھی ایرانی قیادت پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے بھی غزہ میں حماس کی قیادت اور لبنان میں مختلف گروہوں کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں اسرائیلی حکمت عملی کا حصہ رہی ہیں۔
ان کے مطابق قیادت کو ہدف بنانے کی دھمکیاں دینا اور بعض اوقات ان پر عمل کرنا اسرائیل کی پالیسی کا ایک پہلو سمجھا جاتا ہے۔
ایران کی جانب سے اس بیان پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کے تناظر میں ان بیانات کو صورتحال کو مزید سنگین بنانے والا قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات سے خطے میں عدم استحکام بڑھ سکتا ہے اور سفارتی کوششوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔