اس سے قبل جب جنرل ضیا الحق نے 1977 میں جب مارشل لا لگایا تھا اس وقت بھی ملک میں کوئی بلدیاتی نظام نہیں تھا اور جب 1969 میں جنرل یحییٰ نے اقتدار سنبھالا تو جنرل ایوب کا بی ڈی سسٹم جسے بیسک ڈیموکریسی کا بلدیاتی نظام کہا جاتا تھا، وہ بھی ختم کیا جاچکا تھا۔ جنرل ایوب کے بعد جنرل یحییٰ اور وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی ملک کو کوئی بلدیاتی نظام دیا تھا نہ ہی بلدیاتی انتخابات کرائے تھے جو دنیا میں جمہوریت کی نرسری سمجھے جاتے تھے۔
طویل اقتدار میں رہنے والے جنرل ایوب خان، جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف جنھیں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے والی سیاسی حکومتیں آمر قرار دیتی ہیں، نے ملک کو تین بلدیاتی نظام دیے تھے اور جنرل ایوب نے دو بار، جنرل ضیا الحق نے تین بار اور جنرل پرویز مشرف نے دو بار ملک میں بلدیاتی انتخابات کرائے تھے۔ سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ آمروں کے اقتدار میں ارکان اسمبلی نہیں ہوتے، اس لیے بلدیاتی الیکشن کرانا ان کی ضرورت ہوتا ہے تاکہ غیر سول حکومتیں ارکان اسمبلی کی غیر موجودگی میں عوام سے رابطے میں رہیں کیونکہ بلدیاتی ادارے بھی عوام کے ووٹوں کے ذریعے ہی وجود میں آتے ہیں۔ ارکان اسمبلی کا انتخاب عوام ہی کرتے ہیں مگر ان کی تعداد کم اور بلدیاتی نمایندوں کی تعداد بہت ہی زیادہ ہوتی ہے۔
جنرل ایوب، جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز کے ملک کو دیے گئے بلدیاتی نظاموں میں بی ڈی ممبر،کونسلر اور چیئرمین اور ناظمین ہوتے تھے۔ بی ڈی ممبر اور کونسلر اپنی یوسی ٹاؤن، میونسپل کمیٹی، میونسپل کارپوریشن اور ضلع کونسل کے سربراہوں کا انتخاب کیا کرتے تھے جب کہ جنرل پرویز نے 2001 میں ملک کو ضلعی حکومتوں کا جو بااختیار نظام دیا تھا وہ بی ڈی سسٹم اور 1979 کے بلدیاتی نظام کے مقابلے میں منفرد نہایت بااختیار، بیورو کریسی کی ماتحتی سے پاک مضبوط مقامی حکومتوں کا نظام تھا جس میں کمشنری نظام ہی ختم کر دیا گیا تھا اور صوبائی سیکریٹریوں، کمشنر، ڈپٹی اور اسسٹنٹ کمشنروں کے عہدے ہی ختم کرکے منتخب ضلعی و سٹی ناظمین کے ماتحت ڈی سی او، ڈی اوز کر دیے گئے تھے جو ضلعی ناظمین کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرتے تو بااختیار ناظمین ان کا تبادلہ کرا دیتے تھے کیونکہ یہ بیورو کریٹس عوام کے منتخب نمایندوں کی بات ماننے کے نہیں بلکہ اپنی چلانے کے عادی رہے تھے مگر ضلعی نظام میں ان کی اہمیت نہیں رہی تھی۔
ضلعی حکومتوں میں ارکان اسمبلی کی بھی اہمیت ختم ہو گئی تھی نہ انھیں مداخلت کا اختیار تھا اور انھیں ترقیاتی کاموں کے نام پر جو سالانہ فنڈز ملتے تھے وہ بھی بند ہو گئے تھے اور عوام نے بھی اپنے علاقائی مسائل کے حل کے لیے ارکان اسمبلی کے پاس جانا ہی چھوڑ دیا تھا جس پر بیورو کریسی اور ارکان اسمبلی سخت پریشان تھے ان کی کمائی بھی بند ہو گئی تھی۔ صوبوں میں بلدیاتی وزیر تو تھے مگر ان کی پہلے جیسی اہمیت رہی تھی نہ وہ ناظمین پر حکم چلا سکتے تھے۔ وفاقی وزیر بلدیات اور ان کا محکمہ بھی غیر موثر ہو چکا تھا اور ضلعی حکومتیں صوبائی حکومتوں کے کنٹرول میں نہیں بلکہ وفاقی ادارے قومی تعمیر نو، بیورو کے ماتحت رہ کر خود مختیاری سے بہترین کام کر رہی تھیں جس سے 2002 میں قائم ہونے والی صوبائی حکومتیں بھی پریشان اور بلدیاتی معاملات میں بے اختیار تھیں جس کے بعد صوبائی حکومتوں، ارکان اسمبلی اور بیورو کریسی نے مل کر جنرل پرویز کے ذریعے ضلعی حکومتوں کے اختیارات کچھ کم کرائے تھے مگر ضلعی نظام ختم نہیں کرا سکے تھے کیونکہ جنرل پرویز نے ضلعی نظام کو 2008ء تک آئینی تحفظ دلا دیا تھا۔ جنرل پرویز نے وردی اتار کر 2008 میں صدر مملکت کے طور پر 2008 میں جماعتی انتخابات کرائے جو پانچ سالہ مدت پوری ہونے پر 2007 میں ہونے تھے مگر بے نظیر بھٹو کی شہادت کے باعث نہیں ہو سکے تھے۔
1973 کے متفقہ آئین میں مقامی حکومتوں کے لیے آئین میں آرٹیکل 140-A، آرٹیکل 32، آرٹیکل 07 اور آرٹیکل 226 رکھے گئے تھے مگر ان پر کبھی عمل نہیں کیا گیا بلکہ صوبائی حکومتوں نے عمل ہونے نہیں دیا۔ اٹھارہویں ترمیم میں (ن) لیگ اور پی پی نے اپنے وسیع تر مفاد کے لیے جب صوبوں کو بااختیار بنایا اور وفاق سے بلدیاتی نظام صوبوں کے مکمل کنٹرول میں آیا تو صوبائی حکومتوں اور ارکان اسمبلی نے اطمینان کا سانس لیا اور صوبائی حکومتیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے سے منحرف ہو گئیں جو آئین کی سراسر خلاف ورزی تھی آئین کا تحفظ کرنے والوں نے اس آئینی خلاف ورزی پر آنکھیں مکمل بند کر رکھی ہیں۔
صوبائی حکومتیں مقامی حکومتوں پر قابض ہیں سب کے اپنے اپنے کمزور بلدیاتی نظام تو ہیں مگر آئین کے تحت بااختیار نہیں۔ وزرائے اعلیٰ بادشاہ بن کر من مانیاں کر رہے ہیں اور بلدیاتی اداروں کو فنڈ دے رہے ہیں نہ اختیار بلکہ مقامی حکومت کا کہیں وجود نہیں۔ وفاق اور صوبے اپنے اپنے ارکان کو غیر آئینی طور پر ترقیاتی نام پر فنڈز دے رہے ہیں۔ پنجاب اور اسلام آباد میں تو بلدیاتی ادارے ہی موجود نہیں۔ سندھ و کے پی اور بلوچستان کے کمزور بلدیاتی ادارے بیورو کریسی کے ماتحت ہیں۔ وفاقی و صوبائی حکومتیں بلدیاتی اداروں کے فنڈز پر قابض اور صرف اپنے ارکان اسمبلی کو خوش کر رہی ہیں اور منتخب بلدیاتی اداروں کو عدلیہ سے بھی ریلیف نہیں مل رہا۔