امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے شہر میناب میں ایک پرایمری اسکول پر ہونے والا حملہ ممکنہ طور پر امریکی فوج کی کارروائی کا نتیجہ تھا۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی ایران کے شہر میناب میں ایک ابتدائی اسکول پر ہونے والا حملہ ممکنہ طور پر امریکی فوج کی کارروائی کا نتیجہ تھا۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق مختلف شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسکول کی عمارت کو ایک درست نشانے والے فضائی حملے میں شدید نقصان پہنچا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ حملہ اسی وقت ہوا جب اسکول کے قریب واقع ایک بحری اڈے کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا جو ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے زیر انتظام بتایا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس نتیجے تک پہنچنے کے لیے نئی سیٹلائٹ تصاویر، سوشل میڈیا پر موجود مواد اور تصدیق شدہ ویڈیوز کا جائزہ لیا گیا۔ ان شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ ایک درست ہدف والے ہتھیار کے ذریعے کیا گیا جس نے اسکول کی عمارت کو بری طرح متاثر کیا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی حکام کے بیانات بھی اس امکان کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کے قریب بحری اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے امریکی افواج کارروائیاں کر رہی تھیں۔ اسی علاقے میں پاسدارانِ انقلاب کا بحری اڈہ واقع ہے جس کے قریب اسکول پر حملہ ہوا۔
اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس نے اخبار کو اپنے ترجمان کی حالیہ پریس کانفرنس کا حوالہ دیا۔ پریس سیکریٹری کیرولائن لیویٹ سے جب پوچھا گیا کہ کیا امریکا نے اسکول پر فضائی حملہ کیا تھا تو انہوں نے جواب دیا کہ ان کے علم میں ایسا نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات محکمہ جنگ کر رہا ہے۔
امریکی حکام نے کئی دنوں تک اس حملے کی ذمہ داری نہ تو قبول کی ہے اور نہ ہی انکار کیا۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگ سیٹھ نے بدھ کے روز کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
امریکی حکام کی پبلک بیان بازی سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حملے کے دن امریکی طیارے اس علاقے میں کارروائی کر رہے تھے جہاں اسکول واقع تھا۔
وائٹ ہاؤس نے نیویارک ٹائمز کو پریس سیکریٹری کیرولائن لیویٹ کے بیانات کا حوالہ دیا، جنہوں نے کہا کہ “ہمیں اس حملے کی معلومات نہیں ہیں” اور تحقیقات محکمہ جنگ کے زیرِ عمل ہیں۔
واقعے کی درست تفصیلات جاننے میں مشکلات درپیش ہیں کیونکہ جائے وقوعہ سے ہتھیاروں کے واضح ٹکڑے نہیں مل سکے اور غیر ملکی صحافیوں کو علاقے تک رسائی نہیں ملی۔
ایرانی وزارت صحت اور سرکاری میڈیا کے مطابق شجرہ طیبہ اسکول پر حملے میں کم از کم 175 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر بچے اور اسکول کے عملے کے افراد شامل ہیں۔
اس واقعے کے بعد انسانی جانوں کے ضیاع پر خطے اور عالمی سطح پر شدید تشویش پائی جاتی ہے اور امریکی تحقیقات کے نتائج کے منتظر ہیں۔