شفاعت علی نے بڑھتی مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں کے اثرات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں حکومت کو دفاتر کے نظام پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔
سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں شفاعت علی کا کہنا تھا کہ اگر پٹرول کی قیمت 321 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے تو اس سے بہتر حل یہ ہے کہ حکومت دفاتر کو عارضی طور پر بند کرکے کورونا وبا کے دوران رائج کی جانے والی ’ورک فرام ہوم‘ پالیسی کو دوبارہ نافذ کردے تاکہ لوگوں کو روزانہ سفر کے اخراجات سے کچھ ریلیف مل سکے۔
321 روپے کا پیٹرول بیچنے سے بہت بہتر ہے کہ حکومت تمام دفاتر بند کر کے کرونا کی طرح ورک فرام ہوم پہ عملداری نافذ کروائے۔
ایک آدمی جس کی چالیس ہزار تنخواہ ہو وہ اپنا گردہ بیچ کر بھی سکول اور دفتر تک موٹر سائکل کا پیٹرول پورا نہیں کر سکتا۔
ایک لمحے میں پچپن روپے اضافہ ظلم ہے۔
— Shafaat Ali (@iamshafaatali) March 6, 2026
انہوں نے اپنے بیان میں عام آدمی کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کے اس دور میں کم آمدنی والے افراد کے لیے روزمرہ زندگی چلانا بھی مشکل ہوتا جارہا ہے۔
ان کے مطابق اگر کسی شخص کی ماہانہ تنخواہ تقریباً چالیس ہزار روپے ہو تو وہ موٹر سائیکل کے پٹرول پر آنے والے اخراجات بھی پورے کرنے سے قاصر رہتا ہے، چاہے وہ اپنی جمع پونجی ہی کیوں نہ خرچ کر دے۔
شفاعت علی نے پٹرول کی قیمت میں اچانک 55 روپے فی لیٹر اضافے کو انتہائی سخت قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے فیصلے عوام پر براہِ راست بوجھ ڈالتے ہیں۔ انہوں نے حکومتی معاشی پالیسیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حالات میں عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے عملی اقدامات کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔