عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے مزاحمت جاری رکھنے کا عزم کرتے ہوئے کہا ہے کہ دشمن ملک ایران کے سرنڈر کرنے کی خواہش اپنے ساتھ اپنی قبروں تک لے جائیں گے۔
یہ بات ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی ایک ہنگامی تقریر میں کہی۔ جس میں انھوں نے ہمسائیہ ممالک پر ناگزیر حملوں پر معافی مانگتے ہوئے کہ اب کسی پڑوسی ملک پر حملہ نہیں کریں گے۔
انھوں نے مزید کہا کہ جن ہمسائیہ ممالک پر ایران نے حملے کیے ہیں وہ بھی اپنے دفاع میں تھے اور نشانہ پڑوسی ممالک کی املاک نہیں بلکہ امریکی فوجی اڈّے اور تنصیبات تھیں۔ امید ہے ہمسائیہ ممالک ایران پر حملے نہیں ہونے دیں گے۔
مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ ایران خطے میں کشیدگی نہیں چاہتا، تاہم اگر اس کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو وہ اپنا دفاع کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ایران کے مخالفین یہ سمجھتے ہیں کہ دباؤ کے ذریعے اسے جھکایا جا سکتا ہے، لیکن ایسا ہرگز ممکن نہیں۔
یاد رہے کہ 28 فروری سے امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جس میں پہلے ہی روز آیت اللہ خامنہ ای سمیت وزیر دفاع، آرمی چیف، پاسداران انقلاب کے سربراہ اور مشیر قومی سلامتی کونسل شہید ہوچکے ہیں۔
جواب میں ایران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے جس میں 6 سے زائد امریکی فوجی ہلاک، متعدد زخمی اور بھاری مالی نقصان ہوا ہے تاہم ان حملوں پر پروسی ممالک نے ایران کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔