رمضان ہماری تربیت کا ایک نادر موقع

0 minutes, 0 seconds Read
ہمارے ہاں رمضان عبادت کے اعتبار سے جس طرح سے گزارا جاتا ہے اس میں تین بڑے نمایاں حصے نظر آتے ہیں۔ جس میں پہلا حصہ شروع میں 10 روزہ تراویح کا اہتمام، آخری حصے میں اعتکاف میں بیٹھ کے عبادت کرنا جب کہ پورے رمضان میں نماز تراویح میں شرکت کرنا شامل ہے۔ یوں دیکھا جائے تو عوام کی ایک بڑی تعداد اپنا رمضان اس طرح سے گزارتی ہے۔ یہ وہ موقع ہے کہ جہاں ہماری بہترین تربیت ہو سکتی ہے جس سے ہم ایک اچھے مسلمان اور ایک اچھے شہری بن سکتے ہیں۔

 عموماً پہلے حصے میں 10 روزہ تراویح میں ایک پورا قرآن پاک، نماز تراویح میں پڑھا جاتا ہے اور لوگوں کی ایک اچھی خاصی تعداد اس میں شرکت کرتی ہے۔ یہ تراویح عربی زبان میں ہوتی ہے، جو ظاہر ہے ہر ایک نہیں جانتا۔ یہ وہ موقع ہوتا ہے کہ جہاں تراویح کا اہتمام کرنے والے منتظمین یا علماء اپنے کردار اور بیان سے عوام کو معاشرے میں موجود ان کی چھوٹی بڑی غلطیوں کی طرف رہنمائی کر سکتے ہیں اور قرآن میں اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق سے کیا مطالبہ کر رہا ہے، یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرائی جا سکتی ہے۔

اسی طرح سے پورے رمضان کچھ اسلامی تنظیمیں باقاعدہ قرآن کے ترجمے، درس اور اس کے ساتھ تراویح کا اہتمام کرتی ہیں جس میں وہ لوگوں کی توجہ قرآن کے پیغام کی طرف مبذول کراتی ہیں، یوں پورے رمضان ایک قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیا پیغام دیا گیا ہے، لوگوں کو ان کی ہی زبان میں بیان کر دیا جاتا ہے بلکہ بعض جگہوں پہ تو اس کی تشریح کر کے پڑھنے والوں کو سمجھایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کیا حکم دیا اور ہم کس طرف جا رہے ہیں۔

اس سلسلے میں تنظیم اسلامی اور دیگر تنظیمیں مختلف مساجد میں ترجمہ قرآن لوگوں تک پہنچانے کی ایک اچھی کوشش کرتی ہیں جو قابل ستائش ہے۔ یقیناً اس قسم کی تراویح میں لوگوں کے ضمیروں کو بھی جھنجوڑا جاتا ہے کہ اسلام ان سے کس کردار کا تقاضا کرتا ہے اور وہ کیسی زندگی گزار رہے ہیں اور چونکہ قرآن میں ہر قسم کے موضوعات شامل ہیں لہذا آج جو مسائل ہمارے سامنے ہیں اس ضمن میں بھی لوگوں کی رہنمائی ہو جاتی ہے۔ یوں ناپ تول میں کمی کا معاملہ، کاروبار میں ایمانداری کامعاملہ، شوہر اور بیوی کے تعلقات کے معاملات وغیرہ جیسے موضوعات پر لوگوں کو اچھی آگہی فراہم کی جاتی ہے جس سے لوگوں کے کردار میں یقینا فرق بھی پڑتا ہے۔ یہ بات ہمارے سامنے ہے کہ آج کل طلاق کی شرح ہمارے معاشرے میں تیزی سے بڑھی ہے اور اس میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

اسی طریقے سے آخری عشرے میں تقریباً ہر مسجد میں ہی اعتکاف کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ مساجد میں اعتکاف کرنے والوں کو مختلف سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں اور ان کی تربیت کے حوالے سے پروگرام بھی تربیت دیے جاتے ہیں جو کہ ایک اچھا عمل ہے عموماً نوجوانوں کو زندگی گزارنے سے متعلق اسلامی طور طریقے بھی تفصیل سے بیان کیے جاتے ہیں جو کہ ایک اچھا سلسلہ ہے۔ اس طرح جو نوجوان اعتکاف میں بیٹھتے ہیں وہ مستقبل کے لیے ایک نیک اور اچھے انسان ثابت ہوتے ہیں۔

اس ضمن میں کوشش یہ ہونی چاہیے کہ لوگوں کو آسانیاں فراہم کی جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوان نسل بھی اعتکاف کے بیٹھنے کے عمل میں بڑھ چڑھ کے حصہ لے۔ بعض مساجد میں اعتکاف میں بیٹھنے کے لیے سخت شرائط رکھی جاتی ہیں، مثلاً شناختی کارڈ کا ہونا۔ اس عمل سے بہت سارے نوجوان مساجد میں اعتکاف کرنے سے رہ جاتے ہیں اور ظاہر ہے پھر ان کا ٹائم کہیں اورگزرتا ہے، اگر ہم اسلامی اصول کے مطابق صرف بالغ ہونے کی شرط رکھیں تو نئی نسل کی بڑی تعداد اعتکاف میں بیٹھ سکتی ہے۔ ایسے والدین یا لوگ جن کو یہ شکایت ہوتی ہے کہ ان کی اولاد کہنا نہیں مانتی، یا بگڑ رہی ہے، ان کے لیے رمضان میں یہ ایک اچھا موقع ہوتا ہے کہ اپنے بالغ بچوں کو مساجد میں اعتکاف کے لیے بھیجیں۔

بہرحال ہمارے ہاں رمضان میں یہ تمام اہتمام بہت اہمیت کے حامل ہیں اور اس سلسلے میں حصہ لینے والے لائق تحسین ہیں۔ اس موقع پہ ہم اپنے معاشرے کے چند اہم مسائل کے حوالے سے اسلامی تعلیمات لوگوں تک پہنچا کر اپنے معاشرے کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ ان اہم مسائل میں ایک مسئلہ صبر و تحمل اور ایمانداری کا ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں ہمیں نہ تو کوئی قابل اعتبار اور قابل بھروسہ مکینک ملتا ہے نہ کوئی مستری نہ ہی سرکاری دفتروں میں ایسے افراد جو ایمانداری سے اپنا فرض ادا کر رہے ہوں۔ رشوت لیے بغیرکوئی کام نہیں کرتا، اس بارے میں ہم قرآن کی مختلف تعلیمات کا حوالہ دے کر ذہن سازی کر سکتے ہیں۔

دوسری طرف رشتہ داری کے معاملے میں دیکھیں تو اسلام ہمیں صلہ رحمی اور ایک دوسرے کے ساتھ اچھے تعلق کا درس دیتا ہے جب کہ ہمارا حال یہ ہے کہ سگے بہن بھائی بھی آپس میں نہیں ملتے اور ایسے بھی ہیں جو عید کے موقع پر بھی ملنا نہیں چاہتے، ایک دوسرے کی جائیداد تک پر ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے، ترکہ کا حصہ ایک دوسرے کو دینا نہیں چاہتے، کوئی اپنے والدین سے ناراض ہے۔ یہ ہمارے اہم مسائل ہیں اگر ان پر دوران رمضان قرآنی آیات کے حوالے دے کر لوگوں کی توجہ مبذول کرائی جائے تو یقیناً اس کا کوئی اچھا نتیجہ نکل سکتا ہے۔ قرآن میں تو ناپ تول کی کمی پر بھی سخت ناراضگی کا اظہار کیا گیا ہے اور قوموں پر عذاب تک کا ذکر موجود ہے۔

اسی طرح اگر ہم سنت کی طرف آئیں تو ہمیں حضرت محمد ﷺ سے لے کر اہل بیت کے خاندان تک تمام لوگوں کا لائف اسٹائل جس طرح نظر آتا ہے، ہم اس سے بالکل مختلف زندگی گزار رہے ہیں۔ دکھاوا، شادیوں پر بے جا اخراجات یہ سب ہماری زندگی کا حصہ بن چکے ہیں جب کہ ہم اپنے اسلامی رول ماڈلزکو دیکھیں تو وہ انتہائی سادگی کے ساتھ زندگی گزارتے نظر آتے ہیں۔ مثلاً خلیفہ وقت کے پاس بعض اوقات پہننے کے لیے دو جوڑے بھی نہیں ہوتے تھے جب کہ ان کے کپڑوں میں پیوند لگے ہوتے تھے اور اگر کوئی ضرورت مند کچھ مانگنے آجائے تو اپنے حصہ سے ہی کچھ نکال کر دیتے تھے۔ اس وقت کے عام مسلمانوں کا طرز زندگی بھی انتہائی سادہ ہوتا تھا۔ مثلاً مسلم خواتین شادی کے موقع پر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان کی شادی کا جوڑا ایک رات کے لیے مانگ کر لے جاتی تھیں کہ ان کی بیٹی کا نکاح ہے۔

افسوس کا مقام ہے کہ آج ہم حج، عمرہ اور نماز وغیرہ کے حوالے سے تو بہت مذہبی لگتے ہیں مگر عملاً ہمارا طرز زندگی مذکورہ بالا بیان کردہ مسائل سے بھرا پڑا ہے۔ اس کا ایک بہترین علاج یہی ہے کہ دوران رمضان اس قسم کے اجتماعات میں لوگوں کے ضمیروں کو جھنجوڑا جائے کہ اسلام ان سے کس کردار کا تقاضا کرتا ہے اور وہ کیسی زندگی گزار رہے ہیں، نیز ہمیں بطور مسلم بھی قرآن کو سمجھ کر ترجمہ سے پڑھنا چاہیے کہ جس ذات نے ہمیں زندگی گزارنے کا پیغام بھیجا ہے وہ پیغام دراصل ہے کیا؟ اللہ تعالیٰ ہم سے آخر چاہتا کیا ہے؟ آئیے!ٰ اس پر غور کریں۔

Similar Posts